ٹویٹ کی تلوار، اچانک سیز فائر

38

تحریر: محمد رفیع
پاکستان کے حالیہ جرات مندانہ اقدام نے نہ صرف ہندوستان کے دفاعی نظام کی قلعی کھول دی ہے بلکہ اس کی سیاسی بساط کو بھی پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ “آپریشن بنیان المرصوص” کے ذریعے پاکستان نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس آپریشن کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا، اس نے جنوبی ایشیا کے منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔مودی حکومت، جو پاکستان کو سبق سکھانے کے بلند و بانگ دعوے کر رہی تھی، اچانک سیز فائر پر کیوں آمادہ ہوئی؟ یہ سوال بھارت کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں شدت سے گونج رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی صفوں میں خاموشی ہے، اور اپوزیشن کھل کر سوالات اٹھا رہی ہے کہ یہ پسپائی کیوں اور کیسے ہوئی؟ بھارتی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

سب سے بڑا سیاسی جھٹکا اس وقت لگا جب سیز فائر کا اعلان بھارت یا پاکستان کی بجائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر پر کر دیا۔ ایک عالمی طاقت کی جانب سے اس نوعیت کی یکطرفہ سفارتی مداخلت ہندستانیوں کے لئے نہ صرف حیران کن تھی بلکہ بھارت کے لیے ایک بڑی خفت کا سبب بنی۔ وہ بھارت جو ہمیشہ غیر ملکی ثالثی کی مخالفت کرتا آیا ہے، آج خاموشی سے اس “ٹویٹ کی تلوار” کو نگلنے پر مجبور ہے۔وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر میں امریکی کردار کا ذکر نہ ہونا، اور وزیر دفاع و داخلہ کی مسلسل خاموشی، بھارتی عوام کے شکوک کو اور گہرا کر رہی ہے۔ وہی گودی میڈیا جو کچھ روز پہلے تک اسلام آباد، لاہور اور کراچی پر قبضے کے دعوے کر رہا تھا، اب حیرت انگیز طور پر خاموش ہے۔ کیا یہ خاموشی ایک شکست کی چپ چاپ قبولیت ہے؟

پاکستان کی سفارتی محاذ پر کامیابی سے ہندستانی تلملا اٹھے ھیں کہ بھارت کی بھر پور مخالفت کے باوجود آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر کا قرضہ کیسے منظور کر لیا۔ بھارتیوں کا کہنا ہے کہ نیدر مودی نے ہمیں جیت کا بتا کر آپریشن سندور سے اپنے لئے ہار کیسے تلاش کر لی۔۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو “ہزار سال پرانا تنازعہ” قرار دیا بلکہ ثالثی کی پیش کش بھی دہرائی۔ یہ پیش رفت بھارت کی مستقل خارجہ پالیسی کے خلاف ایک واضح دھچکا ہے۔بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ حکومت سے پوچھا جا سکے کہ کس کے کہنے پر سیز فائر کیا گیا، کن شرائط پر، اور اس میں امریکہ کا کیا کردار ہے؟ سیز فائر کے پردے میں چھپے اس دباؤ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ “آپریشن سندور” کے نتیجے میں بھارت نے کیا پایا؟ پاکستان کو جھکانے کے خواب دیکھنے والا بھارت، آخر کار عالمی سفارت کاری کے ترازو میں خود پاکستان کے برابر تول دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا ٹویٹ دونوں ممالک کو ایک ہی پلڑے میں لے آیا، سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب سعودی عرب کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف کیا کہ امریکہ نے بھارت کو تجارت کی پیش کش دے کر سیز فائر پر آمادہ کیا۔ ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کے حل پر اپنے عزم کو پھر دہرا کر بی جے پی حکومت کی رہی سہی سفارتی ساکھ پر کاری ضرب لگائی۔یہ تمام حالات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ بھارت اب اس سیز فائر سے راہِ فرار کے بہانے تلاش کرے گا۔ پاکستان کو اس موقع پر چوکنا رہنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ایک محتاط، ہوشیار اور باوقار سفارتی حکمت عملی ہی پاکستان کی اس برتری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ اچانک سیز فائر محض جنگ بندی نہیں، بلکہ مودی حکومت کی سیاسی حکمتِ عملی پر ایک کاری ضرب ہے—شاید وہ آخری کیل جو ان کے سیاسی تابوت میں ٹھونکی جا چکی ہے۔صدر ٹرمپ کے ٹویٹ نے بھارتی سیاست میں جو زخم لگایا ہے اسکی گہرائی کا اندازہ نریندر مودی ہی لگا سکتے ھیں ۔جس تن لاگے وہی تن جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں