ولی کامل حضرت مولانا قاضی حسین رحمتہ اللہ علیہ

74

تحریر:جمیلہ خان
اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےبعد جو شخصیات آپ کیلئے جو احترام کے لائق ہستی ہوتی ہے ۔وہ آپ کے والدین اور اساتذہ کرام ہوتے ہیں ۔مجھے آج اس بات کی خوشی ہے ۔کہ میں آج جس بزرگ ہستی کے بارے میں لکھ رہی ہوں ۔وہ میرے والد محترم حضرت مولانا قاضی حسین احمد ہیں ۔جو میرے استاد بھی تھے۔اور زندگی میں بہت کچھ ان سے سیکھنے کو ملا۔وہ اللہ کے ولی کامل تھے ۔اور ان کے دل میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے دین کے احیاء کی محبت تھی ۔اور پوری زندگی اسی کوشش میں مصروف عمل رہے۔بقول اقبال
ﻋﺠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ
ﺷﮑﻮﮦ ﺳﻨﺠﺮ ﻭ ﻓﻘﺮ ﺟﻨﯿﺪ ﻭ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ
ﺷﻮﮐﺖ ﺳﻨﺠﺮ ﻭ ﺳﻠﯿﻢ ﺗﯿﺮﮮ ﺟﻼﻝ ﮐﯽ ﻧﻤﻮﺩ
ﻓﻘﺮ ﺟﻨﯿﺪ ﻭ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺗﯿﺮﺍ ﺟﻤﺎﻝ ﺑﮯ ﻧﻘﺎﺏ

ضلع جہلم ویلی میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات پیدا ہوئی۔سیاست کے میدان میں منشی علی گوہر مرحوم ،سابق وزیر حکومت علی خان چغتائی اور موجودہ دور میں دیوان علی چغتائی کا کردار جس طرح ایک منفرد اور جاندار رہا ہے۔اور اس علاقے کی ترقی میں انہوں نے جس طرح اپنا حق اداکیا ہے ۔اسی طرح دینی خدمات کے حوالے سے ولی کامل حضرت مولانا قاضی حسین احمد،مولانا الیاس (آف چناری۔) ،بنی حافظ شریف کے سجادہ نشین پیر طریقت صاحبزادہ شفیع باجی اور دیگر بزرگان دین نے جو کردار ادا کیا۔وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ مولانا قاضی حسین احمد اور آپ کے والد محترم ولی کامل الحاج قاضی عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ نے نہ صرف احیاء دین کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔بلکہ سماجی خدمات کے حوالے سے بھی یہاں کے لوگوں کی بہت خدمت کی۔انہی خدمات کو دیکھتے ہوئے بوائز ہائی سکول شاریاں،کا نام آپ کے والد محترم پیر طریقت الحاج قاضی عبد العزیز کے نام سے منصوب ہے۔

اسی طرح شاریاں،اور گردونواح کی مساجد اور مدارس کی تعمیر اور نفاز شریعت میں ان کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔اور اس علاقے کے سارے لوگ ان کے خاندان کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔آپ اپنے والد الحاج قاضی عبد العزیز کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔اور اپنے والد محترم کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد ان کے نائب کی حثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ۔آپ اعلیٰ پائے کے مقرر اور نعت خواں تھے۔شاریاں کے علاؤہ دومیل مظفرآباد ،گڑھی دوپٹہ لواسی میں بھی دین کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات بھی سر انجام دیتے رہے ۔

ایسے کردار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی ماہر تعلیم و شعلہ بیان خطیب پروفیسر قاضی ابراہیم سابق چیئرمین میرپور بورڈ نے اپنے والد محترم اور بھائی کی دینی اور سماجی روایات کو جاری رکھا ہوا ہے ۔آپ کے پانچ بھائی اور آٹھ فرزند ارجمند اور دو بیٹیاں ہیں ۔دوسرے بھائیوں میں قاضی عبد الجلیل جلالی نظامت تعلیم مظفرآباد میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیں۔اور آپ کے بیٹوں میں قاضی آفتاب احمد معلم ، عالم اور خطیب ہیں ۔جبکہ حافظ قاضی امداد اللہ بھی معلم ، شعلہ بیان مقرر اور معروف عالم دین ہیں۔اور احیائے دین کے لئے کوشاں ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ اللہ تعالیٰ آپ کی احیائے دین کے لئے کی گئی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے ۔اور ہمیں دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں