میرے میرپور کو کسی کی نظر لگ گئی

89

تحریر:طاہرہ شمیم
میرپور، ایک چھوٹا سا شہر جو اپنی ثقافتی روایات، تاریخی اہمیت اور قدرتی حسن کے لیے جانا جاتا ہے، آج کل ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں کی گلیاں ہر موسم میں ایک نئی رونق سے بھر جاتی تھیں، جہاں کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے، اور جہاں کی فضا میں محبت اور بھائی چارے کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ میرپور کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔میرپور کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ شہر ہمیشہ سے ایک اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی، بہادر اور مہمان نواز ہیں۔ یہاں کی زمین نے بڑے بڑے ادیب، شاعر، سیاستدان اور علماء کو جنم دیا ہے۔ لیکن آج کل میرپور کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر اپنی شناخت کھو رہا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ میرپور کی رونقیں ماند پڑتی جا رہی ہیں؟ کیا واقعی میرپور کو کسی کی نظر لگ گئی ہے؟شاید یہ نظر، ترقی کے نام پر ہونے والی بے ہنگم تعمیرات کی ہے۔ جہاں کبھی ہری بھری فصلیں لہلہاتی تھیں، اب وہاں کنکریٹ کے جنگل اگ آئے ہیں۔ پرانے تاریخی عمارات، جو میرپور کی شناخت تھیں، انہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ شہر کی خوبصورتی کو نظر انداز کر کے صرف ترقی کے نام پر ایسی عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں جن کا نہ تو کوئی مقصد ہے اور نہ ہی کوئی حسن۔یا پھر یہ نظر، بدانتظامی اور لاپروائی کی ہے۔ شہر کی صفائی، نکاسی آب، سڑکوں کی مرمت جیسے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، گٹر کا پانی سڑکوں پر بہتا ہوا، اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں میرپور کی تصویر بن چکی ہیں۔

کیا یہی وہ میرپور ہے جس پر ہمیں فخر تھا؟شاید یہ نظر، نئی نسل کی بے حسی کی ہے۔ نوجوانوں میں اپنی ثقافت اور تاریخ کے تئیں بے رغبتی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ روایتی تہوار، لوک گیتے، اور ثقافتی تقریبات جو کبھی میرپور کی پہچان تھے، اب دم توڑ رہے ہیں۔ نئی نسل مغربی کلچر کی طرف مائل ہوتی جا رہی ہے، اور اپنی جڑوں سے کٹتی جا رہی ہےلیکن میرپور کی بدحالی کی ایک اور اہم وجہ بڑھتے ہوئے جرائم اور ٹریفک کے مسائل ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں میں میرپور میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ چوری، ڈکیتی، اور تشدد کے واقعات عام ہو گئے ہیں۔ شہر کے باشندے اب اپنے گھروں اور دکانوں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ یہ صورتحال انتظامیہ کی کمزور پالیسیوں اور ناکافی اقدامات کی عکاس ہے۔

پولیس کی جانب سے جرائم پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کی وجہ سے مجرم بے خوف ہو کر اپنے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ٹریفک کے مسائل بھی میرپور کی بدحالی کا ایک اہم پہلو ہیں۔ شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن سڑکوں کی حالت اور ٹریفک کے انتظام میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ نتیجتاً، ٹریفک جام اور حادثات معمول بن گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے ناکافی نگرانی اور لاپروائی کی وجہ سے یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کے بے ہنگم بہاؤ کی وجہ سے نہ صرف وقت کی بربادی ہو رہی ہے بلکہ لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔لیکن کیا واقعی میرپور کو کسی کی نظر لگ گئی ہے؟ یا پھر ہم خود ہی اپنے شہر کو بھولتے جا رہے ہیں؟

ہماری لاپروائی، ہماری بے حسی، اور ہماری خود غرضی نے میرپور کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ ہم نے اپنی ثقافت، اپنی تاریخ، اور اپنے شہر کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دیا ہے۔میرپور کو کسی کی نظر نہیں لگی، بلکہ ہم نے ہی اسے نظر انداز کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور اپنے شہر کو دوبارہ سے سنوارنے کی کوشش کریں۔ ہمیں اپنی ثقافت، اپنی تاریخ، اور اپنے شہر کی خوبصورتی کو دوبارہ سے زندہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اپنی روایات سے جوڑنا ہوگا، اور شہر کی ترقی کو منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھانا ہوگا۔

میرپور ہمارا شہر ہے، ہماری پہچان ہے۔ آئیں، مل کر اسے دوبارہ سے وہی پر رونق اور خوبصورت شہر بنائیں جس پر ہمیں فخر ہو۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی توجہ نہ دی، تو ہو سکتا ہے کہ کل کو میرپور صرف ایک یاد بن کر رہ جائے۔میرپور کو کسی کی نظر نہیں لگی، بلکہ ہماری نظر ہٹ گئی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی نظر واپس اپنے شہر پر ڈالیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جرائم پر قابو پانے اور ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ ہم سب کو مل کر اپنے شہر کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، تاکہ میرپور ایک بار پھر امن، محبت اور ترقی کا گہوارہ بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں