میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا

163

تحریر: ماریہ خان
دنیا میں ہر روز لاکھوں لوگ پیدا ہوتے ہیں مگر جو ڈٹ جاتے ہیں تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے ۔تاریخ کے اوراق میں نام لکھوانے والے سرفروشوں کو تاریخ سنہری الفاظ میں یاد رکھتی ہے ۔ایک انقلابی اپنی اپنی طاقت ،دولت کی بنیاد پر امر نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے تاریخی کردار اور اپنے نظریات کی بنیاد پر امر ہوتا ہے.ایسا ہی ایک تاریخی کردار دھرتی باغ کا عظیم بیٹا ایک عظیم انقلابی سابق مرکزی اسیکرٹری جنرل جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کامریڈ فہیم اکرم شہید تھا.

فہیم اکرم کا تعلق باغ کے نواحی گاؤں کوٹیڑہ مست خان سے تھا .فہیم اکرم نے ایک سیاسی گھرانے میں تربیت حاصل کی .این ایس ایف کا یہ عظیم سرخیل بچپن سے ہی ظلم و تشدد اور سماجی استحصال کے خلاف سینے میں بغاوت رکھتا تھا. پھر وہ دن بھی آیا جب سردار فہیم اکرم نے اس خطے کی پہلی انقلابی تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جس بنیاد 22٫23 ستمبر کو رکھی گئی تھی شمولیت اختیار کی .

فہیم اکرم کی این ایس ایف میں شمولیت نے این ایس ایف کی تاریخ بدل دی اور اس آزادی کے متوالے نے مادر وطن کی آزادی و خودمختاری کے لیے نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن کی بنیادیں باغ میں ڈالی .محمد مقبول بٹ کے قافلے میں شامل ہونے والے جانثاروں نے ہر دور میں وقت کے فرعونوں کو للکارا اور عوامی جمہوری انقلاب کے لیے این ایس ایف کے سرخ پوش نوجوانوں نے اپنی جان پیش کی ۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس خطے کی طلباء تنظیم ہے جس نے اپنی جدوجہد کا آغاز طلباء حقوق کے لیے جدوجہد سے کیا اور حالات کے پیش نظر وحدت کی بحالی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام جیسے عظیم آدرشوں کو اپنا نصب العین بنالیا.1990 میں مقبوضہ کشمیر میں پراکسی کا آغاز کیا گیا. اس وقت بھی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن میدان عمل میں آئی اور گلنواز بٹ اور فہیم اکرم کی زیر قیادت چکوٹھی سیز فائر لائن کی طرف مارچ کیا اور منحوس خونی لکیر کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سرخ علم لہرایا اور عالمی دنیا کے سامنے یہ واضح کیا کہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن قومی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی مذہبی تفریق کے بغیر خونی باڑ توڑ کر تنظیم کا جھنڈا لہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن دونوں‌ممالک کو قابض ملک کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور کسی بھی قابض ملک کی طرف جھکاؤ کو کشمیریوں کے لیے زہر قاتل سمجھتی ہے ۔

فہیم اکرم ہر گزرتے دن کے ساتھ قابض گفتگو اور انکے سہولت کاروں کے لیے درد سر بنتا جارہا تھا اور سہولت کار اس حق پرست کو راستے سے ہٹانے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کررہے تھے.باغ کی سیاست ہر دور میں قبیلائی تعصبات کا شکار رہی باغ کے اندر فہیم نے خود کو ایک نظریاتی کارکن کی حیثیت سے متعارف کروایا اسے اپنا آپ متعارف کروانے کے لیے کبھی بھی برداری متعارف کروانے کی ضرورت پیش نہیں آئی .

بلکہ وہ اس خطے کے اندر اور بالخصوص باغ کے اندر نوجوانوں کے لیے مزاحمت کی علامت بن گیا .منفی سیاست کا آغاز جو اس خطے میں ہو چکا تھا فہیم اسکے سخت خلاف تھا اور اس نے برادریوں اور ٹبروں کی سیاست کے خلاف نظریاتی سیاست کو پروان چڑھایا اور نام نہاد آزاد کشمیر کی لیڈر شپ میں خود کو شامل کیا .باغ شہر کی ہر چوک میں ہر گاؤں میں سرخ علم لہرایا گیا اور یہ سرخ الم محنت کشوں کی پہچان تھا .باغ کا بزرگ بچہ المختصر ہر عمر کا فرد فہیم کو اپنا لیڈر تسلیم کرچکا تھا.

سرخ علم باغ کی سر زمین پر لہرائے گئے اور اسکے ساتھ وطن ہمارا قبضہ تمہارا نامنظور یہ نعرہ باغ کے نوجوانوں زبان پر تھا .کچھ مخصوص طاقت کے سہولت کار باغ کے نام نہاد سیاسی لیڈروں اور انکے چیلوں نے ایسے ہی حالات میں فہیم کو راہ سے ہٹانے کے منصوبے بنانے شروع کیےاور حق و سچ کے داعی کو خون میں نہلا دیا گیا .فہیم شہادت کا جام پی کر امر ہوگیا اور فہیم کی زبان این ایس ایف کے ہر نوجوان کو لگ گئی .

فہیم اس دنیا سے چلا گیا تھا لیکن اسکے جانثاروں نے اسکی جدوجھد کو آگے بڑھایا اور ہزاروں کی تعداد میں فہیم پیدا ہوتے گئے.نظریات کا یہ سفر ایسے ہی چلتا گیا اور فہیم کی دوسری نسل اور اب تیسری نسل بھی فہیم کا الم تھامے ہوئے ہے .
فہیم حق و سچ کا علمبردار تھا
فہیم لاچاروں بے بسوں کی آواز تھا
فہیم دشمنوں کے لیے خوف و دہشت کی علامت تھا
اور فہیم کے عظیم آدرشوں پر آج جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنان عمل پیرا ہیں
فہیم کی جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن آج بھی فہیم کے نظریات کا پرچار کررہی ہے
فہیم تو زندہ ہے مظلوموں کے دلوں میں زندہ ہے حریت کے نصابوں میں زندہ ہے
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا
علم جدوجھد۔ فتح

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں