تحریر: ظفر رشید
پاکستان میں یوٹیوب ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں لوگ مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، جب کسی یوٹیوبر کے ویوز کم ہونے لگتے ہیں، تو وہ کسی نہ کسی تنازعے کو ہوا دے کر یا کسی سازشی نظریے کو پھیلا کر اپنی مقبولیت دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رجحان کسی ایک خاص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ مذہبی، سیاسی، اور کھیلوں سے متعلقہ یوٹیوبرز سبھی اس حکمت عملی کو اپناتے نظر آتے ہیں۔یہ یوٹیوبرز اپنے چینلز کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے کسی دوسرے شخص یا گروہ کو نشانہ بناتے ہیں، اس کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور اس پر الزامات لگاتے ہیں۔ عوام، جو پہلے ہی سنسنی خیزی اور تنازعات میں دلچسپی رکھتی ہے، ایسے موضوعات کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔ اس طرح ان یوٹیوبرز کو دوبارہ ویوز، سبسکرائبرز اور مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن ہمیں کوئی نہ کوئی نیا تنازعہ سوشل میڈیا پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی ایسے معاملات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں دو یوٹیوبرز کے درمیان کھلم کھلا لفظی جنگ چھیڑ دی گئی۔ کبھی انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی حنیف قریشی کے درمیان مباحثہ شروع ہو جاتا ہے، تو کبھی اقرار الحسن اور پیر حق خطیب کے درمیان جھگڑے کی خبریں گردش کرنے لگتی ہیں۔ آج کل انجینئر محمد علی مرزا اور عمران ریاض کا تنازعہ خبروں میں ہے۔ عوام کو لگتا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک دوسرے کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک نادیدہ معاہدہ ہوتا ہے، جس کے تحت وہ ایک دوسرے پر تنقید کر کے اپنے اپنے چینلز کی مقبولیت بڑھاتے ہیں اور اپنی کمائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔یہ رجحان اس لیے بھی فروغ پا رہا ہے کیونکہ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وہی مواد زیادہ وائرل ہوتا ہے جو لوگوں کے جذبات کو بھڑکائے۔ جب کسی ویڈیو میں کوئی تنازعہ یا تلخی ہو، تو لوگ زیادہ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہیں، اس پر تبصرے کرتے ہیں، اور شیئر بھی کرتے ہیں۔
اس عمل سے یوٹیوبرز کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ زیادہ ویوز کا مطلب زیادہ آمدنی ہے۔ دوسری طرف، عوام کی نفسیات بھی اس رجحان کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ پاکستانی عوام عام طور پر لڑائی جھگڑے اور سنسنی خیز خبروں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ سنجیدہ اور تحقیقی مواد کے مقابلے میں وہ ایسی ویڈیوز دیکھنا پسند کرتی ہے جن میں گرما گرم مباحثے ہوں، جھگڑے ہوں، اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہو۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مذہب، سیاست اور کھیل جیسے حساس موضوعات کو دانستہ طور پر تنازعات میں گھسیٹا جاتا ہے۔ چونکہ یہ وہ موضوعات ہیں جو عوامی جذبات کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں، اس لیے یوٹیوبرز جان بوجھ کر ان معاملات پر بحث چھیڑتے ہیں تاکہ لوگ ان کی ویڈیوز دیکھنے پر مجبور ہو جائیں۔ کچھ یوٹیوبرز علمی اور تحقیقی پس منظر رکھنے کے باوجود سازشی نظریات میں الجھ کر اپنی مقبولیت بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ حقیقت کو مبالغہ آرائی اور غیر منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ ان کا مواد زیادہ سے زیادہ وائرل ہو۔یہ رجحان معاشرے پر کئی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام اصل مسائل سے غافل ہو جاتی ہے اور غیر ضروری جھگڑوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ نتیجتاً، ایسے موضوعات جو حقیقت میں اہمیت رکھتے ہیں، پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ان بے بنیاد تنازعات کی وجہ سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔یوٹیوب پر معیاری مواد کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چیخ و پکار، گالم گلوچ، اور بے بنیاد الزامات زیادہ وائرل ہونے لگے ہیں، جبکہ وہ ویڈیوز جو حقیقی علمی، تحقیقی اور تخلیقی مواد پر مبنی ہوتی ہیں، انہیں کم پذیرائی ملتی ہے۔اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ عوام کو خود شعور پیدا کرنا ہوگا۔
جب تک لوگ ان غیر ضروری تنازعات کو دیکھنا بند نہیں کریں گے، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ہمیں ان یوٹیوبرز کو سپورٹ کرنا چاہیے جو حقیقی اور مثبت معلومات فراہم کرتے ہیں، نہ کہ ان کو جو محض سنسنی خیزی کے لیے مصنوعی جھگڑے کھڑے کرتے ہیں۔ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کے خلاف سخت پالیسیاں متعارف کرائیں جو بلاوجہ کے تنازعات کو ہوا دیتا ہے۔اس کے علاوہ، عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔ لوگوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا ویڈیو پر فوراً یقین نہ کریں بلکہ پہلے اس کی حقیقت کو پرکھیں۔ جب عوام میں یہ شعور پیدا ہوگا، تب ہی یوٹیوب پر موجود غیر منطقی اور بے بنیاد سازشی نظریات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔پاکستانی یوٹیوب کمیونٹی میں یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے، اور اگر عوام نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں تو یہ مزید سنگین ہوتا جائے گا۔ جب تک لوگ خود غیر ضروری جھگڑوں اور سازشی نظریات پر مبنی مواد دیکھنا بند نہیں کریں گے، تب تک یہ یوٹیوبرز اپنے “ڈرامہ بزنس ماڈل” کو جاری رکھیں گے۔