پاکستان سے رشتہ کیا؟

114

تحریر: راجہ واجد نور
اللہ تعالی کی ان گنت نعمتوں میں سے آزادی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان چونکہ فطری اور جبلی طور پر آزاد رہنا پسند کرتا ہے
لہذا انسانی معاشروں اور قوموں کے مطالے سے یہ چیز سامنے آئی ہے کہ انسان ارتقاء کے عمل گزرتا رہا لیکن یہ قدر آج تک
کائنات کے سارے انسانوں میں مشترک رہی کے اپنی ذاتی، معاشی، سماجی اور مذہبی آزادی کے لیے یہ ہمیشہ معروف عمل
رہے اور اپنی آزادی کے حصول کے لیے انسانوں نے معائب اور مشکلات کا سامنا کیا یہاں تک کے آزادی کی صبح کی زیارت کے لیے کرہ ارض پر کروڑوں انسانی ان جنگوں میں لقمہ اجل بن گئے۔

ہماری نئی نسل شاہد ان تمام حالات واقعات اور معائب سے مکمل طور پر آگاہی نہیں رکھتی کے جن کا سامنا کرنے بعد اللہ نے
برصغیر کے مسلمانوں کو نیاوطن عطاکیا۔ 27رمضان المبارک کو مملکت خداداد پاکستان کا دنیا کے نقشے پہ ظہوپزیر ہونا نہ صرف
برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نایاب تحفہ تھا بلکہ عالم اسلام کے لیے ایک معجزہ تھا۔

کفر وباطل کے سینے میں ہمیشہ کے لیے خنجر کے مانند پیوست عالم اسلام کی واحد اٹیمی طاقت پاکستان اگر دنیا کے نقشے پہ عزت
و وقار اور اسلام کے دفاع کی نشانی کے طور پر موجود ہے تو اس کے پیچھے مسلمانوں کی ان گنت جان ومال کی قربانیاں ہیں جن
کی بدولت آج ہم سب عزت اور آزادی کا سانس لے رہے ہیں۔

پاکستان کے قیام کے اعلان سے چند دن قبل مسلمانان کشمیر نے بھی ایثار الحاق اور مستقبل پاکستان کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا اور بھاری اکثریت سے قرارداد بھی منظور کی، لیکن آج دن تک ہمارے جسم کا ایک بڑا حصہ انڈین تسلط اور قبضے کا شکار ہے دنیا جسے مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانتی ہے۔

گزشتہ 77سالوں میں شاہد ہی کوئی دن ایسا آیا ہو جب کشمیری مسلمان اپنے اس علان یہ وعدے سے ایک لمحے کے لیے بھی
غافل ہوئے ہوں، لاکھوں کشمیریوں نے پاکستان کی تکمیل کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی، شہادت کے منصب پہ فائز ہوئے
اپنے باپ دادا کی زمینوں کو بھارتی افواج نے بم اور بارود کے گوداموں میں بدل دیا وہی زمین ان پر جہنم بنادی گئی، مہاجرت
کے صدمے اُٹھائے، اپنا قیمتی ترین مال و ضاع قربا ن کر دیا لیکن آزادی کی اس تحریک کو ایک لمحے کے لیے بھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔

بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے پوری ریاست کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل دیا اور تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی بند کر دی تب بھی کشمیر یوں نے سبز ہلالی پرچم کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر رکھا.آزادکشمیر بھی دُشمن کے وار سے محفوظ نہ رہا اس آزاد خطے میں بھی بھرپور کو شش کی گئی کہ یہاں ایسے حالات پید اکیے .

جائیں جہاں عام آدمی پاکستان ے بدظن ہو اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے، میں سمجھتا ہوں کہ دشمن قوتوں نے بھر پور سرمایہ لگا کر
آزادخطے کو فکری، نظریاتی بنیادوں پر خلفشار ڈالنے اور تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی، لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان کو کہ جنھوں نے آزادخطے کے لوگوں کی رہنمائی واقعی ایک فکری اور نظیریاتی بنیادوں پر کی
اور ان لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوئے کہ ہم نے دشمن کی چالوں کو شکت سے دوچار کرناہے، پاکستان ہی ہماری حتمی
منزل ہے اور مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی آر پار کے کشمیریوں کی بقاء کی علامت ہے۔

پچھلے سال کی طرح اس سال 14اگست کو صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں ”ہم ہیں پاکستان“ کے عنوان سے جلسہ کا انعقاد کر کے
بہترین انداز میں آر پار کے کشمیر یوں کے جذبات کی نمائندگی کی میں ذاتی حیثیت میں گزشتہ تین دھائیوں سے ان قومی تقربیات
کا عینی شاہد بھی ہوں اور درجنوں مرتبہ مجھے ان تقربیات میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے لیکن قائد کشمیر کی کال پہ ہونے
والے اس عظیم الشان جلسے کے مناظر ہم نے کبھی اس سے پہلے نہیں دیکھے۔

موجودہ گھمبیر حالات میں جہاں باقی کوئی سیاسی قیادت شاہد ایسا چیلنج قبول کرنے کو تیار نہ ہوئی مگر عوام میں پزیرائی اور لوگوں سے
پوری ریاست میں براہ راست تعلق اور قبولیت کی وجہ سے پوری ریاستی عوام نے ”ہم ہیں پاکستان“ جلسے کو اتنی اہمیت دی اور رونق بخشی کے اس کی دوسری مثال ناممکن ہے۔ میں سمجھتا ہوں سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان نے کشمیر یوں کے پاکستان سے اس لازوال رشتے کی تجدید نوبھی کی.

جس رشتے کے تقدس اور حرمت کے لیے لاکھوں قربان ہو چکے۔ پاکستان کے یوم آزادی کو آزادکشمیر میں اتنے بڑے لیول پر منانا
درحقیقت مقبوضہ کشمیر کے ان مظلوم مسلمانوں کی داد رسی اور حوصلہ افزائی کی معترادف ہے جو تکمیل پاکستان کی جنگ اپنی جانوں
کی قربانی دے کر لڑ رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی قیادت میں جہاں آزادکشمیر کے لوگوں کے مسائل اور مشکلات میں کمی واقع

ہوگی وہیں پر کشمیر یوں کی یہ سب سے مضبوط اور توانا آواز مقبوضہ کشمیر کے ان مظلو موں کی آزادی کے لیے عالمی ضمیر کے جنجھوڑنےمیں ضرور کامیاب ہوگی تاکہ سارے کشمیری آزادی کی اس نعمت سے مستفید ہو سکیں۔

“پاکستان زندہ باد “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں