پاکستان ایک کامیاب ایٹمی طاقت

220

تحریر:جمیلہ خاتون
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔اور جس نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں کامیابی حاصل کی۔اور پھر جب بھارت یہ جنگ ہار گیا ۔تو اس نے مختلف پراکسی وار کے حربے استعمال کرنا شروع کیئے۔بلوچستان میں اور خیبر پختونخواہ میں جو بھارت نے یہ جو پراکسی شروع کی ہے۔اور پاکستان انشاءاللہ اللہ پاک کے فضل وکرم سے ان عناصر کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عملی اقدامات کررہا ہے۔اس ضمن میں افغانستان کو پاکستان بار بار کہ چکا ہے۔کہ وہ جو عناصر پاکستان کے خلاف اس کی سرزمین سے کاروائی کررہے ہیں۔انہیں روکے۔پھر بار بار کہنے کے باوجود جب یہ عناصر پاکستان کے خلاف افغانستان کی سر زمین کو استعمال کررہے تھے۔تو پاکستان نے افغانستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ عبرت بنایا۔انشاءاللہ افواج پاکستان فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسسز حافظ عاصم منیر کی زیر قیادت ہر دشمن کے خلاف اندرونی ہو یا بیرونی ہمیشہ تیار کھڑی ہے۔اگر تاریخ کے آئینہ میں دیکھیں۔تو پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی۔جو ایک تاریخی حقیقت ہے۔ہم اپنی افواج پاکستان کے ساتھ ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔افواج پاکستان زندہ باد۔چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر زندہ باد۔

اب کچھ اپنے حوالے سے مختصر تعارف بھی کروا دوں۔میرا تعلق ایک فوجی خاندان سے ہے۔اور فوج سے محبت ہمارے بلڈ میں موجود ہے۔میرے ماموں پاکستان آرمی میں برگیڈیر قاضی عباس نے افواج پاکستان میں اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔دوسرے ماموں بھی افواج پاکستان میں رہے ہیں۔اور میرا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر سے ہے۔اور خواتین ونگ آزادکشمیر پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ہوں۔اور دفاع ونگ پاکستان کے زیر اہتمام ہم وطن عزیز پاکستان کیلئے افواج پاکستان کے حق میں سوشل میڈیا میں کردار ادا کررہےاور آزاد کشمیر میں راجہ تاج سلیم صاحب نے دفاع پاکستان کی بنیاد میں آزاد کشمیر میں رکھی۔اور ہم دفاع پاکستان کی مرکزی قیادت محترم پیر تاج جیلانی مرکزی چیئرمین پاکستان ڈیفنس ونگ کی قیادت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔اور میری زمہ داری بطوچیئرپرسن جرنلزم ونگ ہے۔اور جسے پورا کرنے کی میں ہمیشہ کوشش کرتی ہوں۔

آج ایک بہت بڑی حقیقت جو آج کے نوجوان کو سمجھانے کی بہت ضرورت ہے۔اور نظریہ پاکستان کیلئے بھی بہت اہم ہے۔پاکستان کیوں بنا؟۔اس کی ضرورت کیوں تھی؟۔کیا پاکستان جس سوچ اور ویژن کے تحت بنا تھا؟۔اس میں کامیاب ہوا؟۔کیا پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہے؟۔اور کیا پاکستان ایک کامیاب ملک ہے؟۔ان سارے سوالات کے جوابات میں آج اپنے قارئین کو اس آرٹیکل میں دینے کی کوشش کروں گا۔سب سے پہلے پاکستان کیوں بنا؟۔اس کے بنے کی اصل وجہ بیان کروں گی۔پاکستان ایک ضرورت کے تحت بنا۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔اور اس میں ایک خاص بات یہ ہیکہ ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں۔اور ان کے مذہبی اور تاریخی اختلافات کو دیکھا جائے ۔تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں ۔کہ پاکستان کا قیام ضروری تھا۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہیکہ کہ مسلمانوں کے ذہن میں اسلامی کا وہ عظیم دور تھا۔اور اسلام کا نظریہ یہ ہے۔کہ اللہ کی دھرتی پر اللہ کا قانون تو دوسری طرف انہیں برصغیر میں اپنی ایک عظیم تاریخ بھی یاد تھی۔ہندوستان کے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے آپ کو آریا نسل ہونے پر فخر کرتے تھے ۔اور دوسری طرف ان کے خیال میں سب مسلمانوں کا ابتدائی مذہب ہندو دھرم تھا۔اور پھر وہ اس نظریہ پر بھی ڈٹے تھے ۔کہ ہمیں موقع ملے تو سارے مسلمانوں کو ہندو مذہب سے جوڑیں گے۔

لیکن اصل حقیقت یہ ہیکہ خود ہندو مذہب بھی بدھ ازم کے بعد آیا۔اور اس گفتگو سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اتنے کھلے اختلاف میں ایک ملک میں رہنے سے بہتر تھا کہ دونوں ایک ملک میں ہمیشہ تناو کی شکل میں رہنے سے الگ الگ ملک میں رہیں تو احسن انداز میں رہیں گے۔یہ ایسی لاجک والی بات ہے جسے ہر ذی شعور مانتا ہے۔اس کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ مظالم ،اور مذہب کی بنیاد پر تشدد اور کہیں دوسرے عوامل بھی ہیں اور پھر اسی تناظر اور ضرورت کے تحت ہندو مسلم اتحاد کے سفیر قائداعظم محمد علی جناح رح اور علامہ اقبال اور دوسرے رہنماؤں نے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا ۔اور اس طرح پاکستان بن گیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ پاکستان جس نظریہ پر بنا تھا اس میں کامیاب ہوا ۔تو اس کا سیدھا سا جواب ہیکہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا تھا ۔اس پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔لیکن حاصل گفتگو دیکھیں تو اسلام کے نزدیک آپکی ترقی آپ کی جنگی طاقت ہے۔آپ کا دفاع ہے۔اور دوسری ساری ترقی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔اس چیز پر اگر غور کیا جائے تو پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔اور حالیہ پاک بھارت جنگ میں ساری اسلامی دنیا اس پر خوش ہیکہ دنیا میں کوئی ایسا اسلامی ملک بھی ہے۔جو کسی پر حملہ کرتا ہے۔اور دشمن کے طیارے مار گراتا ہے۔اور ساری اسلامی دنیا اس پر فخر کرتی ہے ۔اور اگر پاکستان نہ بنتا تو اس وقت دنیا کے نقشے پر کوئی اسلامی ایٹمی قوت کا حامل نہ ہے۔اگر اسی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا بننا بہت ضروری تھا۔جو اسلامی دنیا کے لئے ایک فخر ہے۔دوسری طرف عرب دنیا بہت سے وسائل ہونے کے باوجود دفاعی اعتبار سے وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جو پاکستان کے پاس ہے۔پس ثابت ہوا کہ پاکستان جس سوچ پر بنا تھا۔اس میں کافی حد تک کامیاب ہوا۔

بات مختصر ہو گئی لیکن مدلل ہو گئی۔پاکستان میں اسلامی نظام ہر طرف موجود ہے گو کہ بہتری کی گنجائش ہے۔پاکستان کے امتحانات سی ایس ایس اور دیگر میں اسلامی تعلیم کا اچھا خاصا پورشن موجود ہے۔اسلامیات اور عربی میں پی ایچ ڈی تک کی تعلیم ،اسلامی یونیورسٹی، اسلامی نظریاتی کونسل ،روہیت حلال کمیٹی،سکولز اور کالجز ،یونیورسٹیوں میں عربی اور اسلامیات کے پروفیسرز،سکولز میں عربی معلم اور قاری حضرات یہ سارے ایسے کام ہیں۔جن میں اسلام کی جھلک ہے۔اور پھر اردو زبان جو عربی اور فارسی سے بہت مطابقت رکھتی ہے۔اور عربی رسم الخط میں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اسلامی مدارس اور ادارے اور ان سب کو کسی نہ کسی حد تک حکومتی سرپرستی یہ سب ایسے کام ہیں ۔جو پاکستان کو اسلامی ریاست کی طرف گامزن کرتے ہیں.دوسری طرف پاکستان میں ایک جمہوری روایات، الیکشن، بلدیاتی الیکشن، اقلیتوں کے حقوق، ملٹی نظریات رکھتے والے لوگ،پروگریسو سیاسی جماعتیں،کیپیٹل ازم ،سوشل ازم /کمیونزم اور مختلف سوچ کے حامل دانشور اور افراد موجود ہیں۔جس سے یہاں جمہوری سوچ بڑھ رہی ہے۔گو کہ اب اس پر بہت کام کرنا باقی ہے۔جو بہت دنیا کے ممالک جن بھی اب بھی ڈکٹیٹر شپ ہےان سے بہتر ہے۔پس ہم پاکستانی کو جمہوری ملک بھی کہ سکتے ہیں۔

اس ملک میں ایدھی اور اس طرح کے بہت سے لوگوں نے ایسے کام کئے جو سماجی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔اس طرح پاکستان کی مختلف کھیلوں کے میدانوں میں بھی حکمرانی رہی۔مضبوط فوج اور ایٹمی ملک ہے۔پس جو میں نے جو سوالات شروع میں کئے تھے ۔ان کو دلائل سے ثابت کر کے یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کا قیام بہت ضروری تھا۔پاکستان اپنے مشن جس کیلئے بنایا گیا تھا ۔اس میں کامیاب رہا ۔اور پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے۔اس میں اگر ہمارے قارئین میں سے کوئی سوال جواب بھی کرنا چاہے تو اس پر مزید بات ہو سکتی ہے۔المختصر ہمیں اس وطن عزیز کی خوبیوں کو دیکھنا چاہیے ۔کتنا خوبصورت اور پیارا ملک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں