ٹی ٹی پی, ٹی ٹی اے اور پی ٹی ایم گٹھ جوڑ

49

از: عبدالباسط علوی
پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کی لعنت سے نبرد آزما ہے جس سے اس کے استحکام، ترقی اور بین الاقوامی تعلقات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس لعنت سے نمٹنے کے لیے متعدد کوششوں کے باوجود ملک اب بھی دہشت گردی کی جڑوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ پاک فوج اپنے خون کا نذرانہ دے کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کا اندازہ 1970 کی دہائی کے اواخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل سے لگایا جا سکتا ہے جب یہ پاکستان افغان سوویت جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بن گیا تھا۔ اس عرصے میں سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت میں پاکستان کی شمولیت، مذہبی عدم برداشت اور انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے فرقہ واریت کے عروج نے ملک کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف مہلک حملوں میں ملوث رہی ہیں، جس سے تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا-

پاکستان میں دہشت گردی کے نتائج تباہ کن رہے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور لاتعداد افراد یا تو زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک کے سماجی و اقتصادی سسٹم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اہم انفراسٹرکچر اور صنعتیں بار بار ہونے والے حملوں کا شکار رہی ہیں۔ دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خوف اور عدم تحفظ نے ترقی کو روکا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈالی ہے اور شہریوں کے اندر بھی خوف کی فضا قائم کئے رکھی ہے۔ مزید یہ کہ دہشت گردی نے پاکستانی عوام کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ عوامی مقامات اور اجتماعات پر آزادی سے جانے کا خوف رہا ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو ئ ہے اور سماجی معاملات بھی محدود اور عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس سے طلباء، اساتذہ اور عبادت گزاروں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اہم کوششیں کی ہیں اور عسکریت پسند گروپوں کو کمزور کرنے میں خاصی پیش رفت کی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان کی حالیہ تاریخ کی سب سے طاقتور اور سفاک دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے۔ 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے ٹی ٹی پی نے متعدد دہشت گرد حملے کیے ہیں جن میں لاتعداد معصوم جانیں گئیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ۔ٹی ٹی پی نے اپنی جڑیں 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد کے ہنگامہ خیز نتائج کے دوران مضبوط کیں۔ افغان طالبان کے دھڑوں سمیت بہت سے عسکریت پسند گروپوں نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں مختلف عناصر ان ٹی ٹی پی کے جھنڈے تلے ضم ہو گئے۔ اس گروپ کا مقصد اسلامی امارت کا اپنا ورژن قائم کرنا اور پورے پاکستان میں سخت شرعی قانون نافذ کرنا تھا۔ ابتدا میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں اور بعد میں حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ کے ذریعے ٹی ٹی پی نے پاکستانی ریاست کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا اور اسے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں امریکہ کی کٹھ پتلی کے طور پر دکھایا۔ ان کے مقاصد میں حکومت کا تختہ الٹنا، اعتدال والے ساتھیوں کو ختم کرنا اور تشدد اور دھمکی کے ذریعے اسلام کی اپنی انتہا پسندانہ تشریح کو نافذ کرنا شامل تھا۔

ٹی ٹی پی کے حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں بے گناہ شہریوں کا جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ٹارگٹڈ بم دھماکوں، خودکش حملوں اور بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ملک بھر میں خاندانوں اور برادریوں کے لیے بے پناہ مصائب اور غم کا باعث بنے ہیں۔ تشدد اور دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے، سیاحت کو نقصان پہنچا ہے اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں جس سے مجموعی اقتصادی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ ٹی ٹی پی کے حملوں نے بہت سے لوگوں کو شورش زدہ اور متاثرہ علاقوں میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے جس کی وجہ سے اندرونی نقل مکانی ہوئی ہے اور میزبانی والے علاقوں کے پہلے سے ہی محدود وسائل پر دباؤ پڑا ہے۔ ٹی ٹی پی فرقہ وارانہ حملوں، مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے اور پاکستان کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے میں بھی ملوث رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسز نے تنظیم کو ختم کرنے کے لیے اور دہشت گردی کے خلاف وسیع آپریشن کیے ہیں۔

آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد جیسے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز میں قبائلی علاقوں اور ان سے باہر ٹی ٹی پی کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے کئی رہنماؤں اور عسکریت پسندوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا ۔ تاہم ٹی ٹی پی دوبارہ منظم ہوتی رہی ہے اور اپنی حکمت عملی اور مذموم کارروائیوں میں میں مصروف رہی ہے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کی سرحد پار نقل و حرکت اور فنڈنگ نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مقابلہ کرنے میں اہم پیش رفت کے باوجود کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔بنیاد پرستی کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، خاص طور پر پسماندہ کمیونٹیز میں جہاں تعلیم اور معاشی مواقع تک محدود رسائی ہے۔

حال ہی میں ٹی ٹی پی نے ایک بار پھر پاکستان کو نشانہ بنایا ہے اور ایک مسجد کو شہید کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں علی مسجد تھانے کی حدود میں ایک دھماکے میں ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید ہو گئے. جمرود خودکش دھماکے میں 2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں پشاور منتقل کر دیا گیا۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل کرایا گیا جہاں ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور اشفاق انور نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دھماکے کی جگہ سے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ وہاں موجود شخص کو تلاشی کے لیے بلایا تاہم وہ شخص تلاشی دینے کے بجائے مسجد کی طرف بھاگا، ایڈیشنل ایس ایچ او خودکش حملہ آور کے پیچھے بھاگے اور اسی دوران حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا، خودکش دھماکے میں ایڈیشنل ایس ایچ او شہید ہوگئے۔

آئی جی خیبرپختونخوا پولیس اختر حیات خان کے مطابق دھماکا علی مسجد کی حدود میں ڈو سرکہ کے علاقے میں مسجد کے اندر ہوا۔ تلاشی کے دوران خودکش حملہ آور فرار ہو کر مسجد میں چھپ گیا۔ آئی جی کے مطابق ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی نے حملہ آور کو پکڑنے کے لیے اس کا پیچھا کیا اور جیسے ہی وہ مسجد پہنچے تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں تھانہ علی مسجد کے ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی موقع پر ہی شہید ہوگئے جب کہ دھماکے سے مسجد کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے خیبر مسجد میں خودکش دھماکے کی رپورٹ تیار کرلی، دھماکے میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ بم ڈسپوزل یونٹ کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ سے خودکش جیکٹ اور بال بیرنگ کے ٹکڑے ملے ہیں، بم ڈسپوزل یونٹ نے دھماکے کی جگہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

سات ماہ کے اندر ٹی ٹی پی نے دوسری مسجد کو شہید کر دیا۔ پولیس لائن کی مسجد کی شہادت اور ٹی ٹی پی کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ ٹی ٹی پی منافقت اور دہشتگردی کی انتہا پر ہے۔ اسلام اور شریعت کے نام پر یہ نام نہاد مذہبی دہشت گرد ہمارے ملک، قوم اور مذہب کے اصل دشمن ہیں۔قارئین، مختلف علاقوں میں خاص طور پر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور خیبر پختونخواہ (کے پی) میں فوجی کارروائیوں نے دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مزید برآں حکومت نے دہشت گردی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے قانون سازی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان (NAP) 2014 میں نافذ کیا گیا جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو بڑھانا، نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنا اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنا تھا۔ اگرچہ خاصی پیش رفت ہوئی ہے مگر دہشت گردی کو مکمل طور پر اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مستقل اور جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی ایک کثیر جہتی چیلنج ہے جو اپنی تاریخی جڑوں، سماجی و اقتصادی محرکات اور نظریاتی بنیادوں کو حل کرنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اور پلاننگ کا تقاضا کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فوجی طاقت بلکہ تعلیم، غربت کے خاتمے اور اداروں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسا پائیدار اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جو انتہا پسندوں کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہو۔ بین الاقوامی تعاون بھی اتنا ہی اہم ہے کیونکہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ پڑوسی ممالک خاص طور پر افغانستان اور بھارت پاکستان کی کوششوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے انسداد کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کر کے اس کا سدباب کر سکتا ہے۔

اب آتے ہیں ایک اور نکتے کی طرف۔ باوثوق ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پولیس لائن مسجد پشاور حملے کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے لئے پیدا ہونے والی شدید عوامی مخالفت اور حکومتِ پاکستان، آرمی چیف اور آئی ایس پی آر کے ردعمل کے بعد افغان حکومت نے جو بیان دیا اسکے بعد سے ٹی ٹی پی خود کسی حملے کی ذمہ داری نہیں لے رہی بلکہ مختلف ناموں یا گروہ کی نئی تنظیم ظاہر کرکے ذمہ داری قبول کررہی ہے. جمرود مسجد میں چھپے ہوئے ایک دہشت گرد جس نے ایس ایچ او آفریدی کے پہنچنے پر خود کش دھماکہ کیا، اسی کا ساتھی باہر عوام کے ہاتھ چڑھا ہوا تھا جسے ذخمی حالت میں CTD نے اپنی تحویل میں لیا جس سے پورے نیٹ ورک کی بابت پوچھ گچھ جاری ہے. تحریک طالبان پاکستان کیلئے مذہبی حلقوں میں جو تھوڑی بہت ہمدردی تھی وہ اب مکمل ختم ہوچکی ہے. دوسری طرف افغانستان بطورِ ریاست بھی TTP کی اسطرح کے حملوں پر شدید تحفظات رکھتی ہے،البتہ وہاں انفرادی سطح پر کہیں کہیں کوئی حمایت ضرور ہے.

اس سب میں سب سے تشویشناک بات یہ کہ تحریک طالبان پاکستان کیطرف سے ہونے والے حملوں کے بعد پولیس، ایف سی، فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف ایک منظم مہمات شروع کیجاتی ہیں ، جنکا نقطہ آغاز پولیس اور باقی تمام اداروں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش سے ہوتا ہے. حالانکہ دہشت گردی کے خلاف پولیس نے نہ صرف کم وسائل میں بہت کام کیا ہے بلکہ قربانیاں بھی بہت دی ہیں. زرائع کے مطابق ان مہمات کو ترتیب دینے میں پی ٹی ایم (PTM) پیش پیش ہوتی ہے اور اسکے بعد مخصوص طبقہ اسی بیانئے کو سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے ساتھ ملکر پھیلاتا ہے.فنا ہوتی ٹی ٹی پی کی امیدیں اس وقت پی ٹی ایم سے ہیں. بظاہر نظریاتی طور پر دو مختلف گروہ کا بیانیہ ایک ہی ہے اور اس سب میں پشتون جس طرح پِس رہا ہے وہ نوشتہ دیوار ہے. ٹی ٹی پی پاکستان میں اپنی نظریاتی، مالی اور بندوبستی حمایت کھونے کے بعد افغانستان میں بندوبستی پناہ لئے ہوئے ہے اور پاکستان میں اسطرح کی کارروائیاں ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی پر پاکستان کے بیانیے کو قبول کرنے کے لئے افغان حکومت پر دباؤ کا باعث ہوتی ہیں. اسلئے افغان طالبان کی ناراضگی سے بچنے کے لئے ٹی ٹی پی ذمہ داری نئی تنظیموں (جو یکسر موجود ہی نہیں) سے کرواتی ہے جب کہ پروپیگنڈہ کے لئے پی ٹی ایم معاونت کرتی ہے.

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان اب بھی قریبی تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے 3000-6000 دہشت گرد افغانستان میں مقیم ہیں۔ پاکستان سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث مرکزی دہشت گرد یاسر کو افغانستان میں سرکاری پروٹوکول حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی کے بہت سے دہشت گرد بشمول نور ولی محسود، علیم خان خوشالی وغیرہ افغانستان میں رہتے ہیں۔ اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خراسانی اور ٹی ٹی پی کے بہت سے دہشت گرد جیسے مفتی حسن، حافظ دولت خان اور محمد شاہ وغیرہ افغانستان میں مارے گئے۔ خوست میں ٹی ٹی پی کا تربیتی مرکز ہے جہاں پاکستان کے لیے خودکش بمباروں کو بھرتی اور تربیت دی جاتی ہے۔ افغانستان اب بھی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا میزبان اور سہولت کار ہے جو پاکستان اور پاک فوج کے نوٹس میں ہے۔ پاک فوج ان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہے اور وطن عزیز کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے –

قارئین، ٹی ٹی پی ایک طرف افغانستان سے منسلک غیر محفوظ سرحد کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف قبائلی علاقوں جیسی جگہوں پر پناہ گاہیں تلاش کر رہی ہے جو انسداد دہشت گردی کی مؤثر کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی اور اسکی سہولت کاری کا باب بند ہونا چاہیے۔ خصوصاً ٹی ٹی پی کے لیے ٹی ٹی اے اور پی ٹی ایم کی سرپرستی اور سہولت کاری کو افغانستان کے ساتھ ہر سطح پر اٹھایا جانا چاہیے اور پاکستانی شہریوں اور مسلح افواج کی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں اور قوم وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کی بھی توقع کرتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں