تحریر:جمیلہ خان
سابق وزیر پاکستان میاں محمد نواز شریف پاکستان آرہے ہیں ۔لوگوں میں وہ دلوں کے حکمران کے لقب سے مشہور ہیں ۔دوسرے ایٹمی دھماکوں،میٹرو،موٹروے اور پاکستان میں ترقی کاکریڈٹ بھی کارکنان نواز شریف کو دیتے ہیں۔اب نواز شریف جب وطن واپس آرہے ہیں۔تو پاکستان کی سیاست کا رخ بھی تبدیل ہوگااور مستقبل کی سیاست میں ان کا کردار بہت اہم ہوگا۔
نوازشریف کے استقبال کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔اور کارکنان بھی جوش اور جذبہ بھی عروج پر ہے۔نواز شریف کے حوالے سے بہت سے واقعات لوگ بیان کرتے ہیں۔ایک واقعہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے۔
وہ محترمہ بینظیر کے احتجاج کو اسلام آباد میں داخل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔لیکن وہ احتجاج اسلام آباد میں ہوا۔نوازشریف اس وقت کے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سے ناراض تھے۔ڈپٹی کمشنر بہت ملنے کیلئے بے تاب تھےلیکن میاں صاحب انہیں اگنور کررہے تھے۔
آخر نوازا شریف کے پرائیوٹ سیکرٹری نے انہیں میاں صاحب کے ساتھ بٹھایا۔اور نواز شریف نے انہیں کہا کہ آپ کے ساتھ کیا نہیں کیا ۔لیکن آپ ہمارے معیار پر پورے نہیں اترتے ۔جس پر مجھے بہت دکھ ہوا ۔اس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی تھی۔
جس پر نواز شریف نے ان سے معذرت کی۔اور نواز شریف نے پروٹوکول کی پرواہ کیلئے بغیر گاڑی رکوائی ۔اور سامنے میدان میں چلے گئے ۔اور دورکعت نماز ادا کی ۔دوسرا ایک واقعہ جب نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی۔تو بیگم کلثوم نواز کو دو اشخاص کے گھر بھیجا ۔کہ میری طرف سے ان سے معذرت کرلیں۔
نواز شریف کی سیاست میں ایک عنصر بہت غالب ہیکہ وہ دوستوں کے دوست ہیں۔مشکل وقت کے ساتھیوں کا عروج کے دور میں خیال رکھتے ہیں ۔نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں سب سے زیادہ جس چیز کی پرواہ کی ہے۔وہ ہے عوام کا پریشر ،عوام کے جذبات اور عوام کی مشکلات ہیں۔اور انہوں نے بہت سے عوام دوست اقدامات کئے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔