پاکستان پر مسلط دہشت گردی

30

ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم
دین اسلام امن، سلامتی اور رواداری کا درس دیتا ہے لیکن چند تخریب کار گروہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نہ صرف اسلام کو بدنام کیا ہے بلکہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنا شروع کیا ہوا ہے جن کا کوئی دین ایمان نہیں بلکہ وہ ایسا عمل اپنے آقاؤں کے اشارے پر مفادات کے لئے کر رہے ہیں جو انسانیت سے بھی بعید ہے۔ ایک دہائی سے داعش، القاعدہ، طالبان اور اب کچھ عرصہ سے فتنہ خوارج نے مسلمانوں کو مارنے اور اسلام کو بدنام کرنے کا کام شروع کیا ہوا ہے یہ عمل محض اکیلے نہیں ہو سکتا بلکہ اس میں بھارتی را اور اسرائیلی موساد کا بھی یقینی طور پر دخل ہے۔ پاکستان ایک دہائی سے دھشت گردوں اور ان کے حامی آقاؤں کی مذموم سازشوں کا نشانا بنا ہوا ہے اس دوران اسی ہزار سے زاید لوگوں نے اپنی جانیں پیش کیں اور ایک ہزار سے زاید ممتاز شخصیات کو شھید کیا گیا ابھی چند روز قبل دینی تعلیم کے معرو ف ادارہ جامعہ حقانیہ اخوڑہ خٹک میں جمعہ کی نماز کے بعد خودکش حملے میں ادارہ کے سربراہ سابق ممبر قومی اسمبلی جمیعت علمائے اسلام (س گروپ) کے آمیر مولانا حامد الحق حقانی، انکے بیٹے اور جار افراد شھید ہوہے ہیں اس سے قبل بھی مساجد اور اہم عوامی مقامات پر اس نوع کے درجنوں خود کش حملے ہو چکے ہیں اور کئی اہم شخصیات، فوجی افیسران کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

دارالعلوم اکوڑہ خٹک کو طالبان کی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے جس سے افغان طالبان کے مقتدر رہنماؤں نے تعلیم حاصل کی لیکن اس ساری حقیقت کے باوجود اپنی مادر علمی پر خود گش حملہ انتہائی افسوس ناک اور گھٹیا کارروائی ہے جس کی ہر جگہ سے مذمت ہو رہی ہے۔مولانا سمیع الحق کی موت غیر طبعی ہوئی تھی اور ان کے جانشین کو بھی خودکش حملہ میں مار دیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ فتنہ خوارج نے کیا ہے جو انسان دشمن دھشت گرد تنظیم ہے یہ سب کچھ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ تاریخی مذہبی ثقافتی اور سماجی رشتے ہیں جو انمٹ حیثیت کے حامل ہیں.

حال ہی میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ مولانا سراج حقانی پر حملہ کے بعد سے طالبان حکومت اور متحارب گروپس میں ٹھن گی ہے اور اس کی سزا پاکستان کے عوام کو دی جارہی ہے حالانکہ حکومت پاکستان نے ان سب غیر اسلامی گروہوں اور کئی لاکھ افغانیوں کو ایک دہائی تک پناہ دی اور ان کا سہارا بنا ہماری معیشت اسی دور میں غیر مستحکم ہوئی لیکن طالبان جب اقتدار میں آئے تو اپنی غیرت و حمیت بھول کر خود غرض ہو چکے ہیں اور اپنے محسن ملک ہی کی عوام پر دھشت گردانہ حملے کر کے بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا دین اسلام، مروت اور احسان سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان نے جو مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے وہ ان کا حق تھا۔ حالانکہ ان کے کئی خاندان اب بھی یہاں موجود ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانی دلیر اور جرات مند قوم ہے اور وہ اسلامی ذہن رکھتے ہیں اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کرتے لیکن طالبان جو خود کو اسلامی نظام کے حامی و علمبردار کہتے ہیں ان میں اقتدار کے بعد سے یہ ساری صلاحیتیں سلب ہیں اور وہ خواتین کی تعلیم کے بھی دشمن ہیں جو اسلام کی روح کے مغاہر عمل ہے۔

پاکستان میں دھشت گردی کی ایک لمبی تاریخ ہے جس میں بھارت، اسراہیل اور افغانستان کا ہمیشہ سے عمل دخل رہا ہے- ہماری بہادر افواج نے ان ممالک کو ہمیشہ ناکوں چنے چبوائے ہیں ان کی پالیسی ہمارے وطن عزیز میں انارکی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے لیکن ان کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو کلمہ طیبہ کی اساس اور اسلامی فکر سے قاہم ہوا ہے اس میں دراڑیں ڈالنے والے ہمیشہ رسوا ہوئے ہیں کیونکہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ نشانہ کھڑی ہے اور رہے گی اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کے دھشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن عزم استحکام میں بھرپور ساتھ دے گی۔

افغانستان اور بھارت کو ان بے مہار اجرتی دھشت گردوں کو فوری لگام ڈالنی چاہئے جن کا اسلام اور انسانیت سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے اور جو انسانیت سے گرے ہوئے ہیں ورنہ پھر پاکستانی فوج اور عوام ان کو نکیل ڈالنے کی پوری طاقت رکھتی ہے اور جلد ان کو انجام تک پہنچا کے دم لیں گے۔ ہمارا ملک پہلی اسلامی نیوکلئیر پاور اور عوام عزم و استقلال سے لیس ہیں ہماری جری افواج نے القاعدہ اور طالبان کا پہلے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اب فتنہ خوارج کو بھی جڑھ سے اکھاڑ دینے کی ہمت رکھتے ہیں افغانی اپنے مستقبل اور اپنے ملک کی اصلاح کی فکر کریں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان سے اپنا اربوں کا اسلحہ واپس لیں گے اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے علاوہ ان کی مدد اور کوئی ملک نہیں کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں