وائٹ ہائوس میں حیرت زدہ واقعہ

34

تحریر: محمد شہباز
28فروری کو پوری دنیا میں سفارتکاری کا حیرت زدہ لیکن رعونت سے بھرپور واقعہ رونما ہوا،اگر یہ کہا جائے کہ اس واقع نے سفارتی اداب کا جنازہ نکال دیا ہے،تو بے جا نہ ہوگا۔ یوکرینی صدر ولاد میر زیلنسکی28فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باضابطہ دعوت پر امریکہ پہنچے۔اوول آفس کے صدر دروازے پر ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب کا استقبال کیا ،جیسے ہی زیلنسکی گاڑی سے اترے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج تو آپ بڑا تیار ہو کر آئے ہیں۔ یوکرینی صدر زیلنسکی ٹرمپ سے ملاقات کیلئے اوول آفس پہنچے تو وہ فوجی طرز کی سیاہ شرٹ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ جس پر یوکرین کا قومی نشان بھی بنا ہوا تھا۔یہاں سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔دونوں صدور کے درمیان ملاقات کے بعد جب مشترکہ پریس بریفنگ شروع ہوئی،تو امریکی صحافی نے زیلنسکی سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ڈھنگ کا سوٹ نہیں تھا ،جو آپ پہن کر آتے۔امریکی صحافی کے اس سوال کی دیر تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی ونیس صدر زیلنسکی پر چڑھ دوڑے۔جہاں ٹرمپ ختم کرتے تو ونیس وہیں سے شروع کرتے۔چونکہ پریس بریفنگ لائیو دکھائی جارہی تھی،جو پوری دنیا کا دستور بھی ہے،کہ سربراہاں مملکت باہمی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہیں،جس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ہر فریق اپنا نکتہ نظر بیان کرتا ہے۔

البتہ ٹرمپ اور زیلنسکی کی پریس بریفنگ قدرے مختلف واقع ہوئی ،جس میں میزبان مہمان پر ٹوٹ پڑے اور کھلے عا م ان کی ڈانٹ پٹ کررہے تھے۔کروڑوں لوگ یہ پریس بریفنگ لائیو دیکھ رہے تھے۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق صدر زیلنسکی نے ٹرمپ اور جے ڈی ونیس کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بھرپور کوشش کی،گوکہ وہ مہمان تھے اور جب میزبانوں نے تمام سفارتی اداب کو بالائے طاق رکھا تو مہمان کو مجبورا اپنی زبان کھولنا پڑی ۔ صدر زیلنسکی نہ صرف دنیا میں طاقت کا سرچشمہ سمجھے جانے والے امریکی صدر دفتر میں بیٹھے تھے،جس کیلئے انہیں باضابطہ دعوت دی گئی تھی،البتہ غیر معمولی صورتحال نے ان کے اوسان خطا کردیئے۔مشترکہ پریس بریفنگ وقت سے پہلے ہی ختم کرنا پڑی اور صدر زیلنسکی کو آسان سفارتی زبان میں چلتا کیا گیا۔امریکی وائٹ ہاوس میں پیش آمدہ صورتحال نے دنیا بھر میں سفارتی حلقوں کو جہاں ہلاکر رکھ دیا ہے،وہیں یہ بات بھی اب زبان زد عام ہے کہ طاقتور کے مقابلے میں کمزور کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہے۔مشہور ضرب المثل ہے کہ ہر طاقتور چاہیے انسان ہوں یا چرند و پرند اپنے کمزور حریفوں کو ہڑپ کرتے ہیں،اور 28 فروری کو امریکی وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں پیش آنے والے واقعے نے اس کو نہ صرف درست بلکہ اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔

صدر زیلنسکی کو صدر ٹرمپ نے امریکہ اس لیے مدعو کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ختم کی جاسکے۔یاد رہے کہ روس فروری 2022 میں یوکرین پراس وقت چڑھ دوڑا جب یوکرین کو نیٹو میں شامل کیا جارہا تھا،جس پر رو س باالخصوص ولادمیر پوتن سخت برہم تھے،جو یوکرین پر جنگ مسلط کرنے کی اصل وجہ بنی۔یہ جنگ اب چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے اورروس یوکرین کو ہرحال میں فتح کرنا چاہتا ہے۔سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کے علاوہ پورا یورپ یوکرین کی پشت پر کھڑا تھا،نہ صرف یوکرین کو اربوں ڈالر امداد بلکہ جدید فوجی سازو سامان بھی فراہم کیا اور آج بھی کررہا ہے۔اب جبکہ امریکہ میں جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ سکبدوش ہوچکے ہیں اور ٹرمپ امریکی صدارت پر براجمان ہیں،نے صدارتی الیکشن میں کامیاب ہونے کیساتھ ہی روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا،اسی تناظر میں صدر زیلنسکی کو امریکہ مدعو کیا تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ صدر زیلنسکی کو امریکہ مدعو کرنے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی ساڑھے پانچ سو ارب ڈالر کی امداد کا بار بار ذکر کرکے مذکورہ رقم یوکرین سے واپس لانے کا اعلا ن کررہے تھے.

جس کیلئے یوکرین میں موجود ٹرلین ڈالر کے معدنی ذخائر کا امریکہ کیساتھ معاہدہ سرفہرست تھا۔ٹرمپ زیلنسکی کی بدمزگی اور کشیدگی نے اگر چہ پورے یورپ کو امریکہ سے نالان کردیا ،مگر ان میں کوئی ملک کھل کر امریکہ کی مذمت میں سامنے بھی نہیں آیا،سوائے اس کے کہ صدر زیلنسکی امریکہ سے براہ راست برطانیہ پہنچے ،جہاں پورا یورپ سرجوڑ کر بیٹھا رہا،مگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔البتہ برطانیہ نے ہتھیاروں کے حصول کیلئے یوکرین کو قرضہ دینے کا اعلان کیا۔صدر زیلنسکی کا یہ بیان ہوا کے دوش پر نمودار ضرور ہوا کہ امریکی وائٹ ہائوس میں ہمارے ملک کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔صدر زیلنسکی کیساتھ امریکہ میں رونما ہونے والا واقعہ سفارتی اداب کا جنازہ اپنی جگہ،لیکن اس میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔پہلا یہ کہ برابری کی بنیاد پر میز پر کچھ لو اورکچھ دو کی پوزیشن اسی وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب آپ معاشی نہ سہی دفاعی طور پر مضبوط ہوں۔مضبوط فوجی صلاحیت دنیا کا سکہ رائج وقت اور نظریہ ٹھہری ہے۔جس کی مثال امریکہ بذات خود ہیں۔امریکہ معاشی دیوالیہ کے قریب پہنچ چکا ہے،پوری دنیا بالالخصوص چین سے ہزاروں ارب ڈالر قرض کی مدمیں لے چکا ہے ۔صدر ٹرمپ نے پوری دنیا کو مختلف مدعات میں دی جانے والی ایڈ بند کردی ہے۔جس میں یو ایس ایڈ سرفہرست ہے۔ ٹرمپ یہ اعتراف بھی کرچکا ہے کہ امریکہ معاشی دیوالیہ کے دہانے پر کھڑا ہے لہذا نہ صرف اضافی امداد بند بلکہ دوسرے ممالک کیساتھ فوجی تعاون بھی ختم کیا جائے گا۔

جس کا یوکرین کی فوجی امداد بند کرنے کے اعلان سے کیا گیا۔سوائے اسرائیل جو کہ امریکہ کی ناجائز اولاد ہے ،باقی تمام ممالک کو امریکہ آنکھیں دکھا تا ہے۔ صدر زیلنسکی کی بے بسی پوری دنیا کیلئے عبرت کا مقام ہے کہ صرف معاشی طاقت ہی حرف آخر نہیں ہے ،بلکہ فوجی طاقت کا حصول ہی معاشی طاقت کو ممکن بناسکتا ہے۔جس کی مثال ریاست پاکستان ہے۔پوری دنیا ہاتھ دھو کر پاکستان کے پیچھے پڑی ہے،اس ریاست کو اس کے قیام سے لیکر آج کے دن تک کبھی معاشی طاقت نہیں بننے دیا گیا۔البتہ پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کو یہ کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے تمام تر مشکلات اور مصائب کے باجود پاکستان کی مضبوط اور ناقابل تسخیر دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔کیونکہ پاکستان کے ارباب اقتدار اس بات سے بخوبی واقف اور آگا ہ ہیں،کہ بھارت جس نے پاکستان کو اس کے معرض وجود میں آنے سے لیکر آج کے دن تک قبول نہیں کیا،بھارتی حکمران خاص کر مودی اور اس کے حواری اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہے ہیں،اس خطے میں بھارتی موجودگی اور مغرب و یورپ کی اسلام مخالف نفرت کی بنیاد پر ہمیشہ بھارت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا پاکستان کی ریاست کیلئے براہ راست خطرہ ہے،جس سے نہ نظر انداز کیا جاسکتااور نہ ہی نظریں چرائی جاسکتی ہیں۔

یہ امریکہ بہادر ہی ہے جس نے 1998 میں پاکستان کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ٹیسٹ دھماکے کرنے سے روکنے میں کیا کیا جتن نہیں کیے تھے۔لیکن پاکستانی قیادت کو اسی دن کا انتظار تھا،کیونکہ پاکستان 1971 ء میں بھارت کی ننگی مداخلت اور جارحیت کے نتیجے میں اپنا ایک بازو بنگلہ دیش کی صورت میں کھو چکا تھا اور تاریخ میں جس امریکی بحری بیڑے نے پاکستان کی مدد کیلئے پہنچنا تھا،وہ آج تک نہیں پہنچ سکا۔یہ بحث اب موضوع طلب نہیں رہا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں بنگلہ دیش میں ایک بھرپور عوامی تحریک کے نتیجے میں بھارت نواز حسینہ واجد حکومت کا تختہ دھڑن ہونے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔آج بنگلہ دیش بھی اس بات کا واشگاف انداز میں اظہار کررہا ہے کہ بھارت اس کا دوست نہیں ہوسکتا ،بلکہ بنگلہ دیش اور پاکستان نہ صرف تاریخی،ثقافتی اور اسلامی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں،جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ان حالات میں جب مودی 2014 سے مسلسل بھارت میں برسر اقتدار ہیں ،جو ہندو انتہا پسند تنظیم RSS جو فسطائی نظریئے کی حامل اور ہٹلر کی فکر پر عمل پیرا ہے،پاکستان کا ایٹمی قوت کیساتھ ساتھ میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ہونا کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں ہے۔جس کا عملی مشاہدہ 27فروری2019 میں پوری دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے کرچکی ہے.

جب بھارت نے 26 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے بالا کوٹ میں پے لوڈ گرا کر یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے تین سو افراد کو مارڈالا ہے،تو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر نہ صرف بھارت کا ایک مگ 21 طیارہ مار گرایا بلکہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو زندہ پکڑ کر مودی کی وہ درگت کی کہ پورا بھارت اس کو گالیاں دے رہا تھا۔آج کے حالات میں خود کو مسلح کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آج غزہ صہیونی اسرائیلی بربریت اور اجتماعی قتل عام کا نشانہ نہ بنتا۔پوری عرب دنیا اسرائیلی بربریت کے مقابلے میں محض تماش بین ہیں،ان کی بے تحاشہ دولت اور تیل نہ اہل فلسطین کو اسرائیلی درندگی اور بربریت سے بچانے میں کام آتی ہے اور نہ ہی اسرائیل عربوں کو کسی خاظر میں لاتا ہے۔کبھی لبنان تو کبھی شام کی اینٹ سے اینٹ بجاتاہے،جبکہ اردن و مصر تو اس کی دسترس میں ہیں،یہ دفاعی صلاحیت کا ہی نتیجہ ہے کہ اسرائیل مشرق وسطی میں کسی بھی جگہ نشانہ سادھنے کا اعلان کرنے سے باز نہیں آتا۔ صدر زیلنسکی سے قبل اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم بھی وائٹ ہاوس میں مدعو کیے گئے تھے اور ان کی موجودگی میں ٹرمپ نے اہل فلسطین کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کا اعلان بھی کیا مگر کیا مجال کہ شاہ عبداللہ دوم اس کے جواب میں لب کشائی کرتے۔کیونکہ انہیں اپنی بے بسی کا بخوبی اندازہ ہے ۔

البتہ واپسی پر جہاز میں یہ ٹویٹ کرنا غنیمت جانا کہ اہل غزہ کی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے۔یہ ان کے دورہ امریکہ کی بڑی اور بریکنگ نیوز تھی۔خدانخواستہ پاکستان بھی دفاعی طور پر کمزور ہوتا تو آزاد کشمیر کے باسیوںکی صورتحال اہل غزہ سے مختلف نہ ہوتی،جس کا اظہار آزاد کشمیر کے حکمران بارہا کرچکے اور آج بھی کررہے ہیں،لہذا شاہ عبداللہ دوم اور صدر زیلنسکی کی امریکی صدر دفتر میں بے بسی ان تمام ممالک اور اقوام کیلئے ایک سبق ہے ،جو معاشی طور پر خود کفیل تو ہیں مگر دفاعی لاغر پن ان کی معاشی طاقت کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔کیونکہ دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے،معاشی اور مالی فوائد نے دنیا کو اندھا ،گونگا اور بہرہ بنادیا ہے،کوئی کسی کی مدد خاصکر مسلمان ممالک کرنے سے قاصر ہیں،وقت کی نزاکت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ دفاعی قوت حاصل کی جاسکے تاکہ آپ کا حریف کم از کم آپ کیساتھ تمیز کے دائرے میں بات کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں