وہ شجر سایہ دار تھا

44

سیاسیات سماجیات ،انجنیئر شکیل احمد
سردار خالد ابراہیم مرحوم ایک مرد درویش,سیاست کی کربلا کا اکیلا حسین خوش الہان ,خوش لباس,عجز و انکساری کا پیکر, کردار و گفتار اور سیرت و صورت کے حسین امتزاج کا مرکب و مجموعہ تھے۔مسحور کن شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی ظرف بھی تھے باکمال بھی تھے۔وہ اپنے میں پورا ایک جہاں سموئے ہوئے تھے۔بلاشبہ ان کی شخصیت اور کردار و گفتار سیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے مکمل درسگاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ جن لوگوں نے ان کی سیاسی زندگی میں ان کے ساتھ سفر اختیار کیا ساتھ چلے اور ان کی ذات سے کچھ سیکھنے اور تربیت حاصل کرنے کی کوشش کی میں نے ان کے ساتھ چلنے والوں کی اکثریت کو بے باک, دو ٹوک نڈر ,بااصول اور سنجیدہ کردار و گفتار کے ساتھ مزین پایا۔جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی صورت میں سردار خالد ابراہیم مرحوم ہمارے پاس ایک ایسا پلیٹ فارم چھوڑ گئے ہیں اگر اس تنظیم اور جماعت میں ان کے ساتھ ہم رکاب اور ہم سفر رہنے والے لوگ چاہیں تو سردار خالد ابراہیم مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں کے لیے آس و امید کا چراغ بن سکتے ہیں اور سردار خالد ابراہیم مرحوم کی تقلید کرتے ہوئے ہم معاشرے کے پسے ہوئے افراد اور طبقوں کو سہارا دے سکتے ہیں۔

میرٹ و انصاف,اداروں کے استحکام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کر دینے والا یہ عظیم سیاستدان جب دنیا سے سفر آخرت اختیار کرتا ہے تو محض چھ ہزار روپے کی قلیل رقم اس مرد قلندر کا کل اثاثہ ٹھہرتی ہے۔جب ریاستی اسمبلی کے فلور پر گونجتا تھا تو ازاد کشمیر و پاکستان کی مرکزی قیادتوں سے لے کر بڑے بڑے آمروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا تھا۔انداز تکلم اور گفتگو کا معیار اتنا شائستہ اور ادب و آداب کے سانچے میں ڈھلا ہوتا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ الفاظ ان کے آگے شائستگی کےساتھ ادب و احترام کہ سانچے میں ڈھلنے کے لیے بے تاب و بے قرار ہیں۔کبھی ان کی زبان سے کسی شخص کی غیبت ,برائی اور نا شائستہ الفاظ میں انداز تخاطب کی نظیر نہیں ملتی۔ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ گویا لفظوں کی مالا میں پروئے ہوئے ہوتے تھے۔میں لفاظی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔بلکہ یہ ان کی سحر انگیز شخصیات, انداز تخاطب و تکلم ,انداز گفتگو کا سلیقہ اور معیار تھا کہ راقم بھی طویل سفر کے دوران انکی طلسماتی اور سحر انگیز شخصیت کے سحر میں گرفتار رہا۔میں ان کی ان خصوصیات کا چشم دید گواہ ہوں۔

ان کی شخصیت کو سمجھنے اور محسوس کرنے ,پرکھنے کے لیے ادب سے لگاؤ ,بے باک نڈر اور دلیر ہونا ضروری ہے۔خوددار اور مزاحمت کار ہونا بھی ضروری ہے۔اپنی بات پوری جرات و قوت کے ساتھ کرنے کی خصوصیات کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ان کی شخصیت کو پرکھنے اور سمجھنے والے کا صاحب رائے ہونا بھی بہت ضروری ہے۔احساسات و محسوسات اور جذبات سے عاری اور سطحی لوگ انہیں کبھی سمجھ نہیں سکے اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔غور و فکر کرنے والے ,سنجیدہ لوگ ,خوددار بے باک ,نڈر اور دلیر لوگ انہیں پسند کرتے تھے اور ہیں۔چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت نظریہ ,فکر اور سوچ سے کیوں نہ ہو۔وہ آپ کی دل و جان سے عزت و احترام کرتے تھے اور آپ کے لیے دیدہ دل فراش راہ کیے ہوئے تھے۔بلا شبہ سردار محمد ابراہیم خان صاحب اور خالد ابراہیم مرحوم دو ایسی عظیم اور قد آور شخصیات نے اس دھرتی پر جنم لیا جو بظاہر رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹی سی ریاست میں بہت بڑے کردار کی حامل شخصیات گزری ہیں۔سوشل میڈیا ,الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے کوسوں دور نمود و نمائش ,خود نمائی اور دو رنگی سے بے غرض ایسے نایاب ہیرے تھے جو کسی بڑے ملک و ریاست اور علاقے میں پیدا ہوتے تو بلاشبہ آج ایک زمانہ ان کے کردار و گفتار سیاسی خدمات ,اداروں کے استحکام اور بالادستی ,ریاستی ازادی خود مختاری سمیت ریاست تشخص کے لیے ان دونوں کی گراں قدر خدمات کا نہ صرف معترف ہوتا بلکہ صدیوں یاد رکھتا اور آپ کے بعد آنے والے لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کے لیے آپ کی زندگیاں نہ صرف قابل تقلید ہوتیں بلکہ مشعل راہ بھی ہوتیں۔

سردار خالد ابراہیم مرحوم بلا شبہ جہاںانتہائی سنجیدہ اور کم گو شخصیت تھے زیادہ سنتے تھے اور کم بولتے تھے وہیں پر کمال کا حسن طنز و مزاح کی حامل شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی شائستگی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین و جماعت کے لوگوں کو حدف تنقید بھی بنا دیتے تھے۔اس سے جہاں لوگوں کی ذہنی ,سیاسی وشعوری تربیت کا عمل چلتا رہتا تھا وہیں پر ان کی سخت سے سخت انداز میں کی گئی گفتگو کا کوئی برا بھی نہیں مناتا تھا لوگ آپ کے انداز گفتگو سےمحضوض ہوتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ جب آپ کسی عوامی اجتماع سے خطاب کرتے تھے تو آپ کی سنجیدگی بے باک, دو ٹوک اور قدرے جوشیلی تقاریر جب سامعین اور شرکائے جلسہ کی سماعتوں سے ٹکراتی تھی تو لوگ انہیں اپنے قلوب و اذہان میں اترتا محسوس کرتے اور ان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظ تیر بن کر لوگوں کے دلوں میں پیوست ہو جاتے تھے۔مجمع میں موجود شاید ہی کوئی شخص تھا جو ان کی تقریر کے دوران اٹھ کر چلا جائے۔بہت ہی علمی , فکری,اصلاحی, گہری اور زو معنی گفتگو ہوتی تھی۔ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک بھی تھے۔آپ کے قول و فعل میں یک رنگی, اصول اور نظم و ضبط کہ پس پردہ بلا شبہ آپ کے والدین کی تربیت اورآپ کا اپنا کردار آپ کی سچائی, آپ کا انداز گفتگو, آپ کی سادگی اور بلا شبہ اللہ تبارک و تعالی کا خصوصی فضل و کرم اور عنایت بھی شامل حال تھی۔یہی وجہ تھی کہ لوگ دیوانہ وار آپ کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے۔

آپ اپنے طویل سیاسی سفر کے دوران جہاں کھڑے ہوتے پھر عزم و استقلال اور چٹان کی مانند قائم رہتے تھے۔اپنے اصولی موقف سے کبھی ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔وہ تسلیم کرتے تھے کہ طویل سیاسی سفر میں ہماری قیادت اور ہم سے بہت غلطیاں بھی ہوئی ہیں ہم کوئی فرشتے نہیں مگر کوئی شخص بھی ہماری نیت اور اخلاص پر شک نہیں کر سکتا۔جنرل ریٹائرڈ انور کو ریاستی صدارت کے منصب پر فائز کرنے پر اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اصولی موقف اختیار کیا اور کہا کہ کہ جس جنرل کی ابھی وردی کی استری بھی نہیں ٹوٹی اور پینشن کی کاپی نہیں بنی آپ نے اسے ریاست کے سب سے بڑے منصب پر فائز کر دیا تو پرویز مشرف نے کہا کہ ریاست کے دیگر جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی یہاں موجود ہیں کسی اور کو کوئی اعتراض نہیں آپ کو اعتراض ہے۔آپ نے کہا کہ ہماری قیادت کی سرپرستی میں یہ خطہ آزاد ہوا ہم نے جمہوریت کی بالادستی, اداروں کے استحکام اور آئین و قانون کے نفاذ کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں 12 سے زائد مرتبہ پابند سلاسل ہوا ہوں اگر کسی کو کوئی تکلیف نہیں تو ہمیں تو اعتراض ہے۔راجہ ظفر الحق کے بقول ایک مرتبہ کشمیر کے حوالے سے سیمینار کے موقع پر جب ماسوائے غازی ملت کے ریاست جموں و کشمیر کی سبھی مرکزی قیادت موجود تھی تو جنرل حمید گل نے کہا کہ یہاں پر موجود آزاد کشمیر کی قیادت میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جسے آئی۔ ایس۔آئی نے نہ نوازا ہو۔جنرل حمید گل کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کا سننا تھا کہ سردار خالد ابراہیم صاحب کھڑے ہو گئے اور جنرل حمید گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا ہماری قیادت اور میں نے آئی ۔ایس۔ آئی سے کوئی وظیفہ یا رقم لی ہے تو حمید گل نے کہا کہ آپ اور آپ کی قیادت اس عمل کا حصہ نہیں رہے مگر اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی قیادت نہیں جسے نوازا نہ گیا ہو۔سیمینار میں موجود مرکزی قائدین میں سے کسی کو بھی حمید گل کو مخاطب کر کے للکارنے کی جرات نہیں ہوئی۔

یہ خالد ابراہیم ہی تھے جنہوں نے پاکستانی وزیراعظم کی موجودگی میں پانچ فروری کو قانون ساز اسمبلی کے فلور پر ریاستی حکمرانوں سمیت پاکستانی وزیراعظم کے سامنے اپنا دو ٹوک اور واضح موقف پوری قوت اور جرات کے ساتھ واضح کرتے ہوئے تاریخی الفاظ بولے تھے کہ اگر ہم یہاں بات نہیں کریں گے تو پھر کوئی بھی بات نہیں کرے گا۔جنرل ریٹائرڈ انور سے لے کر اپنی فیملی کے قریبی عزیز مسعود احمد خان کے صدر بننے پر اپنے لوگوں اور عوام کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پوری جرات کے ساتھ ایک غیر سیاسی شخص کے پاکستانی قیادت اور پالیسی ساز اداروں کی طرف سے مسلط کیے جانے کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی اور وقت نے ثابت کیا کہ وہ غیر سیاسی شخص آزاد کشمیر کی تاریخ کا ناکام ترین صدر ثابت ہوا۔اس کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد لوگوں کو خالد ابراہیم صاحب کی بات کی سمجھ آئی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مسلم نون کی مرکزی قیادت آزاد کشمیر کی قانون سازاسمبلی سے خطاب کے لیےآنا چاہتی تھی تو اس سے قبل ایک نجی چینل کو انٹرویو میں سردار خالد ابراہیم صاحب نے کہا تھا کہ وہ آ جاتے ہیں ہمیں لیکچر دینے کے لیے ہم لیکچر سننے کو اب تیار نہیں انہیں ہمیں سننا ہوگا کیونکہ ہم بحثیت کشمیری مسلہ کشمیر کو بہتر طور پر نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر سکتے ہیں۔ایک سوال کے پوچھے جانے پہ کہ وہ آئیں گے تو آپ ان سے کیا بات کریں گے تو آپ نے فرمایا کہ وہ آجائیں گے ہم انہیں بتا دیں گے کہ ہم نے کیا بات کرنی ہےاور پھر یوں ہوا کہ نواز شریف ہی نہ آئے۔سردار خالد ابراہیم مرحوم نے پانچ فروری کو یوم یکجیتی کشمیر کے موقع پر وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میٍں جہاں ریاست جموں و کشمیر کی حق خود ارادیت کی تحریک میں مختلف قومیتوں اور قبائل کا ذکر کیا وہیں پر سردار محمد ابراہیم خان صاحب مرحوم کی تحریک ازادی کشمیر کے حوالہ سے لازوال اور غیر متزلزل قربانیوں کا بھی تذکرہ کیا۔

ایک موقع پر اس وقت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے ایک متنازعہ بیان پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے فرمایا کے آج اس جماعت کے لیڈر کہتے ہیں کے شیخ مجیب الرحمن محب وطن تھا اور اس کے ساتھ اس ملک میں زیادتی ہوئی ہے۔وہ اکثریتی جماعت تھی وہ اکثریت میں تھے وہ محب وطن تھا اور اس کے ساتھ اس ملک میں زیادتی ہوئی ہے۔شیخ مجیب الرحمن وہ آدمی تھا جس نے قائد اعظم کے پہلے دورے پر مشرقی پاکستان میں زبان کےمسئلے پر احتجاج کیا اور اس نے بنگلہ دیش کی جو بنیاد ہے وہ 1947 میں رکھ دی تھی۔وہ آج آپ کے لیے محب وطن ہے ۔آج آپ اس کی مثال دے کر آپ ایک پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میرے لیے قابل قبول نہیں ہے۔میں سوچوں گا کے کس پاکستان کا ساتھ دوں یہ اس پاکستان کا ساتھ دیں گے جو مجیب الرحمن کے پیروکار آگے چل کر بنائیں گے۔کبھی ہم کو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔میں آپ سے عرض کرتا ہوں یہ خطہ ہم نے آزاد کرایا ہم نے اس میں نظام بنایا۔میں پھر آپ سے عرض کرتا ہوں کہ قائد اعظم کے ویژن سے ہٹ کر کوئی بات ہوگی تو ہمارے لیے قطعا قابل قبول نہیں ہوگی۔ہم نے اگر ڈوگرہ کو اس خطہ سے نکالا ہےاور پاکستان سے غلط سوچ کے لوگوں کو بھی اس خطہ سے نکال سکتے ہیں۔آج پانچ فروری سچ بولنے کا دن ہے۔یہ تھی وہ اصول پسند اور جرات مند قیادت جو اب ہم میں نہ رہی۔

پاکستان و ازادکشمیر سمیت بر صغیر اور اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا کی تاریخ میں لوگوں کے بنیادی حقوق, اداروں کی بالادستی اور ریاستی تشخص کے لیے کسی سیاستدان نے دو مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب سے جیتی ہوئی سیٹ سے استعفی نہیں دیا ہوگا۔یہ اعزاز بھی آپ ہی کو جاتا ہے۔روزنامہ جنگ نے آپ کی شخصیت پر ایڈیٹوریل لکھتے ہوئے آپ کو مسٹر کلین کہہ کر مخاطب کیا۔ آپ کبھی بھی موروثی سیاست پہ یقین نہیں رکھتے تھے آپ نے اپنی طویل سیاسی سفر کے دوران کبھی بھی اپنے بچوں کو سیاست میں نہیں آنے دیا۔آپ کی وجہ شہرت غازی ملت کی ذات نہ تھی بلکہ آپ اپنے کردار, قائدانہ صلاحیتوں اور اصول پسندی کی وجہ سے اپنی ایک جداگانہ شناخت رکھتے تھے۔غازی ملت پاور پالیٹکس میں اقتدار کی مسند تک رسائی کے لیے سردار خالد ابراہیم کے مقابلے میں ایک الگ سوچ اور نقطہ نظر رکھتے تھے۔مگر سردار خالد ابراہیم خان نے ساری زندگی مزاحمت کی سیاست کی اور سمجھوتے اور کچھ لو اور دو کی سیاست سے ہمیشہ دور رہے۔دو ٹوک موقف ,بے باک اور اصولی سیاست کی وجہ سے آپ کبھی اقتدار کی مسند تک نہ پہنچ سکے۔یہ الگ بات ہے کہ اقتدار نے کئی مرتبہ آپ کی دہلیز پر دستک دی جو آپ نے ٹھکرا دی۔آپ کہا کرتے تھے کہ ہم اقتدار کے خواہش مند ضرور ہیں مگر اقتدار کے بھوکوں میں شامل نہیں۔

سردار خالد ابراہیم مرحوم کہا کرتے تھے کہ دولت اور سرمائے کی بنیاد پر اگر سیاسی جماعتیں پروان چڑھتی تو آج اسلام آباد کی ہر دوسری کوٹھی پر کسی ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا۔آپ کہا کرتے تھے کہ ہجوم کے ساتھ چلنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے اصولی موقع پر اکیلا کھڑا ہو۔آپ کہا کرتے تھے کہ جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں ہم گننے کے علاوہ کچھ تولنے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔میں نے کچھ سیاسی کھڑ پینچوں اور کم ظرف لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ ایسا سرو کا درخت تھا جو نہ پھل دیتا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی سایہ اور چھاؤں تھی۔میں ان سیاسی ناعاقبت اندیشوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ایسے بے فیض لوگوں کے لیے سرو کا درخت ہی ہوئے ہوں گے۔مگر قوم اور معاشرے اور ملک و ملت کے لیے تو وہ شجر سایہ دار تھے شجر ثمردار تھے۔ایک ایسا شجر سایہ دار تھے جس کی چھاؤں سے اپنے تو کیا پرائے بھی فیض یاب ہوتے تھے۔بلا شبہ وہ شجر ثمردار تھے. سردار خالد ابراہیم مرحوم کہا کرتے تھے کہ میں کوئی ٹوٹی کھمبے کی سیاست نہیں کرتا تو لوگ طعنہ دیتے تھے کہ یہ انگلینڈ کی سیاست اور باتیں کرتا ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارا کام قانون سازی ہے اور یہ کام اداروں کا ہے انہیں کرنا چاہیے۔آج جب بلدیاتی نمائندے اپنے حقوق اور وسائل کے حصول کے لیے سراپہ احتجاج ہیں اور قانون ساز اسمبلی کے ممبران اور حکومت وقت سے اپنا حق مانگ رہے ہیں تو بلاواسطہ طور پر ریاست بھر کے بلدیاتی ممبران سردار خالد ابراہیم خان صاحب کے موقف کی تائید و تقلید کر رہے ہیں۔وقت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ سردار خالد ابراہیم اپنے اصولی موقف پر درست سمت میں کھڑے تھے۔

مسلم کانفرنس کے دور اقتدار میں پبلک سروس کمیشن کے بجائے برائے نام سلیکشن کمیٹی کے ذریعے 480 سے زائد آفیسران کی خلاف میرٹ تقرریاں ہوں یا بے روزگار گریجویٹس میں زکوۃ سکالرشپ کے چیک کی تقسیم, ریاستی اسمبلی میں ممبران قانون ساز اسمبلی کے لیے پینشن بل کی مخالفت جس نے اس بل کو جو بالاتفاق رائے منظور ہو رہا تھا کو کثرت رائے میں تبدیل کر دیا۔گلگت بلتستان کی حیثیت کو لے کر حکومت پاکستان اور پالیسی ساز اداروں کی بدلتی پالیسیز کے حوالے سے دو ٹوک اور بے باک موقف ہو یا کسی ریاستی وزیراعظم یا صدر ریاست کے مینڈیٹ کی بے توقیری کا معاملہ سردار خالد ابراہیم مرحوم اپوزیشن بنچز پر ہوں یا حکومتی اتحادی کے طور پر حکومت کا حصہ عوامی مسائل سے لے کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں اور آمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری جرات کے ساتھ ریاستی عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کرنے والا اور قانون ساز اسمبلی میں حقیقی معنوں میں ٹوٹی کھنبے اور سکیموں کی سیاست کے بجائے قانون سازی پر یقین رکھنے والا ,اداروں کی بحالی و استحکام,آئین و قانون کی حکمرانی کی حقیقی معنوں ترجمانی کرنے والی شخصیت و سیاستدان سردار خالد ابراہیم مرحوم ہی تھے۔حالیہ عدالتی بحران تک سردار خالد ابراہیم مرحوم کا اٹھایا ہر قدم درست ثابت ہوا۔آپ نے عدالتی بحران کے دوران اس عزم کا تواتر سے اعادہ کیا تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں نہ یہ کرپٹ چیف جسٹس رہے گا اور نہ ہی خلاف میرٹ بھرتی ہونے والی پانچ ججز۔ان سب کو جانا ہی ہوگا۔آپ نے کہا تھا کہ میں 40 ہزار تنخواہ لینے والے باوردی پولیس کانسٹیبل کی وردی کے احترام میں گرفتاری دینا پسند کروں گا مگر کرپٹ چیف جسٹس کے روبرو پیش نہیں ہوں گا۔

آخری عدالتی نوٹس کی رات اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو اپنی عدالت میں بلا کر آپ کو سرخرو بھی کر دیا اور امر بھی۔آپ کرپٹ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہ ہوئے اللہ تعالی نے اس درویش انسان اور مرد قلندر کی زبان سے نکلے لفظ لفظ کو سچ ثابت کر دکھایا اور لاج بھی رکھی۔بعدآنے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نہ صرف خالد ابراہیم صاحب کے موقف کو درست مانا بلکہ پانچ خلاف میرٹ ججز کو بھی گھر جانا پڑا۔
میں نے سردار خالد ابراہیم مرحوم کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں طویل سفر اختیار کیا خالد ابراہیم صاحب قریہ قریہ ,گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو ایک ہی پیغام دیتے تھے کہ آپ ایک دن ہماری عزت نفس کا خیال کریں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ہم پانچ سال آپ کی عزت نفس کا خیال کریں گے اور آپ کو آپ کے حقوق آپ کے گھر کی دہلیز پر فراہم کریں گے۔لوگوں کو ووٹ نہ دینے کے بعد بھی شکوہ ہی رہتا تھا کہ سردار خالد ابراییم مرحوم مزاحمت کی سیاست نہیں کرتے جلسے جلوس اور احتجاج کیوں نہیں کرتے خالد ابراہیم صاحب کہتے تھے جب آپ نے ایک شخص کو اپنا حق نمائندگی کا اختیار دے دیا ہے تو یہ ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم آپ کے ووٹ اور رائے کے تقدس کے احترام ہیں پانچ سال تک اس کا احترام بھی کریں اور برداشت بھی یہی جمہوریت کا حسن ہے۔پانچ سال بعد ایک دن آپ کو پھر موقع ملے گا آپ گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی کی بنیاد پر اس نمائندے کو اپنے ووٹ کی پرچی سے مسترد کر سکتے ہو۔مگر بدقسمتی سے حلقہ انتخاب کے لوگوں نے 15 سال لگا دیے خالد ابراہیم صاحب کی بات کو سمجھنے میں۔

یہ دنیا ہے جہاں انسان کو لوگوں کی نظروں میں زندہ رہنے اور مقام پانے کے لیے امر ہونا پڑتا ہے۔پانچ نومبر 2017 کو سردار خالد ابراہیم مرحوم اپنے لاکھوں چاہنے والوں اور سوگواران کو غمزدہ اور اکیلا چھوڑ کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔آپ کی نماز جنازہ میں عوام کا سمندر امڈ آیا۔ہر آنکھ اشکبار تھی۔آپ کو آہوں اور سسکیوں میں کوٹ متے خان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔یوں ریاست جموں و کشمیر و پاکستان کیا دنیائے سیاست کا ایک عظیم سیاست دان ,رہنما اور کردار واصول کا ایک روشن باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔اللہ تبارک و تعالی رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں آپ کی مرقد پر کروڑوں برکتوں اور رحمتوں کا نزول فرمائے۔اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
قوم تیرے نام کی تعظیم کرے گی
تاریخ کے اوراق میں تو پائندہ رہے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں