پشتو کہا وت ہے کہ”ہر بندے کے لئے اپنا وطن کشمیر ہے”۔ یعنی کشمیر کا دوسرا تعارف ہی حسن ہے۔ بلا شبہ یہ روئے زمین پر قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ اسکی دلفریب وادیوں، کوہساروں، جھیلوں، جھرنوں اور جنگلوں کا پورا عالم گرویدہ ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر سے منسوب یہ شعر اس کے حسن کی تعریف میں بصورتِ ضرب المثل موجود ہے کہ۔
گر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
بیرونی تسلط، جبر، غدر، تقسیم اور صدیوں پر محیط مظلومیت کے باوجود اسکا حسن کبھی ماند نہ پڑا اور ہر زمانے میں دنیا کے شرق و غرب سے آنے والے سیاح، محققین، شاعر و ادیب حتیٰ کہ اس پر ہوئے قابضین بھی اسکے حسن کے اسیر ہوئے۔ سخت موسموں اور مشکل ترین پہاڑی راستوں کے باوجود مغل بادشاہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تواطر کے ساتھ کشمیر آتے اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ انھوں نے جتنے باغات کشمیر میں بنوائے اتنے پورے ہندوستان میں نہ بنائے گئے۔ ریاست مظلومہ کا ہر خطہ، ہر علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اگرچہ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ علاقہ میں دہائیاں پہلے سے سیاحت کو فروغ اور ایک بڑی صنعت کی حیثیت حاصل ہے مگر اس سے ہرگز یہ تاثر نہیں لیا جاسکتا کہ آزاد کشمیر اس دولتِ حسن سے محروم ہے۔ آزاد کشمیر کے تینوں ڈویثنز میں متعدد علاقے ہیں جو بے حد خوبصورت ہیں۔ وادی نیلم سمیت اب ان میں سے کئی علاقے سیاحوں کی دلچسپی کے دائرے میں آ چکے ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے جس تیزی سے ان علاقوں میں سیاحوں کے آنے کی شرح بڑھ رہی ہے وہ پاکستان کے دیگراور نسبتا معروف علاقوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے تاہم ابھی بھی افسانوی حسن کے حامل آزاد خطے کے بیشتر علاقے ایسے ہیں جن میں سیاحت کی بھرپور صلاحیت تو موجود ہے البتہ چشم عالم کی ذد میں آنا باقی ہیں۔ انہی میں ضلع حویلی کا ایک علاقہ نیل فیری ہے جو اپنے حسن سے طلسماتی اثر قائم کرتا ہے۔ کشمیری زبان میں “زون ڈب” اس دالان کو کہا جاتا ہے جو پرانے وقتوں میں مکانات کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہوا کرتا تھا۔ دوسری اور اس سے اگلی منازل پہ بنی یہ “زون ڈب” بڑے کام کی ہوا کرتی تھیں۔ زون چاند کو اور ڈب بیٹھنے کی اونچی جگہ یا تختے کو کہتے ہیں۔ کشمیری عورتیں بطور خاص” زون ڈب” پر بیٹھ کر بناؤ سنگھار، دستکاری اورسبزیوں کو سکھانے کے لئے انھیں پرویا کرتی اور دیگر کام انجام دیا کرتی تھیں۔ اور خاص بات یہ کہ اپنے نام کے مطابق “زون ڈب” غروب آفتاب اورچاند کے نظارے کا بہترین موقع فراہم کیا کرتی تھیں۔ نیل فیری بھی اپنی نوعیت میں حویلی کی “زون ڈب” ہے جو غروب آفتاب اورچاند کے نظارے کے ساتھ ساتھ آسمان کو چھونے کا احساس پیدا کرنے والا بے مثل مقام ہے۔
نیل فیری کی پیشکش
اگر آپ خواہش رکھتے ہیں کہ آپ، حتیٰ کہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھی، زمینی سطح پر نیلگوں آسمان کو چھونے کا سا احساس پالیں، سبزے کا وسیع مخملیں قالین آپکے قدموں تلے بچھا ہوا ہو، آپ کے اطراف میں پہاڑیاں اپنی آٹھ ،نو ہزار فٹ بلند ی کے غرور کے باوجود آپکی قدم بوسی کررہی ہوں، جنگلوں کے درخت کسی بادشاہ کی وفادار فوجکی طرح آپکی نگاہوں کے نیچے سرخم کئے استادہ ہوں، سامنے کے برف زار آپکے شوق و ذوق کو داد دے رہے ہوں، ایک جھیل مغل بادشاہ کی کسی کنیز کی طرح آپکے لئے آئینہ لئے بیٹھی ہو اور بل کھاتے سبزہ زار، ٹیلے،جھرنے، روح افزاء ہوا اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والے نظارے آپکا استقبال کررہے ہوں تو جناب آپکو جان جوکھوں میں ڈال کر، لاکھوں کے خرچے اور ہفتوں مہینوں کا قیمتی وقت صرف کرنے اور انسان کی عمومی بساط سے باہرنکل کرہمالہ، کے ٹو، نانگا پربت وغیرہ جانے کی ضرورت نہیں، نیل فیری کی زمینی بالکونی اپنی تمام تر دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ آپکو آنے کی دعوت دے رہی اور آسمان کو چھونے کا احساس دلانے کی پیشکش کررہی ہے۔
تعارف و محل وقوع
نیل فیری آزاد کشمیر کی تین انتظامی ڈویثنز میں سے ایک پونچھ ڈویژن کی ضلع حویلی(فاروڈ کہوٹہ) کے شمال مشرق میں15 کلو میڑ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تہذیب و ثقافت اور جغرافیائی ودفاعی حیثیت کے اعتبار سے یہ ضلع کافی پرانی اور بڑی شاندار تاریخ رکھتا ہے البتہ ضلعی حیثیت کے اعتبار سے یہ آزاد کشمیر کی باقی ماندہ 9 اضلاع میں سب سے کم عمر انتظامی اور جنوبی آزاد کشمیر کے علاقوں باغ، راولاکوٹ، عباس پور، ہجیرہ وغیرہ کے مقابلہ میں بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے قدرے پسماندہ علاقہ ہے۔ اسےجولائی 2009 میں تحصیل سے ضلع کا درجہ حاصل ہوا اور اس کا صدر مقام فارورڈ کہوٹہ کو ٹھہرایا گیا۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق حویلی کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز ہے۔ علاقے کے 65 فی صد لوگ پہاڑی، 30 فی صد گوجری، اور پانچ فی صد کشمیری زبان بولتے ہیں۔
1947 میں تقسیم سے قبل ریاست جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان یہ علاقہ مغل بادشاہوں، ڈوگرہ راجاؤں اور تاجروں کے لئے ایک آسان گذر گاہ کے طور پر اپنی اہمیت رکھتا تھا۔ ضلع کے شمال کی طرف قریبا 20 کلو میڑدورعلی آباد حاجی پیر شاہراہ پر قائم رانی باغ آج بھی اس علاقہ کی جغرافیائی اہمیت کی گواہی دیتا ہے۔حویلی کے شمال و شمال مشرق میں بارہمولہ ، جنوب وجنوب مشرق میں مقبوضہ پونچھ اور مغرب میں باغ کے اضلاع پڑتے ہیں۔ تقسیم کے بعد اس ضلع کی جغرافیائی صورت Horse Shoe کے جیسی بن گئی۔ یہ کنٹرول لائن کے پاس پڑنے والے آزاد کشمیر کے باقی علاقوں کے مقابلہ میں واحد علاقہ ہے جو بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے قریبا 30 کلو میڑ اندر تک پھیلا ہوا ہے۔اس کے تین اطراف میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہیں، دائیں سمت میں پونچھ شہراور ملحقہ وادیاں، سامنے پیر پنجال کی فلک بوس چوٹیاں، اور بائیں جانب اوڑی واقع ہیں۔ان تینوں اطراف میں قابض بھارتی فوج اپنی تمام تر ستم سامانیوں کے ساتھ بیٹھی ہے جس نے 2003 میں سیز فائر سے پہلے ایک دہائی تک اس علاقہ کے لوگوں کوبڑے پیمانے پرجانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا۔
نیل فری سطح سمندر سے کوئی 9300 فٹ بلند نہایت خوبصورت چراگاہ یا Meadowہے جہاں صدیوں سے گجر اور بکر وال گرمیوں میں اپنے مال مویشی چراتے چلے آرہے ہیں۔ اسکی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے جغرافیائی و دفاعی اہمیت کے حامل مختلف علاقے نظرآتے ہیں۔ جہاں ایک طرف برف پوش و فلک بوس پیر پنجال کی چوٹیاں نظر آتی ہیں، دوسری جانب نیزہ پیر، چاند ٹیکری، قبروں والی ڈھیری، شیرو ڈھارہ، بسالی، اور محمود گلی کی بلندیاں اپنی آب و تاب کے ساتھ سر اٹھائے دعوت نظارہ دیتی ہیں، تیسری طرف وادی نیلم کے کیرن اور حویلی کی سب سے اونچی 12,228 فٹ قد کے ساتھ کھڑی بے ڈوری کی چوٹیاں اپنی شان اور طلسماتی حسن کو منوارہی ہوتی ہیں اور نشیب میں نو دس ہزار فٹ نظر دوڑائیں تو دل کو موہ لینے والے جنگل، سر سبز ڈھلوانیں، جھرنے اور وادیاں آپکی ہمت، فطرت سے محبت اور شوق کو داد تحسین دے رہی ہوتی ہیں۔
نیل فیری میں ایک چھوٹی سی جھیل ہے ۔ ویسے تو اسے جھیل کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ دراصل آس پاس کی چوٹیوں سے پگھلی ہوئی برف کےپانی سے بنا ایک بڑا سا تالاب یا جوہڑ ہے جو وہاں چرنے والے مویشیوں کی پیاس بجھانے کے کام آتا ہے۔ مگر جب نیلگوں آسمان اس میں اپنا عکس اتارتا ہے تو پریوں والی داستانیں حقیقت کا احساس دلاتی ہیں۔
نام کا ممکنہ ماخذ
یہ تاحال ایک سربستہ راز ہے کہ اس خوبصورت چوٹی کو نیل فیری کیوں کہا جاتا ہے۔ قیاس سے کام لیکر یہ اخذ یا محسوس کیا جاتا ہے کہ یہ بطور تلمیع استعمال ہونے والے افسانوی کردار نیل پری یا نیلم پری سے ماخوذ ہے حسین نیلے رنگ کی پری اور”اندر سبھا “میں راجا اندر کی محبوبہ جس کے پروں میں نیلم اور جواہر جڑے ہوتے تھے۔ یہ کردار لوک اور بچوں کی کہانیوں میں بھی مستعمل ہے۔مثلا بچوں کی ایک کہانی میں نیلم پری اس خاصیت کی حامل تھی کہ وہ جب اڑتی تو اس کے سات رنگوں کا عکس آسمان پرجاتا جودیکھنے میں بہت پیارا لگتا ۔ پھروہ اپنے رنگ ہمیشہ کے لئے آسمان پر چھوڑ گئی جو بعدازاں بارش کے بعد اکثر نمودار ہونے والے رنگ” قوس قزح “ بن گئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے مقامی سطح پر کثرت سے پائے جانے والے پھول ” نیلوفر” پر رکھا گیا ہے۔
نیلم پری یا نیل پری کے لفظ کو اقبال و فیض نے بھی اپنے اشعار میں استعمال کیا۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب
تُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری (اقبال)
برکھا برسے چھت پر میں تیرے سپنے دیکھوں
برف گرے پربت پر میں تیرے سپنے دیکھوں
صبح کی نیل پری میں تیرے سپنے دیکھوں
کوئل دھوم مچائے میں تیرے سپنے دیکھوں(فیض)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ افسانوی کردار یا لفظ اس خطے تک ہی محدود نہیں بلکہ اسکے خیالی حسن نے فارس و ترک حتیٰ کہ انگلستان تک اپنی چھاپ قائم کی ہوئی ہے۔ ترکی کی ایک مشہور اداکارہ کا نام نیل پری شاهین کایا ہے اسی طرح برطانیہ کے ایک سابق معروف فٹبالر کا نام بھی نیل پیری ہے۔ 1952 میں بالی وڈ میں اسی نام پر فلم بھی بنی۔ نیل فیری جو نظارے پیش کرتا ہے وہ نیلم پری یا نیل پری کے اسی افسانوی کردار کے تاثر کو پوری طرح ابھارتے ہیں۔
رسائی
سڑک کی خستگی کے باعث پہلے اسلام آباد سے فارورڈ کہوٹہ کا سفر خاصا دشوار ہوتا تھا تاہم اب ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے آزاد پتن سے لے کر فارورڈ کہوٹہ تک بہترین سڑک تعمیر ہوچکی ہے جس کی بدولت 200 کلومیٹر کا یہ سفر آٹھ گھنٹوں کی بجائے اب پانچ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ ضلع صدر مقام حویلی(فاروڑ کہوٹہ) سے نیل فیری تک صرف15 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک نیل فیری براستہ ہالن شمالی،جبی سیداں اور سند گلہ بذریعہ جیپ جانا اور وہاں سے کوئی تین گھنٹے کی چڑھائی چڑھنا پڑتا تھا۔ مگر اب نیل فری کے قریب تک جیپ ٹریک ہالن جنوبی ، بساہاں اور سکیاں ڈھوک کی جانب سے بنا دیا گیا ہے جو قدرے سہل اور کم فاصلہ کا ہے۔
تصور کیجئے کہ آپ آسمان کو چھونے، پریوں کی کہانیوں کی حقیقت کا احساس لینے اور جغرافیائی اہمیت کے کئی علاقے دکھانے والی ایک ایسی چوٹی پر پہنچ رہے ہیں جوضلع صدر مقام سے صرف15 اور دارالحکومت سے صرف200 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے تو آپ جیسا خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے؟ اگر آج لوگ 1300 سی سی گاڑیوں اور 70 سی سی موٹر بائیکس پر نیل فیری کے دامن تک پہنچ سکتے ہیں تو پورے اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ عنقریب آپ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ 600 سی سی گاڑی میں بیٹھ کر چوٹی کے ایک تہائی تک پہنچ سکتے ہیں اور یوں اسلام آباد سے ایک دن میں نیم مہم جوئی نما اس زبردست تفریح کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
سیاحت کا فروغ
ضلع حویلی سیاحت کے لئے قدرتی جنت ہے۔ نیل فری کے علاوہ حاجی پیر، شیرو ڈھارا ،بھیدی، علی آباد، ریجی، ہلاں، کالا ملہ، غزن میڈوز، پھالہ آبشار، ملیاڑی راک، قبروں والی ڈھیری، سنکھ، سری ڈھوک، کٹھناڑ، پرلی کتھنار، تھکڑ، لس ڈنہ، محمود گلی، چڑی کوٹ اور خورشید آباد وغیرہ ایسے علاقے ہیں جو سیاحت کے فروغ کے متقاضی ہیں۔ چڑی کوٹ سے مقبوضہ پونچھ کا شہر سامنے دکھائی دیتا ہے۔ رات کے وقت اونچی جگہ سے لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ لگائی گئی باڑ کی روشنیاں بھی واضح دکھائی دیتی ہیں جو اگرچہ جگر پر چیرہ لگنے کےجیسے ہے تاہم دیکھنے کی دلچسپی سے بھرپور ہے۔حکومت آزاد کشمیر اور بطور خاص حویلی ضلعی انتظامیہ، سول سوسائٹی، میڈیا اور سیاسی قیادت نے جماعتی خطوط سے بالاتر ہوکر خطے میں سیاحت کے فروغ کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کیا اور 10 تا 11 جون تک نیل فیری ٹیوریزم فیسٹیول کے نام سے دو روزہ میلے کا اہتمام کیا۔ پروگرام توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا۔ اس ضمن میں اہل علاقہ کا جذبہ دیدنی تھا۔
میلے کی کوریج کے لئے راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیری صحافیوں کی انجمن کشمیر جرنلسٹ فورم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ فورم کے 35ارکان کو مکمل طور پر سرکاری مہمان کا درجہ دیا گیا اور اسلام آباد سے سرکاری گاڑیوں میں بٹھاکر باغ، دھیر کوٹ، حویلی، نیل فیری، ہجیرہ اور راولا کوٹ کا سہ روزہ دورہ کراکے تمام سہولیات بہم پہنچائی گئیں۔ دھیر کوٹ کے تاریخی گیسٹ ہاؤس میں رات کا کھانا کھانے کے بعد وفد باغ کی طرف روانہ ہوا جہاں ڈپٹی کمشنر حمید کیانی صاحب نے میزبانی کی۔تین اضلاع کے سنگم لسڈنہ میں سیکریٹری سیاحت مدحت شہزاد نے استقبال کیا اور چائے پکوڑوں سے تواضع کی۔اسی طرح ممتاز آباد پہنچنے پر مقامی پریس کلب کے عیدیداران حماد الحسنین ،الطاف راٹھور اور عبدالغفور راٹھور نے استقبال کیا اور مقامی شربت و مٹھائی سے تواضع کی وہ نیل فیری کے پورے سفر کے ساتھ سراپا خدمت ہمارے ساتھ رہے باوجود اسکے کہ ان کے ہمارے جیسے اور مہمان بھی تھے۔بعد ازاں اراکین وفد سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر ممتاز راٹھور مرحوم کے گھر گئے جہاں انکے فرزند اور وزیر حکومت آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور ٹوریزم فیسٹول کے اہتمام کے سلسلہ میں مصروفیت کی وجہ سے موجود نہ تھے تاہم وفد نے مرحوم وزیر اعظم کے مرقد پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد کہوٹہ کی راہ لی۔کہوٹہ پہنچنے پر وفد کا استقبال ڈپٹی کمشنر حویلی چوہدری ساجد اسلم، اسسٹنٹ کمشنر شاہد احمد شاد اور دیگرنے کیا اور مقامی ہوٹل میں عشائیہ دیا۔اسکے بعد وفد نے ہائی سکول گروانڈ کہوٹہ میں منعقدہ فیسٹول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جس میں سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر ،وزیر حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور، سابق رکن اسمبلی چوہدری عزیز اور ممبر اسمبلی قاسم مجید نے شرکت کی۔
ان سمیت دیگر مقررین نے اس موقع پر آزادکشمیر میں سیاحت کو صنعت کا درجہ دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر میں سیاحت کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے تمام علاقوں کے سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے عالمی معیار کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ تقریب میں آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں اور پاکستان بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد کے علاوہ کئی ہزار مقامی لوگ بھی شامل تھے جنھیں نامور گلوکار شکیل اعوان ، بانو رحمت اور زوہیب زمان نے اپنے فن سے خوب محظوظ کیا۔ پروگرام کے اختتام پر KJF کا وفد بساہاں روانہ ہوا جہاں کی درگاہ کے گدی نشین اور سابق رکن اسمبلی سید علی رضا بخاری نے پرتکلف عشائیہ دیا ۔ وفد نے وہیں رات کا قیام کیا اور صبح ناشتہ کرنے کے بعد پیر صاحب اور انکے مریدین کی ناقابل معاوضہ مہمان نوازی کا بار لئے فیسٹول کے مرکزی مقام نیل فیری کی طرف عازم سفر ہوا۔ نیل فیری میں عجب سماں تھا۔یقینا اس مقام پر اس سے پہلے ایسا سماں کبھی نہ بندھا ہوگا۔ ہزاروں مردوزن بوڈھے بچے گاڑیوں اور بائیکس کی وجہ سے راستہ بند ہونے کے باعث کئی کئی کلومیٹر پہلے سے پیدل سفر کررہے تھےجبکہ اوپر چوٹی پر پہلے سے پہنچے ہوئے ہزاروں لوگ جہاں نظاروں سے محظوظ ہورہے تھےوہیں شکیل اعوان ، بانو رحمت اور زوہیب زمان نے اپنے لوک گیتوں اور شعراء نے اپنے اشعار سے سماں باندھا۔ موسیقی کے علاوہ ثقافتی اشیاء اور روائیتی کھانوں کے اسٹالز بھی سجائے گے تھے۔ مقامی نوجوانوں نے کشمیر کے روائتی کھیل گتکا سمیت دیگر علاقائی کھیل پیش کر کے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے جبکہ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔
اختتامی تقریب سے وزیر حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے خطاب کرتے ہوئے فیسٹول کے کامیاب انعقاد پر حکومت ضلعی انتظامیہ، پولیس، سول سوسائٹی ، میڈیا اور اہل علاقہ کی تعریف کی جنھوں نے شہر کے آس پاس کی پہاڑیوں سے بھی خواتین و بچوں کے ہمراہ ہزاروں کی تعداد میں آکر میلے کو زبردست کامیابی بخشی۔ساٹھ برس سے لیکر شیر خوار بچوں والی ماؤں کا عام زنانہ جوتیاں پہن کر نیل فیری کی چوٹی پر چڑھنا اور میلے میں رنگ بکھیرنا یقینا انکے زبردست جذبے کی عکاسی کر رہا تھا۔
اجتماعی جذبہ وعزم
جذبہ انسان کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔ صلاحیت میں کمی بھی ہو تو جذبہ اور لگن اسے پورا کردیتی ہے۔ تبدیلی اور انقلاب کا چشمہ یہیں سے پھوٹتا ہے۔ یہی جذبہ اگر اجتماعی شکل اختیار کرے اور سرکاری عہدیداراں، سیاسی عمائدین و کارکنان اور معاشرے کے تمام طبقات سے وابستہ حلقے ایک لڑی میں پروئے جائیں تو انھیں منزلوں کے حصول سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ حویلی میں سول و سرکاری امتزاج کے ساتھ اس اجتماعی جذبہ و عزم کو بدرجہ اتم موجود پایا۔ علاقہ میں فون رابطوں اور انٹرنیٹ کی مطلوبہ سہولت کے فقدان کے باوجود فیسٹول کے انعقاد کا پیغام اتنے موثر طریقہ سے دیا گیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے بھی لوگ بشمول صحافی، وی لاگر، یو ٹیوبر اور ٹریول لاگرز بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔ ایک نواجوان اٹک سے پیدل جبکہ ایک سفید ریش بزرگ سیالکوٹ سے سائکل پر پہنچے جنھیں ڈویشنل کمشنر پونچھ اوردیگر انتظامی افسران نے پھولوں کے ہار پہنائے اور مہمان نوازی کرکے انکی سراہنا کی۔
نیل فیری میں ضلعی انتظامیہ نے وفد کے اعزار میں پر تلکلف ظہرانہ دیا۔ اتنی بلندی پر کھانا تناول کرنا اپنے آپ میں ایک زبردست تجربہ تھا۔
نیل فیری کی چوٹی پر خوشگوار تکان سے بھر پور تفریح کے بعد وفد واپس حویلی پہنچا جہاں ڈپٹی کمشنر چوہدری ساجد اسلم نے الوداعی ملاقات دی۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ضلع میں بٹالن اور بلاں آبشار نامی سیاحت کے حامل خوبصورت مقامات بھی ہیں اور مستقبل قریب میں ان کےہاں سیاحت کے فروغ کے لئے بھی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔یہاں انکے جذبہ کی تعریف یا کم از کم ذکرنہ کرنا حق تلفی کے مترادف ہوگا کہ موصوف نےحویلی شہر سے لیکر نیل فری کی چوٹی تک دس ہزار لوگوں کی شرکت کے حامل اپنی نوعیت اور تاریخ کے اس پہلے اور بڑے پروگرام کا کم وسائل و انتظامی تجربہ اور نسبتا کمزور بنیادی ڈھانچےکے باوجود کامیاب انعقادکیا بلکہ خود بھی ہر جگہ ہمہ وقت موجود پائے گئے۔انھوں نے واپسی پر اپنی گاڑیاں کے جے وفد کے ارکان کو لے جانے کے لئے فراہم کیں اور خود 5 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔
میں نے وفد نے کامیاب فیسٹول کے انعقاد پر انکی سراہنا اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرنے کے بعد راولاکوٹ کی طرف روانگی اختیارکی اور رات تین بجے بنجوسہ جھیل کے گردونواح میں قائم سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں کھانا کھایا اورآرام کیا۔ اگلے روز مقامی چڑیا گھر کی سیر کی گئی جسکے بعد راولاکوٹ کا سفر شروع ہوا۔ راولاکوٹ میں ڈویژنل کمشنر پونچھ چوہدری فریدصاحب اور ایس پی وحید گیلانی صاحب نے وفد کا استقبال کیا اور طویل الوداعی ملاقات میں اراکین وفد سے انکے مشاہدے کی تفصیلی جانکاری لی۔ وفد نے بعض تجاویز کے ساتھ انکی کاوشوں کی سراہنا اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر نےاراکین وفد کی اعلیٰ ظرفی کی داد دیتے ہوئے خود اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس پیمانے پر پہلی بار کی جانے والی یہ مہم خامیوں سے خالی نہیں ہوگی تاہم آپ نے صرف مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر پونچھ کی انتظامیہ کے جذبہ کو جلا بخشی۔ انھوں نے اس موقع پر پونچھ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کے لئے مستقبل کے ارادوں سے بھی آگاہ کیا۔ اسکے بعد وفد اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔
محاصل
ایمانداری کی بات ہے کہ حویلی میں پہلی بار اس نوعیت اور پیمانےکے پروگرام کا انعقاد کرنا یقینا لائق صد تحسین ہے۔ اس نے اہلیان حویلی کو امید کی ایک نئی کرن عطا کی۔ علاقہ کی پسماندگی دور کرنے کی باپت وہاں سیاحت کا فروغ گیم چینجر ثابت ہوگا۔ امید کرتے ہیں کہ حکومت آزاد کشمیر پورے خطے خصوصا محروم ضلع حویلی میں سیاحت کے فروغ کی پالیسی پر تسلسل کے ساتھ قائم رہے گی اور دوسری جانب علاقہ کے سیاسی عمائدین اسی طرح اتحاد کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لئے کمر بستہ رہیں گے اور ضلعی انتظامیہ، سول سوسائٹی، میڈیا اور دیگر حلقوں کا دست تعاون اسی جذبہ سے حاصل کرتے ہوئے اپنے حلقے کی معاشی و سماجی حالت بدل دیں گے۔(جاری ہے)