وائس چیئرمین پریس فاؤنڈیشن کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم کی کھری کھری گفتگو

47

تحریر ،سعید الرحمن صدیقی
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے پریس فاؤنڈیشن کے نو منتخب وائس چیئرمین سردار ذوالفقار علی سے وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں حلف لیا حلف برادری میں آزاد کشمیر کے وزرا اور ممبران اسمبلی نے بڑی تعداد میں شرکت کی .تقریب میں سیکرٹری اطلاعات ،سمیت اعلی بیوروکریسی نے بھی شرکت کی تقریب میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین بھی شریک تھے نو منتخب وائس چیئرمین سے وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انور الحق نے حلف لیا اور مبارکباد پیش ہی وزیر اعظم آزاد کشمیر نے نو منتخب وائس چیئرمین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سردار ذولفقار دیانتدار اور پروفیشنل صحافی ہیں انکی موجودگی میں مجھے اطمینان ہین کہ وسائل درست خرچ ہونگے انہوں نے کہا کہ پروفیشنل صحافیوں کی اکثریت یہاں موجود ہے جنہوں نے اپنا وائس چیئرمین چنا ہے نو منتخب وائس چیئرمین کے مطالبہ پر انہوں نے پریس فاؤنڈیشن کے آڈٹ کا بھی اعلان کیا .

تقریب سے سابق صدر پریس کلب سید آفاق شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت کی مادر پدر آزادی کسی کےمفاد میں نہیں حق اور سچ لکھنے والوں پر حکومت کو ہاتھ نہیں ڈالنے دیں گے اور فیک نیوز والوں کے خلاف اقدامات کی مکمل حمایت کریں گے ،سابق صدر پریس کلب طارق نقاش نے کہا کہ صحافیوں نے دیانتدار ایماندار اور پروفیشنل صحافی کا انتخاب کر کہ شعور کا مظاہرہ کیا ہے آزاد کشمیر میں صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے پریس فاؤنڈیشن بہترین فورم ہے,ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر آصف رضا میر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہر شعبہ میں دیانتدار لوگ آگے آنے چاہیے فاؤنڈیشن کے قیام میں صحافیوں کی بڑی محنت شامل ہے آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر امجد چودھری نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ اخبارات کے ساتھ تعاون کیا ہے.

وزیر اعظم آزاد کشمیر کی فیک نیوز کے خلاف پالیسی سے پروفیشنل جرنلسٹس اور زمہ دار اخبارات کو کوئی خظرہ نہیں تقریب میں وزرا حکومت کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور نومنخب وائس چیئرمین کو مبارکباد پیش کی .وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کمال فراخدلی سے پریس فاؤنڈیشن کی سالانہ گرانٹ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کر کہ صحافیوں کے دل جیت لیے جبکہ وزیر اعظم کی جانب سے پریس فاؤنڈیشن کے لئے زمین کی فراہمی اور عمارت بنانے کااعلان بھی کیا گیا اور اس حوالے سے مظفرآباد میں مکانیت کی فراہمی کے لیے موقع پر کمشنر مظفرآباد کو احکامات بھی صادر کر دئیے تقریب میں ڈی جی اطلاعات امجد منہاس نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دئیے اور پریس فاؤنڈیشن کا تعارف اور کارکردگی سے وزیر اعظم وشرکا کا بریفننگ دی .وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ نو منتخب وائس چیئرمین دیانتدار اور پروفیشنل صحافی ہیں .

پریس فاؤنڈیشن صحافتی اداروں میں سب سے طاقتور ہے جس پر عدلیہ کی چھتری اور حکومت کی مکمل مدد ہےاسمبلی ایکٹ سے قائم ادارے کو ہر طرح کا تعاون کریں گے،لوگوں کی خواہشات تلے نہیں بلکہ آئین و قانون کے تابع حکمرانی ہوتی ہے، و آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی شہری آزادیوں میں فرق کرنا چاہیے ، آزادکشمیر کا پرچم کو لہرانے کے پیچھے جو طاقت ہے وہ پاکستان کے قومی پرچم نے دی ہے ،اگر مسلح افواج پاکستان یہاں سے چلی جائیں تو پھر کونسی طاقت ہے جو آپ کو قتل و غارت سے بچائے؟اپنے بارے میں نہیں تو کم از کم آنے والی نسلوں کے بارے سوچیں اقتدار کے چھن جانے کا خوف کمپرومائز کرواتا ہے،جو کہ مجھے نہیں ہے .پروفیشنل صحافی اور حادثاتی صحافی میں فرق ہے، پروفیشنل صحافی سچ کے فروغ اور جھوٹ کے محاسبے کیلئے ملکر قانون سازی کیلئے تجاویز دیں .

صحافت مقدس پیشہ ہے ، صحافیوں کی فلاح کے لیے پریس فاونڈیشن کی سالانہ گرانٹ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کا اعلان کرتاہوں ،ہم سب کو خود احتسابی سے گزرنا ہوگا،22 ماہ میں ایک لمحہ بھی رخصت اتفاقیہ نہیں لی، لکھنے کا اختیار بھی حدود و قانون ضابطے کے اندر رہ کر ہونا چاہیئے، اب اے آئی کے دور میں کو بھی کسی کو بلیکن میل پر سکتا ہے عوام کے پیسوں سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے ، ہر شخص کو حق ہے کہ جہاں غلطی کوتاہی بدعنوانی دیکھے شکایت کرے، میں اور میری کابینہ آپ کے میڈیا کی شکایات کے آگے جوابدہ ہیں تو لکھنے والوں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیئے، اس بارے قوانین بنانے کے لیے پروپوزل آپ دیں عملدرآمد ہم کروائیں گے، رمضان المبارک میں گراں فروشی اور ملاوٹ پر آپریشن شروع ہوگا.

جہاں گراں فروشی ملاوٹ ہوگی وہاں کے ذمہ دار افسران جبری رخصت پر گھر جائیں گے، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مرحوم صحافی کے پسماندگان کو 10 لاکھ روپے تک دیے جائیں تاکہ ان کی کچھ نہ کچھ مدد ہو سکے.ضابطہ فوجداری کا قانون آج بھی قائم ہے .کیا کوئی صحافی آج دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ 505 کا قانون اس کی سچائی لکھنے میں رکاوٹ بنا؟ میں خود بھی صحافی رہا،88کا سیلاب کور کیا، کبھی پارسائی کا دعوی نہیں کیا، بدترین مخالف کو بھی میری معاشی بددیانتی نظر نہیں آئیگی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں