نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوچکا

41

تحریر:راجہ مدثر ارشاد
مملکت پاکستان کو اس وقت شدید داخلی بخران کا سامنا ہے رقبے کہ اعتبار سے سب سےبڑا صوبہ بلوچستان اس وقت ایک آتش فشاں کا منظر پیش کر رہا ایک ایسا آتش فشاں جس کہ پھٹنے خطرات دن بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں بلوچ نوجوان تلخ انداز سے وفاق اور سب سے بڑے صوبے پنجاب سے شکوہ کناں ہیں بلوچستان میں شدت پسندی زوروں پر ہے شدت آمیز واقعات آے روز رونماں ہورہے ہیں پاک آرمی کہ نوجوان جام شہادت نوش فرما رہے ہیں آزاد بلوچستان کی بازگشت بھی سناہی دیتی ہے بلوچستان کی سیاسی لیڈر شپ اور نوجوانوں کہ تحفظات میں کمی نہیں آ رہی نہروں کی تعمیر کو لے کر گزشتہ چند دنوں سے صوبہ سندھ میدان جنگ بنا ہوا ہے جملہ میڈیا ہاوسسز پر سرے شام نہروں کہ معملہ کو لے کر سندھ کہ موجودہ حالات پر پروگرامات ہو رہے ہیں.

اشیاے خوردنوش کی سپلاہی متاثر ہو رہے ہے وفاقی جماعت پی پی پی بھی سندھی عام کہ سامنے بے بس ہے اور اس نے بھی معملات یکسوں نہ ہونے کی صورت میں صوباہی حکومت چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے صوبہ خیبر پختون خواہ میں تحریک طالبان اور دیگر خوارج شدو مدد سے متحرک ہیں اور آے روز ریاست کی رٹ کو چیلنچ کر رہے ہیں صوباہی حکومت بھی عمران خان کہ کیسسز کو لے کر وفاق کی پالیسیز کو خاطر میں نہیں لا رہی صوبے کہ بعض علاقوں میں حکومتی رٹ نام نہ ہونے کہ برابر ہے رہا پنجاب تو اسکی جنوبی پٹی کہ عوام اپنی محرومیوں کہ لیے تخت لاہور کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اہلیان کراچی بھی وساہل کی غیر مساوی تقسیم کو لے کر آے روز اپنا مقدمہ پیش کرتے نظر آتے ہیں.

غرض مملکت پاکستان کی تمام اکاہیاں ایک ہجانی کفیت سے دو چار ہیں.ان حالات میں مملکت پاکستان کہ پالیسی ساز اداروں کوکوہی موثر حکمت عملی اپناتے ہوے دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے جس کی بدولت وفاق بھی مضبوط ہو اور ریاست کی مختلف اکاہیوں میں بسنے والے عوام کو بھی تسلی تشفی مل سکے اس حوالے سے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کی ایک قابل عمل تجویز کو زیر غور لا کر پاکستان کو بہت سارے داخلی مساہل سے چھٹکارا مل سکتا ہے گزشتہ برس رہیس الاحرار چوہدری غلام مرحوم کی سالانہ برسی کہ موقع پر ممتاز کشمیری سیاست دان سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے مملکت پاکستان میں نہے صوبے قاہم کرنے کی تجویز دی ہے.

انکے بقول پاکستان میں موجودہ چار صوبوں کو کم از کم بیس صوبوں میں تقسیم کیا جاے آج نہیں تو آنے والے بیس سال میں وفاق کو یہ اقدام اٹھانا پڑے گا اگر یہی عمل آہندہ دو عشروں میں کرنا ہے تو اسکی بسم اللہ ابھی کر دینی چاپیے اس اقدام سے لسانی و عصبی مساہل کا خاتمہ بھی ممکن ہو گا اور جو احساس محرومی ہے وہ بھی دم توڑ جاے گی بلوچستان کہ مسلے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جاے پختون اور بلوچ بلٹ کو الگ الگ صوبہ بنا دیا جاے گوادر جو وفاق کی خرید ہے اسکویونین ٹریٹری ڈکلیر کر دیا جاے یہ محرومیوں کا رواس کا تھڑم تختہ خود بہ خود ہو جاے گا اسی طرح اندرون سندھ اور کراچی دونوں کو علحدہ علحدہ صوبوں میں تقسیم کیا جاے نہ کوہی کوٹہ سسٹم ہو گا نہ پانی کی تقسیم کا کوہی جھنجٹ بلکے سندھ اور پنجاب کہ سراہیکی بلٹ کو بھی جوڑ کر ایک نہی اکاہی بناہی جاے جو وہاں کہ باسیوں کا درینہ مطالبہ بھی ہے.

اسی طرح پنجاب کو جنوبی ،وسطی اور شمالی حصوں پر تقسیم کر کہ نہے صوبے بناے جاہیں بہاولپور صوبے کو بحال کیا جاے خیبر پختون خواہ میں بھی ہزارہ کو صوبہ بنایا جاے پشاور ویلی،جنوبی اور شمالی اضلاع کہ الگ الگ صوبے تشکیل دیے جاہیں فاٹا کوبھی ار سر نو صوبے کا مقام دیا جاے اس طرح کہ نہے صوبوں کی بدولت پاکستان داخلی انتشار سے بھی بچ جاے گا نہے صوبے کوہی اچنبے کی بات نہیں انڈیا کا صوبہ پنجاب 1947 کہ بعد چار حصوں میں تقسیم ہو چکا کسی نے نہ کوہی اعتراض کیا نہ کوہی متاثر ہوا جبکے ہمارا پنجاب انتظامی طور پر ہم سے سنھبالا نہیں جاتا اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ نہے یونٹ تشکیل دیے جاہیں اور نہے صوباہی یونٹ انتظامی اور مالی اعتبار سے بھی متسحکم ہوں گے این ایف سی ایواڈ کی تقسیم کا مل بیٹھ کر نیا فارمولہ ترتیب دیا جاے یوں بھی آہنی ترمیم کہ بعد صوبے بڑی حد تک خودمختار ہو چکے ہیں جس قدر صوبے بہ اختیار ہوں گے اس قدر وفاق مضبوط ہو گا اگر ہندوستان بتیس ریاستوں اور یونین ٹریٹیز کہ ہوتے ہوے دنیا کی بڑی جہموریت کا دعوی کر سکتا ہے تو ہم بھی صوبوں کو تقسیم کر کہ استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتے ریاست اگر داخلی تنازعات سے پاک ہو تو پسپاہی بیرونی حملہ آورو مقدر ہوتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں