تحریر :رقیہ بی بی
کلثوم آئینے کے سامنے کھڑی تھی، مسٹرڈ رنگ کا سوٹ پہنے، جیسے وہ اپنی زندگی کی کسی ادھوری تصویر کا ایک حصہ ہو۔ سوٹ اُس کے بدن سے لپٹا ہوا تھا، لیکن اُس کے دل میں عجیب سا خلاء تھا، ایک بے نام سا دکھ، جو اُس کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے کہیں چھپا ہوا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اُس کی انگلیوں میں مڑتا جا رہا تھا، جیسے اُس کی اپنی زندگی کی پیچیدگیاںامی، کیسی لگ رہی ہوں؟ اُس نے پلٹ کر بے اختیار پوچھا۔امی نے سرسری نظر ڈالی، جیسے کوئی اہم بات نہ ہو، اور بیزاری سے کہا، ٹھیک ہو۔ خالہ کی کال آئی؟
نہیں ابھی تک نہیں آئی۔ کلثوم نے دھیرے سے جواب دیا، مگر اُس کے اندر کی بے چینی اور بڑھ گئی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ اُس کے دل میں شک اور وسوسے بڑھا رہا تھا، جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو، جیسے کوئی پوشیدہ سچائی اُس کے قریب آ رہی ہو۔اچانک فون بجا، اور عتیقہ کی کال آ گئی۔تمہیں سعدیہ کی منگنی میں بلایا گیا ہے؟ عتیقہ کی آواز میں حیرانی اور جلد بازی تھی۔نہیں، ابھی تک کوئی کال نہیں آئی۔ کلثوم کی سانسیں جیسے رُک گئیں۔کمال ہے، سب کو بلایا ہے! آج رات ہی منگنی ہے عتیقہ کی بات نے جیسے اُسے جھنجھوڑ دیا۔
آج رات؟ کلثوم کے ہاتھ سے دوپٹہ نیچے گر گیا، دل جیسے لمحہ بھر کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔رات کا اندھیرا چھا رہا تھا، اور سعدیہ کی منگنی کی تقریب شروع ہو چکی تھی۔ روشنیوں سے جگمگاتا ہوا ہال، قہقہوں کی آوازیں، اور خوشیوں کے شور میں کلثوم کا خاندان کہیں موجود نہیں تھا۔ وہ مسٹرڈ رنگ کا سوٹ جو کبھی اُس کی خوشیوں کا ساتھی بننے والا تھا، اب ایک بوجھ کی طرح اُس کے جسم سے لپٹا ہوا تھا۔گھر کی خاموشی اُس کے دل کی تنہائی سے میل کھا رہی تھی۔اگلی صبح کا سورج نکلا، مگر کلثوم کی رات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ امتحان کا دن تھا، مگر اُس کا ذہن کہیں اور الجھا ہوا تھا۔ پھر اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ سعدیہ کا نام اسکرین پر چمک رہا تھا۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہو گئی۔
ہیلو، کلثوم نے سست آواز میں کہا۔توصیف، مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔ وعدہ کرو کسی کو نہیں بتاؤ گی سعدیہ کی آواز میں ایک ایسی سردی تھی جس نے کلثوم کو اندر سے ہلا دیا۔کیا بات ہے؟ کلثوم نے گھبرا کر پوچھااگر وہ مجھے نہ ملا، تو میں مر جاؤں گی سعدیہ کی آواز میں ایسی وحشت تھی کہ کلثوم کا دل دہل گیا۔
کون؟ تم کیا کہہ رہی ہو؟ کلثوم کی آواز لرزنے لگی.تمہارا بھائی! اگر اُس نے مجھ سے شادی نہ کی، تو میں زندہ نہیں رہوں گی سعدیہ کی بات جیسے کسی طوفان کی طرح آئی اور کلثوم کی دنیا کو بکھیر کر رکھ دیا۔کیا؟ تم میرے بھائی کی بات کر رہی ہو؟ کلثوم کا دل جیسے زور سے دھڑکاہاں، میں اُسے چاہتی ہوں، اُس کے بغیر میں مر جاؤں گی سعدیہ کی آواز میں دیوانگی تھی، جیسے اُس کے الفاظ میں کوئی انتہا ہو.
کلثوم کی سانسیں رک گئیں، اُس کے لیے یہ سب کچھ ناقابلِ یقین تھا تم پاگل ہو گئی ہو؟ ایسی باتیں نہ کرواگر تم نے کسی کو بتایا، تو میں خود کو مار لوں گی سعدیہ کی دھمکی نے کلثوم کو ساکت کر دیا .کلثوم نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں پھر سرد لہجے میں کہا، “تو پھر مر جاؤ! اور فون بند کر دیا۔اُس کا دل بھاری ہو چکا تھا، جیسے کوئی ناقابلِ برداشت بوجھ اُس کے سینے پر رکھ دیا گیا ہو۔ سعدیہ کی باتیں، اُس کی دھمکیاں، اُس کی دیوانگی سب کلثوم کے ذہن میں گونج رہی تھیں، جیسے کوئی بھیانک خواب اگلے دن، کلثوم نے بھائی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھائی، سعدیہ کہتی ہے کہ اگر تم نے اُس سے شادی نہ کی، تو وہ خودکشی کر لے گی.
بھائی نے چونک کر دیکھا، مگر جلد ہی اُس کے چہرے پر لاتعلقی چھا گئی۔ وہ غلط فہمی میں ہے،میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں اُس میں دلچسپی رکھتا ہوں.کلثوم نے ایک گہری سانس لی۔ ایک طرف سعدیہ کی دیوانگی اور دوسری طرف بھائی کی بے حسی دونوں انتہائیں اور وہ خود بیچ میں کہیں کھو چکی تھی
دن گزرتے گئے اور سعدیہ کی شادی جلدی میں کسی اور سے طے کر دی گئی۔ ایک سادہ سی تقریب میں اُس کی منگنی انجام پا گئی اور زندگی کے سارے خواب دھندلا گئے.کلثوم نے ایک آخری نظر مسٹرڈ رنگ کے سوٹ پر ڈالی جو اُس دن کے لیے تیار تھا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ وہ سوٹ اُس کی زندگی کے ادھورے خوابوں اور چھپے رازوں کا گواہ تھا۔