تحریر: اظہر اعجاز
کشمیر کی تحریک آزادی میں نیلابٹ ایک اہم جزو ہے. جہاں سے جہاد آزادی کا سلسلہ شروع ہوا اور اسکے بعد پھر مختلف جگہوں سے تحریک چلی . یہ اثر گلگت بلتستان تک جا پہنچا اور کرنل حسن مرزا کی قیادت میں گلگت آزاد ہوا لیکن جناب مجاہداول کی قیادت میں یہ شروعات نیلابٹ پونچھ سیکٹر سے ہوئی. مجاہداول اس وقت کے نوجوان عسکری لیدڑ تھے جو ڈوگرہ کے خلاف اس مزاحمت کی کمانڈ کر رہے تھے .
اسی سلسلے میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام ہر سال یوم نیلابٹ کے نام سے تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے عین اسی جگہ جہاں پر مجاہدین تحریک کی میٹنگ ہوئی تھی جو کہ بعدازاں جلسہ کی شکل اختیار کرگئی تھی. اسی جگہ پر مسلم کانفرنس کی میزبانی میں پروگرام ہوتا ہے.یہ پروگرام منفرد پروگرام اس لیے تھا کہ اس میں کچھ عنصر ایسے پائے جاتے تھے جس کا زیر بحث لانا بھی ضروری ہے .بہرحال یہ ایک منفرد اپنی نوعیت کا مسلم کانفرنس کا جنونی جذباتی نظریاتی فکر ی پروگرام تھا. جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے .
مرد وخواتین ،بچے ،بوڑھے، سیاسی کارکن، دانشور، صحافی ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس میں شامل تھے اور مجموعی خالص مسلم کانفرنس یا مسلم کانفرنس کا نظریہ رکھنے والے لوگ جن کا عقیدہ ایمان نظریہ پاکستان اور پاکستان کی فورسز سے اظہار یکجہتی رہتا ہے یہ ان لوگوں کا پروگرام تھا.یہ پروگرام سفید پوش سیاسی کارکن جنہوں نے اپنی جیب سے گاڑی کی. اپنی روٹی کھائی. اپنا اخبار لیا اور اپنا سٹیکر لگا کر جلسے میں پہنچے. اس میں نہ بیرونی فنڈنگ نہ اندرونی فنڈنگ اور نہ ہی کوئی گپ شپ بلکہ یہ ریاست کی سواد اعظم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے کارکنوں کا پروگرام تھا.
قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان جو کہ ریاست میں ایک منفرد حیثیت کی حامل شخصیت ہیں اور اپنا مزاج اور اپنا ایک کردار رکھتے ہیں. انکی بات نظریاتی اور فکر دور اندیش سوچ کے مطابق ہوتی ہے .انکا یہ پیغام کے پاکستان اور پاکستانی پرچم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا. اسکا کل کے جلسے نے فیصلہ کر دیا کہ کارکنان آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کسی صورت نظریہ الحاق پاکستان اور کشمیر بنے گا پاکستان پر سمجھوتہ نہیں کریں گے بلکہ اس قوم کو کسی گمراہی کا شکار بھی نہیں ہونے دیں گے.
سردار عتیق صاحب کے خطاب میں وہ تصویر موجود تھی جو کہ ایک لکھنے اور پڑھنے والے کے لیے بہت ساری اہم باتیں تھیں جہاں جہاد آزادی کے نقطہ آغاز کی اہمیت پر انہوں نے بات کی وہاں ہی انہوں نے ملت اسلامیہ پاکستان کو ایٹمی طاقت کے اعلان پر اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کیا. جنہوں نے مجاہداول کے کنہے پر نیلابٹ کی چوٹی سے ایٹمی قوت کا اعلان کیا.
فیلڈ مارشل ایوب خان کی وہ بات دہرائی جو انہوں نے مظفرآباد کشمیریوں سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کی کوئی سیاسی حکومت کشمیریوں کو چھوڑ سکتی ہے لیکن میں کمانڈر انچیف ایوب خان یہ اعلان کرتا ہوں کہ افواج پاکستان کسی صورت کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی .انہوں نے جنرل یحییٰ خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنرل یحییٰ خان نے باوجود اختلاف تلخی و ترشی کے اس نے آزاد کشمیر کو ایکٹ 70 دیا اور کشمیر میں غیر جانبدار انتخابات کرائے .
ہم اسکی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں. ساتھ ہی سردار عتیق احمد خان صاحب کا کہنا تھا کہ کمانڈر انچیف صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کشمیریوں کے لیڈر سردار عبدالقیوم خان کو اپنا مرشد تسلیم کیا اور اعلان کیا کہ کشمیریوں یاد رکھو اگر ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کی اور کسی جماعت کی رکنیت لی تو میں کشمیریوں کی سواد اعظم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا رکن بنوں گا جس کے صدر مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان ہیں.
جنرل پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے سردار صاحب نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے معاملے میں مخلص تھے. انہوں نے آرپار کشمیریوں کی ملاقاتیں کروائیں. آزاد کشمیر اور سرینگر کے درمیان بس سروس شروع کرائی اور کشمیریوں کو آپس میں ملنے کا موقع دیا .کشمیر کے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا. آزاد کشمیر سے صدارتی قومی کشمیر کمیٹی کا چیئر مین مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب کو چنا. کشمیریوں کی کانفرنسز کرائیں.
بین الاقوامی دورے کرائے. انکی کشمیر پالیسی واضح تھی. آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں کشمیریوں کی معاونت کی اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی اور ریاستی ڈھانچہ قائم کرنے پر حکومت آزاد کشمیر کی بے پناہ مدد کی .سردار عتیق احمد خان صاحب نے کارکنان مسلم کانفرنس کو بھرپور انداز سے کشمیر بنے گا پاکستان ریلی میں شرکت پر بھی شکریہ ادا کیا اور انکے جذبے اور استقامت کو سراہتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ دیا کہ کارکنان مسلم کانفرنس ریاست پاکستان کے بلا تنخواہ سپاہی ہیں اور اپنی کمٹمنٹ سے ثابت کر رہے ہیں کہ انکے جذبات کو پاکستان کا نہ کوئی سیاستدان اور نہ کوئی بیوروکریٹ کم کر سکتا ہے.
جس نے جتنا کیا کم نہیں کیا .مسلم کانفرنس کو دیوار کے ساتھ لگانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن مسلم کانفرنس آج بھی وہاں ہی کھڑی ہے.باوجود شکایات تحفظات کے جہاں 19 جولائی 1947 کو کھڑی تھی یا پھر جہاں سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب نے کھڑی کی تھی مطلب نظریہ الحاق پاکستان.
یہ جلسہ خالصتآ نظریاتی جلسہ تھا .جس میں نظریہ کی بات ہوئی کیونکہ مسلم کانفرنس کی 19 جولائی کی قرارداد الحاق پاکستان ہے تو مسلم کانفرنس اسی مینڈیٹ کے تحت بات کرتی ہے اور اسی ڈومین میں رہتی ہے .کارکنان مسلم کانفرنس کا یہ جلسہ بھرپور نظم وضبط جو کہ مجاہداول اکثر کہا کرتے تھے کہ نظم ضبط قائم رکھو کل درمیان میں باران رحمت شروع ہو گئی لیکن کارکنان مسلم کانفرنس نے برداشت کیا اور نوجوان رہنما سردار عثمان علی خان سمیت پنڈال میں لوگ بھیگتے رہے لیکن نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے رہے.
کشمیر کی تحریک میں جن لوگوں نے حصہ لیا کل انکی اولادوں کا جم گٹھ تھا اور تجدید عہد تھا کہ جو کام ہمارے آباواجداد نےہمارے ذمےلگا یاتھا. اس پر مکمل پہرا ہے اور پاکستان کی تکیمل تک یہ جاری رہے گا.آزاد کشمیر آزادی کا بیس کیمپ اور اس بیس کیمپ کو قائم کرنے میں مسلم کانفرنس کا اہم کردار ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا. آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا یہی کارنامہ ہے جس کی وجہ سے آج ریاست کا باشندہ پاکستان کی بات کرتا ہے. مقبوضہ کشمیر کے اندر پاکستان کے جھنڈے میں سینکڑوں نوجوان شہید ہو رہے ہیں یہ کو معمولی بات نہیں اسکے پیچھے ایک مقصد ہے اور وہ مقصد کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے جس کا اعلان کشمیریوں نے پاکستان بننے سے 23 دن پہلے کیا تھا جو کہ آج بھی کرتے ہیں.
کشمیر بنے گا پاکستان