وہ جو خواب بن کر جیا اور مشن بن کر امر ہوا کامران حمید بٹ مرحوم

181

تحریر:نعیم الحسن نعیم
وہ کیا ہی خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جنہیں مٹی کی آغوش میں جانے کے بعد بھی آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں دل پکار اٹھتا ہے لب ہچکیوں میں بھی نام دہراتے ہیں اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف جسم میں نہیں روح میں بستی ہیں جو وقت سے ماورا ہو کر امر ہو جاتی ہیں۔ آج بھی جب دن کا اجالا ہو رات کا سناٹا ہو، یاروں کی محفل ہو یا موسم کی کروٹ ایک نام ایک چہرہ ایک آواز دل کی تہہ سے ابھرتی ہے قائد نوجوانان، کامران حمید بٹ مرحوم۔کامران بٹ کوئی عام نوجوان نہیں تھا، وہ نوجوان نسل کی وہ توانا آواز تھا جو حق کے لیے بولتی تھی جو ہر فورم پر کشمیر کے مظلوموں کی نمائندگی کرتی تھی جو دیارِ غیر میں بیٹھ کر بھی مقبوضہ کشمیر کے درد کو اپنے لہجے میں پروتی تھی۔ وہ صرف سیاستدان نہ تھا، وہ تو ایک نظریہ تھا، وہ چلتی پھرتی تحریک تھا۔ وہ دبنگ بھی تھا اور شفیق بھی، وہ ملنسار بھی تھا اور بے باک بھی اس کی شخصیت کا ہر رنگ خالص تھا ہر جذبہ بے مثال تھا۔کچھ لوگ جہنیں آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں لب پکار اٹھتے ہیں اور دل ایک ہچکی لے کر کہہ اٹھتا ہے “کاش وہ ہوتا”۔ قافلہ زندگی آگے بڑھ چکا موسم بدل گئے چہرے بھی بدل رہے ہیں، لیکن کچھ یادیں ہوتی ہیں جو کبھی پرانی نہیں ہوتیں، کچھ لوگ ہوتے جو جنہیں کبھی بھولا نہیں جاتا کامران حمید بٹ۔وہ جو سچ کی تلوار تھا، وہ جو حق کی صدا تھا، وہ جو کشمیر کے درد کو الفاظ میں نہیں، لہجے میں ڈھالتا تھا۔ وہ صرف ایک نوجوان نہیں تھا، وہ نظریہ تھا مشن تھا ایک خواب کی تعبیر تھا، جس نے دیارِ غیر میں بھی مقبوضہ کشمیر کے لیے آنکھوں میں نمی سینے میں تپش اور زبان پر سوال رکھا۔

وہ جو سیاست میں آیا تو اصولوں کے ساتھ، وہ جو تعلق نبھاتا تھا تو وفا کی آخری حد تک وہ جو اپنے دوستوں کے لیے صرف نام نہیں، سایہ تھا۔ آج وہ جسمانی طور پر نہیں لیکن ہر بدلتے لمحے میں ہر اذیت ناک خبر پر ہر دبے ہوئے سچ پر، دل چیخ اٹھتا ہے کہ کامران بٹ ہوتا تو. کشمیر کی دھرتی نے بہت سے سپوتوں کو جنم دیا ہے، مگر کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت کا نہیں، تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ چیئرمین مشن کشمیر ٹاسک فورس، بانی رائے شماری، نوجوانوں کے دلوں کی آواز، محترم کامران حمید بٹ انہی چہروں میں سے ایک تھے۔ ان کی پہلی برسی پر دل بوجھل ہے، الفاظ کم پڑ رہے ہیں، اور یادیں ہر گوشے میں تازہ ہو رہی ہیں۔فرانس کی سرزمین پر اچانک دل کا دورہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ثابت ہوا، لیکن وہ جس مقصد کے ساتھ جئے، جس جذبے کے ساتھ آگے بڑھے، وہ موت سے بالاتر ہے۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں نہیں، مگر ان کی آواز، ان کا عزم، ان کا خواب آج بھی کشمیر کی ہواؤں میں گونج رہا ہے۔ ان کا دل ہمیشہ کشمیر کی آزادی کے لیے دھڑکتا رہا، اور ان کے لہجے میں ہمیشہ حق کی للکار سنائی دیتی رہی۔کامران حمید بٹ وہ نوجوان تھے جنہوں نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر قوم، تحریک اور وطن کو ترجیح دی۔ وہ خواب دیکھتے تھے کشمیر کی آزادی کا، اور ان کا ہر دن، ہر لمحہ، ہر قدم اسی خواب کی تعبیر کے لیے وقف تھا۔ وہ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں، وہ ایک سوچ، ایک تحریک، ایک جذبہ تھے۔ جنہوں نے نوجوان نسل کو بیدار کیا، حوصلہ دیا، اور ایک نیا نظریہ عطا کیا۔

آج جب ہم اُن کی برسی پر ان کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں، تو یہ لمحہ صرف غم کا نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا ہے کہ ہم ان کے مشن کو چھوڑیں گے نہیں، ان کے خواب کو ادھورا نہیں رہنے دیں گے۔ ہم اُن کے مشن کے وارث ہیں، اور ہر کشمیری نوجوان ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔ کامران حمید بٹ ایک ایسی داستان کا نام تھا ایک ایسا خواب جس نے صرف اپنی آنکھوں میں نہیں، ایک پوری نسل کے دل میں روشنی بھری، اُمید جگائی، اور جدوجہد کا علم تھاما۔ آج اُن کی پہلی برسی ہے، لیکن محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہم سب کے درمیان موجود ہیں.اُن کی مسکراہٹ میں، اُن کی للکار میں، اُن کے مقصد میں، اُن کی قربانی میں۔وہ نوجوان، جس نے زندگی کے حسین ترین دن قوم کے لیے وقف کر دیے۔ جس نے بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنے وطن کی مٹی کو یاد رکھا، مقبوضہ کشمیر کے سسکتے بچوں، تڑپتی ماؤں، اور زخمی امنگوں کو اپنی آواز بنایا۔ اُن کا دل صرف دھڑکتا نہیں تھا، وہ کشمیر کے لیے جلتا تھا۔ وہ رائے شماری کا صرف داعی نہیں تھا، وہ امید کا علمبردار تھا اُس نے وہ راستہ چُنا جو آسان نہیں، لیکن سچا تھا۔کامران بٹ مرحوم کس کو یاد ہوں گے کون بھول چکا ہوگا کامران بٹ مرحوم نوجوانوں کے دلوں میں بسنے والے تھے اتنا پیار اتنی محبت کسے نصیب میں ملے گی۔باغ شہر اپنی جگہ قائم ہے باغ میں موسم آ اور جا رہے ہیں۔

سیاست بھی قائم و دائم ہے مگر کامران حمید بٹ اب کبھی نہیں آئیں گے سچ کا داعی ،عمل کا پیکر تحریک آزادی کشمیر کی جاندار آواز دیار غیر میں مظلوم کشمیریوں کا ترجمان یاروں کا یار دبنگ اور خوبصورت نوجوان کامران حمید بٹ مرحوم آج یاد آئی اور بہت آئی الفاظ نہیں کہ محبت کے پھول نچھاور کروں ۔جملے ختم ہو گئے سوچ میں سوچ امڈ رہی ہے وہ ملنسار نوجوان وہ مہربان اور شفیق انسان ۔وہ کھرا اور بیباک کامران بٹ جس کا سر ہمیشہ سربلند رہا بلند سوچ عظیم فکر کاش کہ پہاڑ نہ ہوتے اور ان کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہوتا بہرحال زندگی گزاری ،خوب گزاری سر اٹھا کر گزاری سچ کے سنگ گزاری حق کے ساتھ گزاری کشمیر کی آزادی کی تڑپ دل میں لیے گزاری.کامران حمید بٹ صرف ایک نام نہیں، ایک عہد تھا ایک ایسی روشنی جو ظلمت میں چراغ بنی، ایک ایسی صدا جو خاموشیوں میں گونجی، ایک ایسا خواب جو جاگتی آنکھوں نے دیکھا اور جو اپنے لہو سے سچ کر گیا۔ وہ چلا گیا، مگر اس کا کارواں رُکا نہیں، اس کے لفظ زندہ ہیں، اس کی سوچ زندہ ہے، اور اُس کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سلام ہے اس جوان موت کو، جو حیات سے بڑی تھی۔اللہ تعالیٰ کامران حمید بٹ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے.
سلام ہے تجھ پر اے قافلہ حریت کے مسافر
تُو بچھڑ گیا، مگر تیرا کارواں باقی ہے
تیری خوشبو لفظوں میں ہے، تیرا چراغ راہوں میں
کامران بٹ، تو ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں