مظفرآباد:پلانٹ آپریٹر رل گئے،عدالت بھی بے بس

168

مظفرآباد ( سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز ) بلدیاتی نمائندگان کی جانب سے سپریم کورٹ آزادکشمیر میں دائر پٹیشن پر حکم امتناعی ہونے کے باعث پلانٹ آپریٹرز کو عید الفطر پر بھی گزشتہ تین مہینوں کی تنخوائیں نہ مل سکیں، ۱۳۰ پلانٹ آپریٹرز شدید مالی مشکلات کا شکار۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ۲۰۲۵-۲۶ پر سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کے باعث عیدالفطر پر دس اضلاع میں تعینات پلانٹ آپریٹرز کو تنخواہوں کی ادائیگی عمل میں نہ لائی جا سکی، پلانٹ آپریٹرز کو سہہ ماہی بنیادوں پر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے خلاف متعلقہ مد سے تنخوا دی جاتی ہے جسکی ادائیگی نہ ہونے کےباعث ۱۳۰ پلانٹ آپریٹرز کے گھروں کے چولہے بجنے لگے اور شدید مالی مشکلات کے باعث بے بسی کی تصویر بن گئے۔

بلدیاتی نمائندگان اور ممبران اسمبلی کے درمیان جاری قانونی جنگ کا شکار پلانٹ آپریٹرز سمیت کئی دیگر اہم ترقیاتی منصوبہ جات بھی ہونے لگے۔ عملا پورے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر حکم امتناعی کے بجائے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ممبران اسمبلی اور بلدیاتی نمائینگان کے لیے مختص فنڈزاور مدات پر حکم امتناعی ہونا چاہیے تھا، جبکہ پورے اے ڈی پی پر حکم امتناع کی وجہ سے محکمہ کا ۵ ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام جس میں ۱۴ مدات ہیں ، سب پر عملا کام رک چکا ہے۔

دارلحکومت مظفرآباد میں جاری۳۶کروڑ مالیت کے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے منصوبہ جسکی آدھی فنڈنگ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے کی جارہی ہے،سمیت چائنہ کے تعاون سے لگنے والے۱۵۰ واٹر فلٹریشن پلانٹس اور دریاوں اور نالوں پر عوام الناس کی سہولت کے لیے تعمیر کیے جانے والے پل ھا کے منصوبہ جات پر کام شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں