من و انسا نیت کا داعی شاہین خالد بٹ

146

ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم
انسانیت کی خدمت ایسا پاکیزہ جذبہ اور کمال وصف ہے کہ اس کی عظمت اور ثواب دین و دنیا کو اوج کمال تک پہنچا دیتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں ایسے صاحب عظمت لوگوں کے ساتھ اللہ کریم نے کام کرنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا خاصا موقع دیا۔ جسے میں بڑی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ایسی شخصیات کسی معاشرہ میں انمول گوہر کی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں جو اپنی نہیں بلکہ دوسرے کے بھلے کی فکر کرتی ہیں اور کسی کو گزند پہنچانے سے گریزاں رہتی ہیں۔ 1989 میں جب میں امریکہ گیا تو چند دنوں ہی میں ایسی انمول شخصیت سے ملاقات ہوئی جو واقعتاُ اقبال کی خودی اور شاہین کا پرتو اور نام بھی شاہین تھا جس میں پلٹنے اور جھپٹنے کی ہمت و توصیف اور بلاامتیاز آوروں کے کام کرنے کا جذبہ اور وسائل بھی اللہ نے ودیعت کئے ہوئے تھے۔

اس وقت امریکہ میں چند ہی ایسے پاکستانی ہوں گے جو پوری کمیونٹی میں اپنا مقام رکھتے تھے اور وہ مشکل میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے درد کا درمان بنے۔ جن کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی مشکلات حل ہوئیں ان میں سر فہرست نام کیپٹن شاہین خالد بٹ کا ہے جو کاروباری مرکز مین ہیٹن میں خدمت انسانیت کے لئے خود کو وقف کئے ہوئے تھے۔ اور ہر پاکستانی اور کشمیری ان کو اپنا مسیحا اور مداوا سمجھتا ان کا کشمیر ریسٹورنٹ پورے امریکہ میں شہرت رکھتا ہے اس وقت بہت کم دیسی اور حلال کھانے دستیاب تھے۔کشمیر النسل شاہین بٹ کا تعلق لاہور کے کاروباری خاندان سے ہے وہ اپنی خدمات کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں جن کا دل، ظرف اور دسترخوان بادشاہوں جیسا دیکھا ہے.

کشمیر ۳۱۳ کے نام سے تنظیم بھی قاہم کی جس کے پلیٹ فارم سے مسلہ کشمیر کے حوالے سے موثر سرگرمیاں رہتیں اور پاکستان و کشمیر سے امریکہ جانے والی نامور سیاسی، سماجی دینی اور علمی شخصیات کی فراخدلی سے میزبانی ہوتی۔ شاہین خالد بٹ سے چند ملاقاتوں ہی میں بڑی دوستی اور نہ ختم ہونے والا تعلق و رشتہ قاہم ہو گیا جو اب تک قاہم و دائم ہے۔ میں نے تین سال کے دوران ان سے بہت کچھ سیکھا اور ان کے اوصاف اور ساتھ گزرے وقت کو بڑا اثاثہ سمجھتا ہوں ہم نے کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی، سید غلام احمد شاہ، سکھ کمیونٹی اور دیگر سرکردہ افراد اور تنظیموں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی بلند بالا عمارت کے سامنے دنیا کو کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔

اقوام متحدہ میں درجنوں مندوبین کو مل کر اس حساس تنازعہ کے حل کی طرف توجہ دلائی اور ان سے استدعا کی کہ وہ اپنے ممالک کو کشمیر کی اس ناگفتہ حالت سے بھی آگاہ کریں۔ یہی نہیں بلکہ مخلتف ممالک کی امریکہ میں تنظیموں اور امریکی رائے عامہ و اراکین پارلیمنٹ و سینٹ سے مل کر اپنا موقف بتایا۔ آزاد کشمیر حکومت نے مجھے کشمیر سنٹر نیویارک میں قاہم کرنے کی اجازت دی تھی یہ سارے مظاہرے اور پروگرام اسی پلیٹ فارم ہی سے ہوئے لیکن شاہین خالد بٹ کی سرپرستی، رہنمائی اور عملی تعاون کے بغیر یہ سب کام ناممکن تھے۔معروف بھارت نواز سینیٹر سٹیفن سولارز کو نیویارک سے الیکشن ہرانا مشکل تھا لیکن اس مشن کو بھی ہم نے شاہین بھائی کی سرپرستی میں کر کے دکھایا۔

کشمیر سنٹر نیویارک کے سربراہ شاہین خالد بٹ نے اپنے تعلقات کی وجہ سے ملک کے لئے بھرپور لابنگ کر کے بڑے اہم کام انجام دئیے جو کروڑوں ڈالرز سے بھی ممکن نہیں تھے شاہین بھائی سے قربت کی اہم وجہ یہی تھی کہ وہ میری طرح ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور پاکستانی ہیں اور اسلام و پاکستان اور افواج پاکستان ان کی رگ و پہ میں رچے بسے ہوئے ہیں پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔شاہین خالد بٹ کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا بھرپور اعتماد حاصل ہے میاں صاحب کی خواہش پر انہیں وائس چیئرمین اوورسیز پاکستانی کمیشن کا منصب دیا گیا انہوں نے بیرون ملک پاکستانوں کے الجھے پچیدہ اور دیرینہ مسائل کے حل کے لئے رات دن کام کیا انہیں سینٹ کے لئے بھی منتخب کیا گیا چھ سال سینٹ کے رکن رہے.

او پی ایف ہاوسنگ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے انہیں حال ہی میں پاکستان بیت المال کا منیجنگ ڈاہریکٹر مقرر کیا ہے جو ایک اہم منصب ہے جس کا تعلق مجبور انسانیت کی خدمت اور ان کے علاج معالجہ میں حکومتی سہولت و امداد سے ہے اس نیک کام سے حکومت کی نیک نامی اور بدنامی بھی ہو سکتی ہے لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ شاہین خالد بٹ اس کام کے لئے موزوں ترین شخصیت چنے گئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس نیکی کے کام کو بلاامتیاز اپنی صلاحیت، تجربے اور اعتقاد سے بھرپور طریقے سے سرانجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاہین بھائی خود ایک تحریک اور انجمن ہیں انہیں اللہ کریم نے بڑی صلاحیتوں، احساس، ہمدردی، برداشت اور رواداری سے نوازا ہوا ہے وہ امن اور انسانیت کے ایسے عظیم داعی اور علمبردار ہیں کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے لئے ہر قدم اٹھانے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں