میجر سعد بن زبیر شہید کی شہادت کو سلام عقیدت

38

تحریر:راجہ آصف صیاد
قارئین۔تحریر کا آغاز علامہ اقبال کے شعر سے کرنا چاہونگا کہ
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
سلام ہو مسلح افواج پاکستان کے ان نوجوانوں پر جو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں نثار کرتے چلے آ رہے ہیں اور ہمارے کَل کے تحفظ اور ترقی کے لیے اپنا آج اس طرح قربان کر دیتے ہیں کہ پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ان شہدأ کی تعداد ہزاروں میں ہے جو دہشت گردی کا نشانہ بنے اور اس حوالے سے یہ سب کے سب ہی قابل تعظیم ہیں لیکن اس وقت میں اس کارواں کے صرف ایک قافلہ سالار کے حوالے سے بات کروں گا جس کا تعلق زمانۂ حال سے ہے۔ میری مراد ضلع باغ کا ایک عظیم سپوت عظیم ماں کا عظیم بیٹا عظیم والد کا عظیم بیٹا عظیم بھائ کا عظیم بھائ عظیم بہن کا عظیم بھائی عظیم بیوی کا عظیم شوہر شہید میجر سعد بن زبیر سے ہے.

میجر سعد بن زبیر سے راقم کا تعلق نہیں تھا پہلی اور آخری بار میجر سعد کو انکی شادی میں دیکھا انتہائ خوبصورت شخصیت کا مالک خوبرو جواں تھا میجر سعد بن زبیر کا تعلق ضلع باغ کے نواحی گاؤں بنی پساری سے تھا یوں تو میجر سعد کی جملہ فیملی ایک معزز پڑھے لکھے اور بیوروکریٹ گھرانہ ہے مگر میجر سعد بن زبیر وہ خوش قسمت انسان ٹھہرا جس نے نہ صرف ملک کی ترقی کی خاطر دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر کے جہاں مسلح افواج پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ اپنی فیملی کو بھی ایک عظیم رتبہ شہید کی فیملی کا رتبہ دیکر گزشتہ روز بلوچستان کے مقام شہادت کا جام پی کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔میجر سعد شہید کی شہادت جہاں ملک قوم فیملی کے لئے قابل فخر ہے وہاں بطور انسانی فطرت شدید دکھ دہ بھی ہے ایک نوجوان جو چند ماہ قبل رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتا ہے .

فوج کے اندر ایک عزت آنر کا رینک سینے پر سجائے ترقی کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے چھوٹے بہن بھائیوں کی امیدوں کا محور ہوتا ہے فیملی کا فخر ہوتا ہے اسکا یوں اچانک چلا جانا یقینی طور پر بہت بڑا صدمہ ہے مگر خدا کی کاموں کے آگے بے بسی ہے اور اس پر صبر کرنے والوں کو اللہ پاک اجر عظیم کا وعدہ بھی کرتا ہے دعاگو ہوں کہ اللہ پاک میجر سعد بن زبیر کی جملہ فیملی ممبران کو یہ صدمہ برادشت کرنے کی ہمت دے آمین ہماری ملکی تاریخ میں وطن کی مٹی کا قرض ادا کرنے والے شہدائے پاک فوج کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی کی جنگ کے دوران وطن پر جان نچھاور کرنے والے میجر سعد بن زبیر جیسے جانبازوں کو پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

روایتی جنگ ہو یا دہشت گردی کا عفریت‘ پاک فوج نے ہمیشہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارا بنانے کے لیے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ وطن کی مٹی کے یہ گوہرِ نایاب کبھی سپاہی ساجد آف صوابی کی صورت میں ماں کا فخر بنے تو کبھی میجر سعد بن زبیر نے اپنی قربانی سے وطن کو سرخرو کیا یہ سب شہداء ہمارے محسن ہیں جنہوں نے اپنا آج پاکستان کے مستقبل پر قربان کر دیا۔ دو دہائیوں سے دہشت گردوں کے خلاف جس بھرپور انداز میں پاک فوج نے کامیاب آپریشنز کیے ہیں‘ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپریشن راہِ راست ہو، ضربِ عضب ہو یا کہ رد الفساد، پاک فوج کے افسران سے لے کر جوانوں تک‘ تمام شہدا کا ایک طویل سفر ہے۔

سلام ہے شہدائے پاک فوج کے لواحقین کو‘ ان والدین کو جنہوں نے اپنے لختِ جگر اس مٹی کی محبت میں بخوشی قربان کر دیے اور اپنے بچوں کی شہادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائےپاک فوج کو پاکستان کی بنیاد پڑتے ہی ابتداءمیں اپنی پیشہ وارانہ خدمات ملک کی خاطر پیش کرنے کی ضرورت پڑگئی۔آزادی حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کے قافلے ہجرت کرکے پاکستان کی جانب رواں دواں ہوئے تو ہندواور سکھوں کے جتھوں نے ان قافلوں کو لوٹنے کے علاوہ مسلمانوں مہاجروں کاقتل عام شروع کیا۔ پاک فوج کے افسر وجوان جو خود ابھی نئے وطن میں آبادہی نہ ہونے پائے تھے کو مہاجرین کے قافلوں کی حفاظت پر مامور کردیا گیا۔ ہندو اور سکھ جتھوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کئی فوجی افسروجوان نے جام شہادت نوش فرمایا۔

27اکتوبر1947ءکو بھارتی فوجون نے سری نگر پر حملہ کرکے کشمیر پرقبضہ کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کی نوزائیدہ فوج کو وطن عزیز کے دفاع اور کشمیری مسلمانوں کو بھارتی فوج کے چنگل سے آزاد کرانے کی خاطر صف بندی پرتعینات کیا گیا۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاک فوج کے افسران وجوان نے لبیک کہا اور اس جنگ میں بھی متعد فوجی شہید ہوئے۔1965ء کی جنگ1971ءکی جنگ میں صف آرائی، کارگل کے محاذ اور اب 2001ءسے جاری دہشت گردی کےخلاف جنگ میں دشمن کی جارحیت کا مکمل جوش وجذبے سے جواب دینے کی خاطر ہزاروں فوجیوں نے شہادت کا رتبہ پایا۔ قوم کو ان شہیدوں پر فخر ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہمارے بہترمستقبل کی خاطر اپنا تن من دھن وطن عزیز پر قربان کردیا۔ ان جانثار سرفروشوں کو ایک ہی لگن تھی کہ وہ ملک وقوم کی خاطر رتبہ شہادت حاصل کریں۔ بقول علامہ اقبالؒ
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اس تحریر کی وساطت سے راقم جہاں مسلح افواج پاکستان کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتا ہے شہداء کو خراج عقیدت خراج تحسین پیش کرتا ہے وہاں اپنے عظیم بھائ میجر سعد بن زبیر کی فیملی بالخصوص انکے والدین انکی اہلیہ انکے بہن بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے اظہار تعزیت کے ساتھ دعاگو ہوں کہ اللہ پاک میجر سعد بن زبیر کی شہادت کو قبول فرمائے اور آپ سب کو یہ عظیم رتبہ ہمت حوصلہ اور صبر سے قبول کرنے کی توفیق دے آمین.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں