اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، خبر نگار)جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان کی زیر صدارت مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سابق صدر شیخ فضل کریم مرکزی سیکرٹری اطلاعات خواجہ سجاد احمد ایڈووکیٹ ، مرکزی کوارڈینیٹر سیاسی امور سردار رحیم اشرف نے شرکت کی۔
اجلاس میں جموں کشمیر میں جاری ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی اور ظلم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں نیشنل نیوز چینل پر پاکستان کے سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے آزاد ریاست جموں و کشمیر حکومت و سیاسی قیادت اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے معاہدہ کراچی کے حوالے سے تجزیئے کو خلاف حقائق من گھڑت اور خودساختہ قرار دے کر مسترد کیا گیا اور معاہدہ کراچی ریاست جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کے ساتھ حکومت پاکستان کے درمیان حکومتی امور چلانے کے حوالے سے رولز آف بزنس ہیں جو اس وقت نافد العمل ہیں آزاد کشمیر حکومت کے جملہ امور معاہدہ کراچی کے تحت ہی چل رہے ہیں ۔
صحافی کی جانب سے یہ کہنا معاہدہ کراچی پر سردار ابراہیم خان کے دستخط جعلی طور پر ثبت ہیں مضحکہ خیز ہیں ۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی قیادت اور جماعت معاہدہ کراچی کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے ہر سال 28 اپریل کو اس دن کو مناتی ہے۔ معاہدہ کراچی جس کے تحت گلگت بلتستان کے غیر مشروط یکطرفہ الحاق کے بعد ریاست کے حصہ کے طور پر تسلیم کروایا گیا اور حکومتی امور چلانے کے لئے رولز آف بزنس طے پائے اس معاہدے کو متنازعہ بنانے والے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک لے جانا چاہتے ہیں وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔
اجلاس میں صحافی کو بذریعہ مکتوب حقائق سے آگاہی فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا اور اصل معاہدہ کی کاپی فراہم کی جائے گی ۔ اجلاس میں تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی تمام سازشوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں حکومت آزاد کشمیر پر زور دیا گیا عوامی مفاد میں بے جا ٹیکس کو واپس لیا جائے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حکومت فوری اور مثبت اقدامات اٹھائے ۔ اجلاس میں جماعتی اداروں کو فعال بنانے کے لئے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ۔