نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ

92

تحریر:محمد شہباز
بھارت آج اپنا یوم جمہوریہ منارہا ہے،کسی بھی ملک کو اپنے قومی دن منانے کا حق حاصل ہے اور یہ دنیا کا مروجہ اصول بھی ہے،لیکن کسی قوم کو طاقت کی بنیاد پر غلام بنائے رکھنا، مظلوموں کے سروں پر مسلط اور ان کا قتل عام کرکے اپنے قومی دنوں پر جشن منانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی کی بدترین شکل ہے۔بھارت گزشتہ 77 برسوں سے اہل کشمیر کے سروں پر سوار اور ان کا بے دریغ قتل عام کررہا ہے، اپنے قومی دنوں 26 جنوری اور 15اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے چپے چپے پر فوجی محاصرہ مسلط کرکے یہ دن مناتا ہے،مگر بھارت کو بار بار زچ ہونا پڑتا ہے،کیونکہ اہل کشمیر تمام تر جبر کے باوجود بھارت کے ان قومی دنوں کو نہ صرف یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں بلکہ بھارت کیساتھ ساتھ پوری دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سکیورٹی کے نام پر اہل کشمیر کی زندگیاں اجیرن بنادی ہیں اورپورے مقبوضہ کشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں کئی دن قبل ہی تبدیل کیا جاچکا ہے۔

بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ ہویا یوم آزادی، یہ دن کشمیری عوام کیلئے مزید پریشانیوں اور مشکلات کا باعث ہیں۔ہرسال کی طرح آج بھی قابض بھارتی انتظامیہ نے 26جنوری سے کئی روز قبل ہی پورے مقبوضہ کشمیر میں باالعموم اور مقبوضہ وادی کشمیر میں باالخصوص سیکورٹی کے نام پر ظالمانہ انتظامات کیے ہیں۔ سرینگر سمیت وادی کشمیرکے دیگر تمام قصبوں اور دیہات میں بھارتی فوجیوں نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہیں ،مسافر گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر مسافروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ،ان کی جامہ تلاشی لی جارہی ہے اوران کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ڈروں کیمروں کے ذریعے نگرانی کا بندوبست کیا جاچکا ہے اور آج تو جگہ جگہ پر بھارتی فوجی سراغ رساں کتوں سمیت تعینات کیے گئے ہیں۔جبکہ بھارتی فوجیوں نے کئی روز قبل رات کا گشت بھی بڑھا دیا ہے۔ سرینگر اور جموں کے تمام داخلی راستوں پر ناکے اوربینکر قائم کئے گئے ہیں۔ جموں میں مولانا آزاد اسٹیڈیم کے ارد گرد بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی کئی روز قبل عمل میں لائی جاچکی ہے.

سرینگر میں بھی اسی طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں کیونکہ نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کی چند منٹوں کی تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے ۔سرینگر اور جموں میں جنگی ماحول برپا کیا جاچکا ہے،لوگوں کے گھروں پر قبضہ کرکے چھتوں پر بینکر قائم اور مکینوں کو انہی کے گھروں سے نکال کر انہی سردی کے ان سخت ترین ایام میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔قابض بھارتی حکام اور خفیہ بھارتی ایجنسیوں کی رپورٹ پر بھارتی فوجی اآفسران مشترکہ ناکے لگانے،تمام سڑکوں اور علاقوں کی چیکنگ کو یقینی بنانے اور شاہراہوں پر رات کاگشت بھی کئی روز پہلے تیز کرچکے ہیں۔قابض حکام نے سرینگر اور جموں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔ سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک تک لوگوں کی رسائی بھی خاردار تاریں نصب کر کے بند کی جاچکی ہے۔

بھارت کی دوسری ریاستوں میں آج حالات کیونکر یکسر مختلف ہوتے ہیں گوکہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں آزادی پسند بھارتی فوجیوں پر حملے کرنے کے علاوہ بھارت کے ان دونوں قومی دنوں کی تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں مگر صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہی فوجی چھاونی میں تبدیل اور اہل کشمیر کو یرغمال بنایا جاتا ہے،یہ بہت بڑا سوال ہے جس پر بھارت کیساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی غور و خوض کرنا چاہیے۔اہل کشمیر کی طرف سے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانا اس بات کا مظہر ہے کہ اہل کشمیر بھارت کے اس ناجائز اور غاصبانہ قبضے کو کسی صورت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔آج پورے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے،جس کے باعث تمام کاروباری مراکز ،بازار اور دکانیں بند جبکہ ٹرانسپورٹ معطل ہے،یہاں کی سڑکیں سنساں اور ہر طرف بھارتی فوجی اور ان کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔

اہل کشمیر نے اپنے اپ کو گھروں میں مقید کررکھا ہے اور وہ آج رات کو بلیک آوٹ بھی کریں گے،جس سے بھارت کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ اہل کشمیر نہ پہلے تمہاری توپ و تفنگ سے مرعوب ہوئے ،نہ آج ہورہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری عوام کا یوم سیاہ اور احتجاج بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔اہل کشمیرکا یہ احتجاج اس امر کا بھی اظہار ہے کہ جب تک بھارت کشمیری عوام کے مسلمہ حق خودارادیت کو واگزارنہیں کرتا جس کا بھارت نے 5جنوری 1949 میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری کو گواہ ٹھہراکر کشمیری عوام کیساتھ وعدہ کررکھا ہے،کشمیری عوام بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضے کے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد جاری اور بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کو یوم سیاہ کے بطور مناتے رہیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے علاوہ شورش زدہ بھارتی ریاست ناگالینڈ میں ایک سول سوسائٹی گروپ ایسٹرن ناگالینڈ پیپلز آرگنائزیشن نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کی تقریبات کا بائیکاٹ کریں۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند قیادت جو کہ بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں مقید ہے نے آج بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل کی تاکہ کشمیری عوام کے مادر وطن پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف احتجاج درج کرایا جائے۔آزادی پسند قیادت نے دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں آج پورے مقبوضہ کشمیر میں سول کرفیو کے نفاذ پربھی زوردیا۔آزادی پسند قیادت کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام نے مزاحمت، احتجاج اور عوامی مظاہروں کے ہر پرامن طریقے کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی جبری قبضے کو بار بار مسترد کیا ہے۔ لاکھوں کشمیریوں نے سڑکوں، گلیوں اور میدانوں میں جمع ہوکر آزادی اور حق خود ارادیت کے حق میں نعرے بلند کئے۔ قابض بھارتی فوجیوں نے اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں ایک لاکھ کے قریب کشمیریوں کو شہید کیا،اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں بھارتی سفاکوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے .

مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قتل عام کے متعدد واقعات دہرائے گئے ،جن میں جنوری کے مہینے میں بیشتر قتل عام کے سانحات رونما ہوچکے ہیں،جو بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسے سیاہ دھبے ہیں جنہیں کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا ۔مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی اور ماورائے عدالت قتل عالمی برادری کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔ہر بھارتی نام نہاد یوم جمہوریہ پر کشمیری عوام کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنانا ایک معمول بن چکا ہے۔زور زبردستی بھارت کاترنگا لہرانے سے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو نہ پہلے دبایا جاسکا اور نہ آئندہ دبایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی حقیقت ہے ، اگر بھارت یہ سوچتا ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال کرکے مقبوضہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک کو دبایا جائے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بھارت کے تمام جابرانہ ہتھکنڈے اہل کشمیر کے موقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں لہذا یہ تنازعہ کشمیر کے تمام فریقین کے مفاد میں ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کا انعقاد عمل میں لاکر کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔کنٹرول لائن کی دونوں جانب کے علاوہ آج پوری دنیا میں بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کےطور پر منایا جاتا ہے۔

تحریک کشمیر یورپ کی اپیل پر بھارت کے نام نہادیوم جمہوریہ کے موقع پرآج یوم سیاہ منایا جارہاہے۔ یورپ بھر میں بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی دہشتگردی اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر اور بے نقاب کیا جارہا ہے، دنیا کو بتایا جارہا ہے کہ بھارت ایک ظالم اور انسانیت کا قاتل اور دشمن ملک ہے، بھارت کے اندر اقلیتیں محفوظ نہیں اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارتی حکمران کسی وعدے اور معاہدے کی پابندی نہیں کرتے، بھارت خطے کے امن کیلئے انتہائی خطرناک ملک ہے، تحریک کشمیر یورپ نے کہا ہے کہ 26 جنوری کشمیری عوام کیلئے سیاہ ترین دن ہے، برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں احتجاج کیا جارہا ہے،بھارت کے ناپاک عزائم مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے بھارتی منصوبوں اور سازشوں کو بے نقاب کیا جارہا ہے کہ بھارت جس راستے پر چل رہا ہے اس سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور کشمیری بھارت کے حربوں اور ہتھکنڈوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے طول عرض میں 26 جنوری بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر پکڑ دھکڑ ،ناکہ بندیوں ،محاصروں اور ناکہ چیکنگ کے نام پر کشمیری عوام کو توہین و تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارت اپنے ان اقدامات کو اپنی بڑی کامیابی سے تعبیر کرتا ہے لیکن بھارتی حکمرانوں کو کون یہ سمجھائے کہ ایک قابض اور جابر کو ہی اس طرح کے اقدامات کرنے کی کیوں کر ضرورت پڑتی ہے،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ قبضہ ہے۔جس کے خاتمے کیلئے کشمیری عوام گزشتہ 77 برسوں سے جد وجہد کررہے ہیں۔بھارتی حکمرانوں کو آج نہیں تو کل مسئلہ کشمیر حل کرنا پڑے گا،اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں