میجر جنرل احمد شریف چوہدری ڈی جی آئی ایس پی آر

51

تحریر:نعیم الحسن نعیم
یہ دنیا الفاظ کی بازی گری سے آگے نکل چکی ہے۔ اب اصل وقار اُس سکوت میں ہے جو بولنے سے پہلے لمحہ بھر ٹھہرتا ہے۔ یہی وقار ہم نے دیکھا ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کی آنکھوں میں، اُن کے لہجے میں، اُن کی باڈی لینگوئج میں دیکھا، جب پاک بھارت کشیدگی اپنے عروج پر تھی، جب لفظ تلوار بن چکے تھے اور بیانات گولہ بارود بن کر برسے جا رہے تھے، تب یہ شخص خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔ نہ اشتعال، نہ نمائشی دبدبہ۔بس ذمہ داری، سنجیدگی اور کردار کی چٹان
حملہ کہاں ہو گا یہ بھارت کا انتحاب ہو گا آگے کہاں جانا ہے یہ ہم بتائیں گے.میں آپ کو واشگاف الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ پاکستان نے کل رات صرف بھارتی جارحیت کے جواب میں دفاعی ردِ عمل دیا ہے جبکہ اس جارحیت کا بدلہ لینا ابھی باقی ہے بدلہ کس وقت، کس جگہ اور کیسے لینا ہے؟ اس کا فیصلہ ہم کریں گے.

# جب ہم حملہ کریں گے تو اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے گیاگر بھارت کو شوق ہے تو ہم اس کی خواہش پوری کریںگے.ہم جواب اپنی مرضی اپنے وقت اور اپنے طریقے سے دیں گے.ہمارے قابل ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ تاریخی الفاظ
Now you just wait for our responseہمیشہ دشمنوں کی نیندیں حرام کرنے کیلئے کافی ہیں.ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ چند الفاظ ان کیلئے کافی جو اب بھی خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔آپ کو لوگ کہتے تھے کہ یہ(فوج) اپنا کام نہیں کرتے، آج ان سے سوال کریں کہ کیا فوج نے اپنا کام کیا ہے یا نہیں؟ کیا ایسے لوگوں کا آپ محاسبہ نہیں کریں گے کہ تم کون ہوتے تھے جو اپنی فوج کے خلاف بات کرتے تھے.

ہم سویلینز کو ٹارگٹ نہیں کرتے ہمارا کلچر اور ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا.کچھ عرصے سے ایسا محسوس ھونا شروع ھو گیا تھا کہ پاکستان آرمی قحط ارجال کا شکار ھو گئی ھے ۔ جنرل آصف غفور کے جانے کے بعد مسلح افواج پاکستانی کی ترجمانی کسی چیلنج سے کم نہ تھی اس لیے کہ آصف غفور اپنے نپے تلے الفاظ اور جملوں سے جو معیار سٹ کر گے تھے وہ قوم کی نظر میں ایک “حد”مقرر ہو گئی تھی لیکن اس بار جنرل احمد شریف نے فوج اور قوم کی ترجمانی کا وقع ہی حق ادا کر دیا۔ جن الفاظ میں دشمن کو متنبہ کیا اور جس طرح افواج پاکستان نے اپنے ترجمان کے الفاظ اور جملوں کو سچ ثابت کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔ ڈی جی صاحب کے چہرے پہ تھکاوٹ جس کو اطمنان اور مسکراہٹ نے کور دیا ھوا تھا، وہ تین دن لگاتار جاگنے کی وجہ سے تھی جس کی گواہ ان کی آنکھیں ہیں۔ہندوستانی حملے کے بعد ہر رات جاگ کر گزاری ۔

وطن کی محبت اور دشمن سے انتقام لینے کی جستجو لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود پہ نیند کو حرام کر دیا تھا.اللہ تعالی اس جذبے اور ہمت کو پاکستان کے بچے بچے میں منتقل کرے.ایک بات کا اور اضافہ کرتا چلوں کہ مسلح افواج پاکستان، خود پہ سیاست کو اور سیاسی معاملات میں مداخلت کو ایسے ہی حرام کیجئے جیسے ڈی جی صاحب نے تین دن خود پہ نیند حرام کی رہی ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر کے سنہرے تاریخی الفاظ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر گئے ہمیں بھارت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے ہمیں ایک قوم بننے کا موقع فراہم کیا اور ہم اپنی افواج پاکستان کے پیچھے ایک مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھارت کو مار پڑی ہے کبھی بل کلنٹن کبھی صدر بش اور آج ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ٹرمپ نے ہندوستان کو مزید مار کھانے سے بچا لیا پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کی چودھراہٹ اس کا اصلی چہرہ افواج پاکستان بے نقاب کر چکی تھی .

تاریخ خود کو دہرا رہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت بڑا بھائی وزیراعظم پاکستان تھا اور اج چھوٹا ہماری افواج پاکستان نے اج جس طرح ہندوستان کی ہیکڑی نکال کر رکھی وہ وقت دور نہیں تھا کہ دلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا جاتا الحمدللہ ہمارے شاہینوں نے ہر مورچے اور محاذ پر دشمن کو نہ صرف دندان شکن جواب دیا بلکہ کئی بھارتی چیک پوسٹ بھی تباہ کر دی.
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل بہادری محاذ پر ہی نہیں، مائیک کے سامنے بھی ثابت کرنی پڑتی ہے۔ جہاں ہر سوال ایک جال ہوتا ہے، وہاں الفاظ کو توازن سے تھامنا، جذبات کو قومی مفاد میں ڈھالنا، اور خود کو ادارے کی شناخت بنانا، کسی عام شخص کا کام نہیں۔ میجر جنرل احمد شریف نے یہ سب کچھ ایسی سادگی اور مہارت سے کیا کہ اُن کے نقاد بھی تعریف پر مجبور ہوئے۔‎اور پھر، وہ لمحہ آیا جب وہ مسکرائے۔

ایک عرصے بعد اُن کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ دیکھی گئی۔ نہ وہ مسکراہٹ تمسخر تھی، نہ غرور۔ وہ ایک سپاہی کی مسکراہٹ تھی، جو کئی محاذ عبور کر کے اب اعتماد کی ایک نرم چمک بن چکی تھی۔قوم نے اسے محسوس کیا، اسے سراہا اور اپنے جذبات کو شعر و شاعری میں ڈھال کر اُنہیں سلام پیش کیا۔ کیونکہ کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں، جو صرف وردی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار کی شفافیت سے دلوں میں اُترتی ہیں۔‎میجر جنرل احمد شریف چوہدری صرف ایک ترجمان نہیں، ایک روایت ہیں۔ وہ روایت جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقار کبھی بلند آواز میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ اُس خموشی میں چھپا ہوتا ہے جو پورے ادارے کی حرمت کا خیال رکھے۔ وہ شخص جو دشمن کو للکارنے سے پہلے اپنے الفاظ کا وزن دیکھتا ہے، درحقیقت وہی اصل ترجمانِ وطن ہے۔‎آج جب ہم انہیں دیکھتے ہیں، تو دل سے ایک دعا نکلتی ہے:

سلام اُس پر کہ جو لمحہ لمحہ، فرض کی معراج لکھتا ہے ‎نہ ہنسی بے جا، نہ غصہ بے محل ہر جذبہ اعتدال لکھتا ہے‎جب للکارا دشمن نے سرحد کو ہماری‎فوجِ پاک نے دکھائی بہادری ساری،‎احمد شریف، تیری آواز تھی وہ طوفان،‎جس نے بھارت کی چالوں کو کیا نیست و نابود ہر آن۔‎یہ کالم اُن کے لیے ایک خاموش سلام ہے۔ ایک سپاہی کو، جس نے زبان کو بھی وردی کی طرح سنبھال کر پہنا۔ جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ اصل اثر دلیل میں ہے، چیخ و پکار میں نہیں۔ اور یہی انداز ہمیں آپ کے شایانِ شان لگا، ڈی جی صاحب ‎یہ جیت پاکستان کی ہے.پاکستان کی افواج، پاکستان کی حکومت اور پاکستان کی عوام نے مل کر لڑی ہے۔
ہم سب ہی ایک دوسرے کے شکر گزار ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں ہم نے ایک آہنی دیوار ہونے کا ثبوت دیا۔آئیے ملک کی ترقی کے لئے بھی یونہی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے حالات بدل دیں!

وطن عزیز پاکستان غازیوں اور شہیدوں کا ملک ھے ہم اپنے ملک سے محبت اور اس وفاداری کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے اور دل سے مانتے ہیں تم جتنے بھی ہتھیار کہی سے بھی جمع کرو لیکن اتنا یاد رکھنا کہ ہم نے ابھی تک اپنے ملک کا صرف دفاع ہی کیا ھے اور تمھارا یہ حال ہوگیا ھے سوچھو کہ جب ہم تم پر حملہ کریں گے تو پھر تمھاری کیا کیفیت اور کیا حالت ہوگی کیونکہ اللہ ہی مدد سے ہم جو کہتے ہیں پھر کرکے بھی دکھاتے ہیں یہ غلطی اب غلطی اور بھولے سے بھی مت دہرانا ورنہ تیرا وہ انجام کریں گے کہ تم نے سوچھا بھی نہیں ہوگا موتی جی کیا سمجھے نہیں سمجھے تو غلطی کرکے دیکھ لینا الحمد للّٰہ ہماری بہادر افواج پاکستان جن پر ہمیں دل و جان سے فخر اور ناز ھے یہ لاکھوں میں نہیں بلکہ حب الوطنی غیرت اور ایمانی جذبوں سے لبریز تمام پاکستانیوں سمیت کروڑوں کی جنگجوں فوج ھے بس صرف یہی نعرہ بلند ہوتے ہی کہ نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور پھر تم حشر اپنی آنکھوں کے سامنے ہی دیکھتے رہنا..
شکریہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف صاحب آپ ہمارا لہو گرماتے رہے آپ نے بہترین انداز میں قوم کی ترجمانی کی.
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانــے لگا سرمایہ تن
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے ۔تا قیامت رہے
پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔مسلح افواج پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں