نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

142

تحریر:نعیم الحسن نعیم
رب ذوالجلال نے نفس انسانی کو:﴿ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ﴾ کے عمدہ ترین سانچے میں ڈھال کر، جس مقصد عظیم کے لیے پیدا کیا ہے اس کی تکمیل و تتمیم کے لیے عقل و خرد، شعور و نظر، فکر و آگہی اور احساس و ذمہ داری کا درست اور معتدل رہنا بھی انتہائی اہم اور ضروری ہے، عقل و دماغ کے کمال ہی سے دنیا آج سائنس وٹیکنالوجی کی وہ معراج طے کر رہی ہے کہ جہاں تک پہنچنے کا ماضی میں شاید کسی نے خواب تک نہ دیکھا ہوگا؛لیکن اس کے برخلاف شعور و نظر سے محرومی اور فکر و آگہی سے غفلت انسان کو ثریا سے تحت الثری تک اور عزت وعظمت سے ذلت وخواری کے بھیانک انجام تک پہنچادیتی ہے؛بلکہ اخلاق وشرافت کا جنازہ نکال کر انسانیت کو ہلاک کردیتی ہے؛یہی وجہ ہے کہ اسلام کی پاکیزہ شریعت نے عقل و خرد کو مدہوش کرنے والی، نظر و فکر کو سلب کر دینے والی تمام تر چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ شراب ہو یا چرس، ڈرگس ہو یا گانجا ،افیون ہو یا ہیروئن، تمام نشہ آور چیزوں کو اسلام نے نہ صرف حرام کہا، بلکہ شرابی و مدہوش پر کوڑوں کی سخت سزا بھی عائد کی ہے-

قوم کی ریڈھ کی ہڈی مانی جانے والی نوجوان نسل اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے تو ملک کی تقدیر سنور سکتی ہے، لیکن اگر اخلاق سوز، حیا باختہ عادات واطوار میں مبتلا ہوجائے تو وہی قوم دنیا کے نقشے پر ذلت و رسوائی کا سبب بھی بن جاتی ہے، اس وقت مجموعی اعتبار سے یہ خبریں سامنے آتی جارہی ہیں کہ نوجوان خطرناک قسم کے ڈرگس استعمال کررہے ہیں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں ٹارگٹ بناکر ڈرگس مافیا کام کررہے ہیں، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے علاج کے نام پر ڈرگس کو فروغ دے رہے ہیں، بلکہ ناکام عاشقوں کو تلاش کرکے سکون وراحت اور لائف انجوائے کے بہانے خطرناک زہریلے ڈرگس پڑیوں، انجکشن اور کیپسول کے ذریعہ نوجوانوں کی رگوں میں پیوست کررہے ہیں، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ نشہ کے عادی نوجوان نشہ کے تکمیل کے لیے چوری اور ڈکیتی کررہے ہیں، نوجوان بچیاں اپنی عصمت و عفت کا سودا کرکے نشہ کررہی ہیں، جس کے نتیجے میں گھر تباہ، خاندان برباد، طلاق کی شرح میں روز بروز اضافہ، بد اخلاقی اور بے راہ روی عام ہوتی چلی جارہی ہے ۔

نئی نسل کسی بھی ملک کی معاشی،تعلیمی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقی میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتی ہے۔کہتے ہیں کہ جوانی وہ عرصہٴ حیات ہے؛ جس میں اِنسان کے قویٰ مضبوط اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں۔ایک باہمت جوان پہاڑوں سے ٹکرانے،طوفانوں کا رخ موڑنے اور آندھیوں سے مقابلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے. ہم اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے، اس میں ہر طبقے کے بچّے شامل ہوتے تھے، ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت،دوڑ دھوپ اورمقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے؛مگر افسوس کہ آج ہمارے نوجوان جہد و عمل سے کوسوں دور انٹرنیٹ اور منشیات کے خوف ناک حصار میں جکڑے ہوئے ہیں،انھیں اپنے تابناک مستقبل کی کوئی فکر نہیں،وہ اپنی متاع حیات سے بے پرواہ ہوکر تیزگامی کے ساتھ نشہ جیسے زہر ہلاہل کو قند سمجھ رہے ہیں اور ہلاکت و بربادی کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔اب تو سگریٹ وشراب نوشی کی وجہ مجبوری یا ڈپریشن نہیں ہے.

بل کہ ہم عصروں اور دوستوں کو دیکھ کر دل میں انگڑائی لینے والا جذبہٴ شوق ہے،جو نوجوانوں کو تباہ وبرباد،ان کے زندگی کو تاریک واندھیر او ر ان کی جوانی کوبہ تدریج کھوکھلا کرتاجارہاہے۔دوسروں کی دیکھا دیکھی ایک دو بارنشہ استعمال کرنے والا فرد کچھ عرصے بعد یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اسے نشہ ہر حال میں استعمال کرنا ہے پھر وہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس کی تلاش، خرید اور استعمال میں صرف کردیتا ہے اور چاہ کر بھی اس عمل کو روک نہیں سکتا چاہے اس کی زندگی کے اہم معاملات (خاندان، اسکول، کام) بھی اس کی وجہ سے متاثر ہورہے ہوں.ماہرین کے نزدیک نشے کی عادت کا تعلق اس ماحول سے ہے جس میں کوئی انسان پرورش پاتا ہے۔ ان مادوں کا اولین استعمال دوستوں یاروں کی محفل سے شروع ہوتا ہے اور جلد ہی دماغ ان کے اثرات کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور جسم کے لیے اسے ضروری قرار دے دیتا ہے۔جب نشہ میسر نہ آئے تو دماغ توازن بر قرار نہیں رکھ پاتا، تاوقتیکہ اسے نشہ میسر نہ ہو جائے۔محققین کے نزدیک منشیات سے انسانی جسم میں ایک دائمی خرابی پیدا ہو جاتی ہے، جو نشہ چھوڑنے کی کوشش میں رکاوٹ کھڑی کرتے ہوئے اس کی طلب کو برقرار رکھتی ہے۔

انسان اپنے دنیاوی دکھوں اور مسائل سے فرار ہوتے ہوئے سر مست رہنا چاہتا ہے۔ ایسے میں نشہ ہی ایک ایسی راہ فرار ہے، جس سے وقتی طور پر سب پریشانیوں سے نجات مل جاتی ہے۔ منشیات میں سب سے قدیم شے شراب ہے، جس کا ذکر مختلف آسمانی کتابوں میں بھی آیا ہے۔ تمام قدیم تہذیبوں میں شراب کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان بطور فیشن شراب، چرس اور کوکین وغیرہ کا استعمال کر رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں آئس، کرسٹل اور نت نئے نشوں کا استعمال لڑکے لڑکیوں دونوں میں بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس وقت منشیات استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 70 لاکھ کے قریب ہے، جن میں اکثریت نو جوانوں کی ہے۔آئے روز اخبارات اور میڈیا کے دیگر ذرائع میں رپورٹ ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس رجحان میں کسی صنف کی بھی تخصیص نہیں ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہیروئین کا سالانہ استعمال امریکہ کی نسبت تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

منشیات کے باعث ہونے والی سالانہ اموات کی تعداد بھی 700 سے تجاوز کر چکی ہے۔یعنی ملک میں روزانہ دو افراد نشے کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ نشے کے باعث ہونے والی اموات کی یہ تعداد ٹریفک حادثات کے بعد سب سے زیادہ ہے۔شیشہ پینا اب مخلوط محفلوں میں فیشن بن چکا ہے۔ لڑکیوں میں بھی شیشے کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔ گو کہ حکومت نے اس پہ پابندی لگا رکھی ہے، مگر یہ سب ایک عام سی پان، سگریٹ کی دکان سے بھی اب با آسانی دست یاب ہو جاتا ہے۔ جس کی دسترس جہاں تک ہے، وہ اس حساب سے منشیات کا استعمال کرتا ہے۔ متوسط طبقے کے نوجوان اگر فارماسوٹیکل ڈرگز پر انحصار کرنے لگے ہیں، جن میں مختلف قسم کی ادویات کو بہ طور نشہ استعمال کیا جاتا ہے تو بالائی طبقے کے افراد میں کرسٹل، ہیروئین اور کوکین کے ساتھ کیمیکل ڈرگز کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔تعلیمی اداروں میں جہاں اس ملک کے مستقبل کے معمار تیار ہوتے ہیں، وہاں منشیات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ پوری دنیا میں اس بات پہ زور دیا جاتا ہے کہ نو جوان نسل کو منشیات سے دور رکھا جائے کیوں کہ اس سے ان کی قدرتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے کےحالات ایسے ہیں جیسے بظاہر دروازے کی لکڑی اپنے رنگ و روغن کے ساتھ خوب صورت نظر آ رہی ہے ،مگر دیمک نے اسے اندر سے کھا کر کھوکھلا کر دیا ہے، اسے جب بھی جھٹکا لگے تو وہ بھوسے کی مانند نیچے آگرے گا، بالکل اسی طرح ہمارا معاشرہ بظاہر خوب صورت چمکتا دمکتا تو نظر آ رہا ہے، مگر یہ اندر سے اخلاقی بے راہ روی، بے حیائی، عیاشی، جھوٹ فراڈ، زنا، چوری حسد بغض بد دیانتی کا تو ویسے ہی شکار ہے لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو نوجوان نسل میں نشہ آور اشیاءکا استعمال ہے۔ جو بتدریج بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، جس نے بہت سے نوجوانوں کو اس کا عادی بنا کرتباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ملک و قوم کا مستقبل‘ ہمارے نوجوان منشیات اور جرائم کی دلدل میں دھنس رہے ہیں اور ریاستی ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک نشہ باز کو تو منشیات بقدرِ ضرورت میسر آجاتی ہے، مگر ریاستی ادارے منشیات فروشوں کا کھوج لگانے میں ناکام رہتے ہیں.
نوجوان دوستو! اگر آپ میں سے جو کوئی بھی نشے کے عادی ہو چکے ہیں، واپس اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں .

اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔ اپنی مدد کے لیے اپنے والدین ، بہن بھائیوں کو آگاہ کیجیے۔ ان دوستوں کو چھوڑ دیجیے جنہوں نے آپ کو اس دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہ دوست نما دشمن ہیں، جنہوں نے آپ کی دنیا آپ کا مستقبل برباد کر دیا.نئی نسل معاشرتی ردعمل اور درست رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے نشے کو اپنا رہی ہے۔ جب تک منشیات کے بڑھنے کے اسباب و محرکات کو ختم نہیں کیا جاتا، تب تک اس کے خاتمے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔نوجوانوں میں منشیات کو کم کرنے کے لیے سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ اور حکومت کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تا کہ مل جل کر آنے والے کل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اگر ہم نے بحیثیت والدین اور قوم اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو کل خطرناک نتائج کو بھگتنے کے لیے قوم کو تیار رہنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں