تحریر: شہزاد خان
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق تاحیات نااہل وزیراعظم نوازشریف کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 24اکتوبر تک مہلت دے دی ہے. یعنی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر ہونے کے تقریبا 21گھنٹے بعد عدالت نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ سنا دیا .یہ ہے ہمارے ملک کا عدالتی نظام جو کسی طاقت ور کو فورا ریلیف دے دیتا ہے لیکن معلوم نہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کا عدالتی نظام اتنا بدنام کیوں ہے ؟
نواز شریف کی پاکستان واپسی سے تین روز قبل یعنی گزشتہ روز فوری گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی اس درخواست پر کل ہی یعنی بدھ کو نمبر لگا دیا گیا اور کل ہی اس پر دو رکنی بینچ نے سماعت شروع کر دی تھی اگر دیکھا جائے تو ایسا ہوتا نہیں کہ جوں ہی درخواست سماعت کے لیے دائر کی جائے اس پر فورا سماعت شروع کر دی جائے اور نواز شریف تو ویسے بھی سزا یافتہ ملزم ہیں.
انھیں جیل سے صرف چار ہفتوں کے لیے میڈیکل چیک اپ کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی. یہ ریلیف انھیں کیسے دیا گیا؟ قانونی ماہرین ہی زیادہ بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں .عام طور پر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عدالت میں جب کسی فریق کی طرف سے درخواست دائر کی جاتی ہے تو عدالت دوسرے فریق کو نوٹس جاری کرتی ہے کہ وہ بھی اپنا موقف دے. نواز شریف کیس میں نیب فریق ہے .معلوم ہوا ہے نیب وکیل عدالتی نوٹس جاری ہونے سے قبل ہی عدالت میں موجود تھے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیب وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ اگر نواز شریف عدالت آنے سے قاصر ہیں .عدالت انھیں حفاظتی ضمانتی دیتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں. حالانکہ لگ بھگ چار سال قبل نیب نے ہی نواز شریف پر اس وقت کیسز بنائے اور انہی کیسز کی بنا پر انھیں نااہل کیا گیا تھا. اب نیب نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں. اس پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی تھی اور آج صبح نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 24اکتوبر تک چھوٹ دے دی .
دوسری طرف 23اکتوبر کو یعنی آج سے تین دن بعد سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے جا رہی ہے. یعنی جوں جوں 23اکتوبر کی تاریخ نزدیک آ رہی ہے نواز شریف پر ریلیف کے دروازے کھلتے جا رہے ہیں اور تمام ریاستی ادارے جن میں نیب، احتساب عدالتیں، ملٹری لیڈر شپ ،عدالتیں اور دیگر عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہیں. سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جو اپنا چلان جمع کروایا ہے اس میں 28 گواہ شامل ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013میں ملٹری لیڈر شپ سمیت دیگر اداروں نے جس عمران خان کا ساتھ دیا تھا اور انھیں پھر 2018میں وزیراعظم بنایا تھا آج وہی ادارے عمران خان کے خلاف اور نواز شریف کے ساتھ ہیں .
اس بارے نواز شریف خود کہہ چکے ہیں کہ اگلے عام انتخابات میں ن لیگ کلین سویپ کرے گی اور ملک میں ن لیگ کی حکومت ہو گی. اس سلسلہ میں ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل عاصم منیر جب چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے تو نواز شریف سے لندن میں تین ملاقاتیں کر چکے ہیں اور ان ملاقاتوں کا حتمی نتیجہ یہی نکلا ہے کہ ن لیگ حکومت بنانے کے بعد دفاعی بجٹ سمیت دیگر فوجی معاملات میں داخل اندازی نہیں کرے گی. بجٹ پیش ہونے سے قبل فوج کی طرف سے جو ڈیمانڈ سامنے آئیں گی .انھیں بجٹ میں من وعن شامل کر دیا جائے گا اور فوج کو پابند کیا جائے کہ وہ پھر اگلے بجٹ تک کوئی ڈیمانڈ نہیں کرے گی .اس سب کہانی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو نتائج کبھی مثبت نہیں نکلے 2013میں عمران خان نے یہی سب کیا اور آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے اور آج دس سال بعد نواز شریف دوبارہ وہی کرنے جا رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی وہ متعدد بار کر چکے ہیں ایسے میں یہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا.