نوجوان قیادت، روشن مستقبل مظفرآباد جاب فیسٹیول خواب سے تعبیر تک

77

تحریر: محمد بشارت مغل
محفوظ پاکستان / کشمیر، خوشحال آزاد کشمیر، متحد پاکستان

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد نے اس ہفتے ثابت کیا کہ جب قیادت نوجوان ہو اور وژن قومی ہو، تو ریاست امید کا مرکز بن جاتی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس جلال آباد میں سجنے والا دو روزہ جاب فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں تھا . یہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے “چاغی-2” کا اعلان تھا۔ معاشی خودمختاری کی طرف پہلا قدم۔

1. نوجوان قیادت: فائلوں سے میدان تک
افتتاح وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کیا۔ وزیر اعظم کی سرپرستی میں مشیر کھیل، امورِ نوجوانان و ثقافت سردار احمد صغیر نے نوجوانوں کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ محکمہ سپورٹس، یوتھ اینڈ کلچر کے زیرِ اہتمام یہ فیسٹیول سردار احمد صغیر کی شب و روز محنت کا ثمر تھا۔ انہوں نے سرکاری و نجی اداروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں، آئی ٹی ہاؤسز اور تعلیمی کنسلٹنٹس کو ایک چھت تلے جمع کر دیا۔ یہی آزاد کشمیر کا قومی بیانیہ ہے: “ریاست سہارا دے، نوجوان سفر کرے۔” جب فیصلہ ساز خود نوجوان کا درد رکھتا ہو، تو پالیسی کاغذ سے نکل کر میدان میں آ جاتی ہے۔

2. معرکۂ حق کی گونج: وردی سے والہانہ عشق محفوظ پاکستان / کشمیر
معرکۂ حق میں پاکستان کی شاندار کامیابی کے بعد فیسٹیول کا رنگ ہی بدل گیا تھا۔ پاک ائیر فورس، پاک نیوی اور آزاد کشمیر پولیس کے سٹالز مرکزِ نگاہ رہے۔ ہر چہرے پر فخر اور ہر دل میں پاک فوج سے والہانہ محبت کا جذبہ موجزن تھا۔پاکستان آرمی کے آفیسرز کی آمد پر نوجوانوں کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ آفیسرز نے جملہ سٹالز کا وزٹ کیا، نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ وردی والوں کے گرد آزاد کشمیر کے نوجوانوں کا ہجوم اس بات کا اعلان تھا: “یہ قوم اپنے محافظوں سے بےلوث عشق کرتی ہے۔

معرکۂ حق کی فتح نے نوجوان نسل کے دلوں میں افواجِ پاکستان کے لیے عقیدت کو اور گہرا کر دیا۔ بھرتی مراکز پر لگی قطاریں اس عزم کا اظہار تھیں: “وطن کی حفاظت کے لیے ہم ہر لمحہ تیار ہیں۔” یہی ہے “محفوظ پاکستان / کشمیر” کا بیانیہ عوام اور فوج، ایک جان۔ سرحد پر فوج کھڑی ہے، تبھی یہاں جاب فیسٹیول سجتا ہے۔
وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور مشیر کھیل سردار احمد صغیر نے بھی ان سٹالز کا خصوصی دورہ کیا۔ وزیر اعظم کا کشمیری ثقافتی کھانوں کے سٹالز پر رکنا پیغام تھا: “ترقی اپنی جڑوں سے کٹ کر نہیں ہوتی۔”

3. وردی، ویزا اور وژن: ایک چھت تلے نیا پاکستان
فیسٹیول نے تین دروازے ایک ساتھ کھولے:
وردی: افواج اور پولیس میں بھرتی۔ دفاعِ وطن۔
ویزا: تعلیمی کنسلٹنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک تعلیم۔ عالمی مقابلہ۔
وژن: آئی ٹی، سیاحت، صحت، کاروبار۔ معاشی خودمختاری۔

مشیر کھیل سردار احمد صغیر کا اعلان تھا: “ہمارا نوجوان نوکری مانگنے نہیں، موقع بنانے آیا ہے۔” کیریئر پلاننگ سیشنز نے واضح کیا: F-16 کا پائلٹ بھی ہیرو ہے اور فری لانسنگ سے زرمبادلہ کمانے والا بھی۔ دونوں “خوشحال آزاد کشمیر” کے سپاہی ہیں۔یہاں CVs جمع ہوئیں، آن اسپاٹ انٹرویوز ہوئے، مگر سب سے بڑھ کر یہ اعتماد پیدا ہوا کہ آزاد کشمیر کا اصل سرمایہ گلیشیئر نہیں، گریجوئیٹس ہیں۔

4. عالمی بیانیہ، مقامی قیادت
دنیا آج Skill-Based Economy کی بات کر رہی ہے۔ مظفرآباد جاب فیسٹیول نے ثابت کیا کہ جب سردار احمد صغیر جیسی نوجوان قیادت میدان میں ہو، تو پہاڑوں میں گھری ریاست بھی عالمی بیانیے کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہ فیسٹیول بین الاقوامی سرمایہ کار کے لیے پیغام ہے: “آزاد کشمیر کی قیادت خود نوجوان ہے، اس لیے نوجوان کا خواب اور درد دونوں سمجھتی ہے۔ سوچ جو باقی رہے گی.

سٹالز سمٹ جائیں گے، بینرز اتر جائیں گے، مگر وزیر اعظم کی سرپرستی اور سردار احمد صغیر کی متحرک قیادت میں جو سوچ پروان چڑھی — وہ دیر تک وادی کی فضاؤں میں گونجے گی: “ریاست راستہ بنائے، نوجوان منزل کرے۔معرکۂ حق کی فتح کے بعد افواجِ پاکستان سے محبت کا یہ والہانہ منظر اور پاکستان آرمی کے آفیسرز کی آمد نے ثابت کر دیا: آزاد کشمیر کی قوم متحد ہے، بیدار ہے۔ دفاع مضبوط ہے، تو معیشت بھی مضبوط ہو گی۔

1947 میں ہم نے آزادی لی۔ 1998 میں دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔ 2026 میں معیشت ناقابلِ تسخیر بنانی ہے۔ قومیں امداد سے نہیں، اعتماد اور اتحاد سے بنتی ہیں۔ مظفرآباد نے اپنے نوجوان پر اعتماد کر دیا ہے۔

محفوظ پاکستان / کشمیر — افواج کی وجہ سے۔
آزاد کشمیر خوشحال ہو گا — نوجوان کی وجہ سے۔
پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں