مظفرآباد:سوسل سوسائٹی نے جامعہ کشمیر میں قائم ادارہ مطالعہ کشمیریات کی منتقلی کی خبروں پر ردعمل دے دیا

63

جامعہ کشمیر میں قائم ادارہ مطالعہ کشمیریات 1986 سے کشمیر کے حوالے سے نوجوانوں طلبہ و طلبات کو تعیلم کے زیور سے آراستہ کررہا ہے اور مقامی سطح پر زیادہ تر طلبہ و طلبا ت جو کہ ملازم طبقہ ہے اس سے تعیلم حاصل کر رہے ہیں اور یہ چہلہ کیمپس میں قائم ہے.اس حوالے سے سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ شنید میں آیا ہے کہ وائس چانسلر اس ادارے کو چھتر کلاس شفٹ کرنا چاہتے ہیں جو کہ کشمیریات کے ادارے کو ختم کرنے کے مترادف ہے.

کیوں کہ اس ادارے میں زیادہ تر تعداد مقامی اور ملازم طلبہ و طلبات کی ہے اگر یہ ادارہ شہر سے باہر شفٹ ہوگا تو کشمیرکے بارے میں سے شوق رکھنے والے زیادہ تر طلبہ و طلبا ت اس ادارے میں داخلہ لینے سے محروم ہو جائیں گے اور یہ ادارہ بند ہو جائےگا .وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریات کے مضمون کو سکول اور کالج کی سطح تک بھی پہچایا جائےتاکہ آنے والی نسلوں کو کشمیر کی تاریخ کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جائیں .

سول سوسائٹی کے نمائندگان کا مزید کہنا تھا کہ اس ادارے کو بچانے کے لیے تمام طبقات یک موثر آواز اٹھایں اور کشمیریات کے اس ادارے کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ مزید براں انھوں نے صدرآزاد کشمیر سے اپیل ہے کہ وہ اس ادارے کی اہمیت کو سمجھتے ہوے اسکی بقاء اور فروغ میں آزاد کشمیر یونی ورسٹی انتظامیہ کو ادارہ شفٹ کرنے سے باز رکھنے کے احکامات دیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں