پاک افغان کشیدگی اور بھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا: عادل داوڑ کا سچائی کا مکا

89

تحریر : محمد شہباز
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اس بد اعتمادی کا نقطہ آغاز تھا،جس میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے سیکورٹی اداروں کو نقصان پہنچانے کیلئے متواترطور پر استعمال کرنے پر تنبیہ کی جارہی تھی ،بجائے اس تنبیہ کو سنجیدہ لیا جاتا،افغانستان کے اقتدار پر براجمان طبقہ ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا۔پھر دس اکتوبر کی رات پاکستان کو وہ کچھ کرنا پڑا ،جس کا دو ر دور تک تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔افغانستان میں خوں آشام دہشت گردوں کی پرورش و نمو کرنیوالی تربیت گاہوں اور محفوظ پناہ گاہوں کیخلاف ایک فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہوچکا تھا۔ سو حکومت پاکستان اور پاک افواج نے ایک دلیرانہ فیصلہ کیا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کا دور ہمیشہ سے چلتا رہا اور اسے انکار بھی ممکن نہیں ہے ، لیکن حالیہ کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی میں نئی شدت کا اضافہ کیا ہے۔پاکستان کی جانب سے مسلسل اس بات پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف عناصر نہ صرف پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں بلکہ وہاں سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر منظم حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔اس کے جواب میں10 اکتوبر کی رات، پاکستان کو ایک فیصلہ کن آپریشن کی طرف بڑھنا پڑا۔ یہ ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا،جس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔یہ آپریشن ان خوں آشام دہشت گردوں کے خلاف تھا جو افغانستان کی سرزمین سے منظم ہو کر پاکستان کے امن کو تہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ یہ آپریشن، جو اب بھی جاری ہے، پاکستان کی ریاستی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ایک ناگزیر دلیرانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر تھااور وہ وہاں کچھ بھڑکیں مارنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی ہاں میں ہاں ملا کر پورے افغانستان کیلئے سبکی کا باعث بنے۔امیر خان متقی کے بیان نے نہ صرف اہل کشمیربلکہ اہل پاکستان میں شدید برہمی اور غم و غصے کوجنم دیا،حتی کہ کچھ نے اس لہو کا بھی تذکرہ کرنا ضروری سمجھا ،جو سرینگر اور کابل میں کسی رنگ و نسل کیلئے نہیں بلکہ صرف اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بہایا گیا، خود افغانستان میں بھی کئی حلقوں نے اس بیان پر خاصی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ امیر خان متقی کا بیان افغان عوام کی تاریخی قربانیوں اور نظریاتی وابستگیوں سے انحراف کے مترادف تھا۔ کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر یاد دلایا کہ طالبان کا نام لینے پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے برسوں جیلوں میں سڑایا گیا۔ اس کشیدگی کے دوران حسب سابقہ بھارت کا بدنام زمانہ گودی میڈیا بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی مانند ناچتا رہا۔بے شرم اور اخلاق سے عاری بھارتی میڈیا نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم شروع کی ۔ہر بار کی طرح، بھارت کا بدنام زمانہ گودی میڈیا پھر ایکبار میدان میں کود پڑا۔ اس بار اس نے پاک افغان کشیدگی کو لیکر ایک شرمناک جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ بھارتی میڈیا نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جعلی تصاویر تیار کیں، اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ شمالی وزیرستان کے ایک عام شہری عادل داوڑ کو پاک افواج کا میجر قرار دیکر دعوی کیا کہ وہ پاک افغان سرحد پر آپریشن کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔یہ صرف ایک جھوٹ نہیں تھا، بلکہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی صریحا خلاف ورزی بھی تھی۔

نہ صرف ایک عام شہری کو جھوٹے طور پر فوجی ظاہر کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا گیا۔بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کیلئے خود عادل داوڑ کو سامنے آنا پڑا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا:”میرا نام عادل داوڑ ہے، میں شمالی وزیرستان کا ایک سیاسی اور سماجی کارکن ہوں۔ بھارتی میڈیا نے مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصاویر چلا کر مجھے فوجی میجر ظاہر کیا، حالانکہ میں ایک عام شہری ہوں۔ یہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”عادل داوڑ کا یہ ویڈیو بیان، بھارتی میڈیا کے چہرے پر سچائی کا ایسا مکا ثابت ہوا، جس کی حدت طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ اس واقعے نے پھر ایکبار ثابت کیا کہ بھارت کا میڈیا بغیر کسی تحقیق اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر صرف سیاسی ایجنڈا پورا کرنے کیلئے فیک نیوز پھیلانے میں ماہر ہے۔بھارتی میڈیا کا چہرہ بے نقاب ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی میڈیا نے جھوٹے دعوے، فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ پلوامہ، پہلگام اور بالاکوٹ جیسے واقعات میں بھی یہی میڈیا بغیر کسی ثبوت کے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ہر بار بھارت کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی منہ کی کھانی پڑی ہے۔اب عادل داوڑ جیسے شہریوں کی جرات اور سچائی کی بدولت یہ پروپیگنڈا مزید ناقابل برداشت اور ناقابل یقین بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک نازک مرحلہ ہے، جسے سنجیدگی، حکمت اور خلوص سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر بھارت اور اس کے میڈیا کی بے جا اور بے معنی اوچھل کود صرف آگ میں گھی ڈالنے کے مترادف ہیں۔ فیک نیوز کے ذریعے خطے کے حالات مزید خراب کرنے کی کوشش نہ صرف غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے بلکہ عالمی صحافتی ضابطوں کی کھلی توہین بھی ہے۔عادل داوڑ کا ویڈیو پیغام نہ صرف بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے بلکہ سچ کی طاقت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ حق ہمیشہ باطل کو پچھاڑتا ہے، چاہے جتنا بھی جھوٹ بولاجائے۔اب وقت آچکا ہے کہ عالمی برادری بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نوٹس لے، اور ایسے جھوٹے دعووں کے خلاف آواز بلند کرے۔ ورنہ یہ خطہ ایک ایسی نہج کی طرف جا سکتا ہے جہاں سچ دفن ہو جائے اور صرف مصنوعی خبروں کا دور دورہ ہو۔جو کسی بھی وقت خطے میں تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ بھارتی جھوٹ کے سامنے بندھ باندھا جائے،تاکہ اس خطے کے اربوں لوگوں کو جنگ کا ایندھن بننے سے بچایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں