تحریر: راشد ہاشمی
جموں و کشمیر کی تاریخ قربانی، جدوجہد اور نظریاتی وابستگی سے عبارت ہے۔ اس خطے کا سب سے بڑا سرمایہ نہ صرف اس کی جغرافیائی اہمیت ہے بلکہ اس کے بہادر، باشعور اور زندہ دل نوجوان ہیں۔ آج جب دنیا نظریاتی انتشار، سیاسی تقسیم اور معاشرتی بے چینی کا شکار ہے، ایسے وقت میں وحدتِ جموں و کشمیر ایک ایسی آواز ہے جو ہمارے اجتماعی مستقبل کو ایک سمت اور ایک مرکز فراہم کرتی ہے۔ مگر یہ وحدت خود بخود وجود میں نہیں آئے گی؛ اس کے لیے عملی کردار، شعوری جدوجہد اور مستقل مزاجی درکار ہے—اور یہ ذمہ داری سب سے بڑھ کر نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے۔
نوجوان کیوں اہم ہیں؟
نوجوان کسی بھی قوم کا انجن ہوتے ہیں۔ ان کے پاس جذبہ ہوتا ہے، تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے، اور بدلتے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی توانائی ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوان اگر متحد ہو جائیں تو سیاسی انتشار، فرقہ واریت، گروہی مفادات اور فکری انتشار کی دیواریں خود بخود گر جائیں۔وحدت کا مطلب صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی پختگی ہے کہ ہم سب کا درد ایک ہے، ہماری شناخت مشترک ہے، اور ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
وحدت کیوں ضروری ہے؟
آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کشمیری معاشرہ چھوٹے چھوٹے سیاسی، قبائلی اور ذاتی حلقوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ہر گروہ اپنے مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اجتماعی آواز کمزور پڑتی ہے، قیادت بٹ جاتی ہے، اور نوجوان مایوسی کی طرف چلے جاتے ہیں۔وحدت اس لیے ضروری ہے کہ ایک متفق قوم ہی مضبوط موقف اختیار کر سکتی ہے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہے، اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
نوجوانوں کا عملی کردار کیا ہونا چاہیے
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں۔ دلیل اور علم کو بنیاد بنائیں، شخصیت پرستی کی بجائے اصولی سیاست کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت نہیں، فہم اور گفتگو کی ثقافت پھیلائی تعلیم صرف ڈگری نہیں، ذہن کی آزادی ہے۔ نوجوان تحقیق، مطالعے، تاریخ اور جدید علوم سے خود کو لیس کریں۔ ایک باشعور نوجوان پوری قوم کا نظریاتی نگہبان ہوتا ہے
نوجوان قیادت کا انتظار نہ کریں، خود قیادت بنیں
یونین کونسل سے تحصیل تک کمیٹیاں، یوتھ فورمز، بُک کلبز، ریسرچ گروپس بنائیں۔ یہی چھوٹی تحریکیں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد بنتی ہیں.وحدت صرف تقریروں سے نہیں آتینوجوان صفائی مہم، تعلیمی آگاہی، اسپورٹس سرگرمیوں، رضاکارانہ سروسز اور سوشل ایکشن پروگرامز میں حصہ لیں۔جب نوجوان اپنے علاقے میں خود بہتری لاتے ہیں تو تقسیم کا زہر خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔نوجوانوں کو اس حقیقت کو اپنانا ہوگا کہ ہمارا سب سے بڑا رشتہ “کشمیر” ہے۔ زبان، برادری، علاقہ یا سیاسی جماعتیں ثانوی ہیں۔جب اصل شناخت مضبوط ہو جاتی ہے تو قوم متحد ہو جاتی ہے۔
جموں و کشمیر کی وحدت کسی ایک رہنما یا جماعت کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک اجتماعی سفر ہے جس کا سب سے طاقتور مسافر نوجوان ہیں۔ اگر وہ سنجیدگی، کردار، علم اور عمل کو اپنا شعار بنا لیں تو کشمیر کا مستقبل روشن، مضبوط اور متحد ہوگا۔وقت آگیا ہے کہ نوجوان محض تماشائی نہ رہیں بلکہ اپنی نسل اور اپنی دھرتی کی تاریخ لکھنے والے کردار بنیں۔