پاکستان نےگھس کرکیسے مارا؟ٹیکنیکل روداد

43

تلاش/ سید خالد گردیزی
19 مئی 2025
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں پاک فضائیہ کی برتری کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ فروری 2019 میں پاک فضائیہ کی کامیابیوں کے حوالے سے جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی کارکردگی زیرِ بحث آئی تھی جو امریکی ایف-16 جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
اب مئی 2025 میں چین کے تیار کردہ جے-10 سی لڑاکا طیارے نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے جو ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اس طیارے نے نہ صرف پاکستان کی فضائی طاقت میں اضافہ کیا بلکہ چین کی دفاعی صنعت کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی دلائی۔

جے-10 سی جسے “ویگورس ڈریگن” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چین کی چنگدو ایئرکرافٹ انڈسٹری کا تیار کردہ ایک 4.5 جنریشن ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے۔ اس میں جدید ترین ایکٹو الیکٹرانکلی سکینڈ (اے ای ایس) ریڈار سسٹم نصب ہے جبکہ قریبی فاصلے کے لیے پی ایل-10 اور دور تک مار کرنے والے پی ایل-15 ای میزائلز سے لیس ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2,200 کلومیٹر فی گھنٹہ اور پرواز کی حد 3,200 کلومیٹر ہے۔ یہ طیارہ 11 ہتھیاروں کے اٹیچمنٹ پوائنٹس کے ساتھ ساتھ روسی ساختہ اے ایل-31 ایف این انجن سے مزین ہے۔

پاکستان نے 2019 میں جے ایف-17 تھنڈر کی کامیابی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مارچ 2022 میں جے-10 سی طیاروں کا پہلا بیچ حاصل کیا جو 25 طیاروں پر مشتمل تھا۔ یہ طیارے پاکستان ایئر فورس کے نمبر 15 “کوبراز” اسکواڈرن میں شامل کیے گئے۔ پاکستان نے انہیں بھارت کے رافیل طیاروں کے مقابلے میں فضائی برتری قائم رکھنے کے لیے حاصل کیا جو بھارت نے فرانس سے خریدے تھے۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارت کے میزائل حملوں کے جواب میں نہ صرف روایتی ہتھیار استعمال کیے بلکہ جے-10 سی طیاروں کے ذریعے بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل، ایک مگ-29 اور ایک سو-30 ایم کے آئی شامل تھے۔ یہ کارنامہ پی ایل-15 ای میزائلوں کی مدد سے انجام دیا گیا جو 145 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے ڈرون حملوں کے جواب میں پاکستان نے “آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھارت کے اندر گھس کر اس کے دفاعی نظام کو کیسے ناکارہ بنایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان نے چینی ساختہ جے-10 سی، جے ایف-17 سی اور الیکٹرانک وار فیئر طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے روسی ساختہ ایس-400 ڈیفنس سسٹم کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ جے-10 سی میں نصب میزائل نہ صرف خودکار طور پر ہدف تک پہنچتے ہیں بلکہ یہ طیارہ دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جے ایف-17 سی طیاروں نے چینی ساختہ میزائلوں سے ایس-400 کو نشانہ بنایا جبکہ ڈی اے-20 الیکٹرانک وار فیئر طیاروں نے بھارتی ریڈار اور کمیونیکیشن نیٹ ورک کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔

اس آپریشن میں پاکستان نے بھارت کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں ادمپور میں تعینات ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم، بیاس میں برہموس میزائل ڈپو، ادمپور، سورت گڑھ اور پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے اور دہرنگیاری میں توپ خانے کی پوزیشنز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے مہاراشٹر میں ایک بجلی کمپنی پر سائبر حملہ کر کے علاقے کا پاور گرڈ ناکارہ بنا دیا، جبکہ بھارت کے فوجی سیٹلائٹ کو بھی جام کر دیا گیا جس سے اس کی نگرانی اور مواصلاتی صلاحیتیں متاثر ہوئیں۔

اگرچہ بھارت پاکستان کے ان دعوؤں کو مسترد کر رہا ہے، لیکن اس کے پاس یہ واضح جواب موجود نہیں کہ اگر سب کچھ معمول کے مطابق تھا تو بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو امریکہ سے سیز فائر کروانے اور ایل او سی پر سفید جھنڈے لہرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دوسری جانب، پاکستان کے دفاعی ذرائع کے مطابق ان تمام کارروائیوں کے ثبوت موجود ہیں۔ اسی طرح اس کشیدگی کے دوران ایک بھارتی پائلٹ کی گمشدگی بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے جس کا حل ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا۔

عالمی سطح پر پاک بھارت تنازعے کے دوران پاک فضائیہ کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے جبکہ جے-10 سی کی کامیابی نے چین کی دفاعی صنعت کو ایک نئی پہچان دی ہے۔ چینی سوشل میڈیا اور دفاعی حلقوں میں اس کامیابی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا جس کے نتیجے میں چنگدو ایئرکرافٹ کمپنی کے شیئرز میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یہ کامیابی چین کو عالمی ہتھیاروں کی مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھار رہی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو مغربی ہتھیاروں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں