پاک بھارت کشیدگی اور بھارت کی جنگی دھمکیاں خطے کے امن کیلئے خطرہ

91

تحریر : محمد شہباز
جنوبی ایشیا کا خطہ دہائیوں سے سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔1947میں تقسیم برصغیر کےساتھ ہی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسلسل تنا و موجود رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔جو تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔اس تنازعہ پر دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں،جبکہ 27فروری2019اوررواں برس 06سے 10 مئی تک جو کچھ ہوا،وہ بھی مسئلہ کشمیر کا ہی شاخسانہ ہے اور جب تک تنازعہ کشمیر حل طلب ہے،اس خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے اورنہ ہی اہل کشمیر بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے کو قبول کرتے ہیں۔بھارتی حکمران جتنا جلد اس حقیقت کو سمجھیں،اتنا ہی نہ صرف بھارتی عوام بلکہ اس پورے خطے کے حق میں بہتر ہوگا۔ بھارت کی سیاسی قیادت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات اور جنگی دھمکیاں پھر ایکبار شہ سرخیوں میں ہیں۔

یہ صرف زبانی کلامی بیانات نہیں، بلکہ خطے کے امن، استحکام اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کیلئے ایک حقیقی خطرہ بن چکے ہیں۔بھارت کی عسکری قیادت اور سیاسی رہنمائوں کی جانب سے پاکستان کو “سبق سکھانے”، “سرجیکل اسٹرائیک” کرنے اور “کئی حصوں میں تقسیم” کرنے جیسے بیانات سامنے آئے ہیں۔یہ بیانات صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں، بلکہ بھارت کے جارحانہ عزائم کا عکاس ہیں۔ مودی حکومت داخلہ ناکامیوں مثلا بے روزگاری، معاشی بحران، کسانوں کے احتجاج اور اقلیتوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے باربار پاکستان کے خلاف جنگی ماحول تیار کرتی رہی ہے۔حالانکہ 06سے10 مئی تک جو کچھ بھارت کیساتھ ہوا،اس کے بعد بھارتی حکمرانوں کو انسان کا پتر بننا چاہیے،چونکہ بھارتی حکمرانوں کے ذہنوں پر خبط سوار ہے ،وہ پاکستان کو شاید فلسطین سمجھتے ہیں۔ان ناعاقبت اندیش جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکمرانوں کو خبر ہو کہ پاکستان فلسطین نہیں بلکہ ایک ایٹمی قوت کا حامل دنیا کی پروفیشنل افواج پر مشتمل ایک ایسا ملک ہے ،جو اپنے سے چھ گنا بڑے بھارت کو بار بار ناکوں چنے چبوانے کے علاوہ اس کی ناک سے لیکریں کھچوارہا ہے۔ہر مہم جوئی کے جواب میں بھارت کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کی بات کی ہے۔ تاہم، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھارتی دھمکیوں کا دوٹوک اور مضبوط جواب دیا ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا بھارتی گیدڑ بھبکیوں پر کہنا ہے کہ بھارت اس بار اپنے جہازوں کے ملبے تلے دفن ہوگا۔سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ آصف نے کہا ہمارے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں،پاکستان اللہ کے نام پہ بنی ریاست ہے،اس دفعہ بھارت اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوجی اورسیاسی قیادت کے بیانات اپنی خاک میں ملی ساکھ کو بحال کرنیکی ناکام کوشش ہے،بھارت میں عوامی رائے تاریخ کی بدترین شکست کے بعد مودی حکومت کے خلاف ہوئی۔انہوں نے مزید لکھا کہ اتنی فیصلہ کن شکست کے بعد جس کا اسکور0-7 رہا ہو،اگردوبارہ کوشش کی گئی تو اسکور پہلے سے کہیں بہترہوگا،مودی اوراسکا ٹولہ جس طرح اپنی ساکھ کھو بیٹھا اسکا پریشر بھارتی لیڈرشپ کے بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے۔

پاک افواج کے ادارہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی ہرزہ سرائیوں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں نہ صرف تمام حساب برابر کیے جائیں گے بلکہ اس بار بھارت کی دور دراز ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔تاکہ بھارت کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پوری طاقت سے دفاع کریں گے۔”یہ بیانات محض جذباتی نعرے نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، عزم، اور تیاری کا آئینہ ہیں۔اور بقول جنرل احمد شریف چوہدری کے پاکستان 06سے 10مئی کے درمیان ایک نیو نارمل کی بنیاد رکھ چکا ہے۔اب اگر کسی نئے نیو نارمل کی ضرورت پڑی ،تو وہ پاکستان امن کا داعی ہے، مگر کمزوری کا تاثر دینا ہرگز مناسب نہیں۔بھارت کی جنگی دھمکیاں، مقبوضہ جموں وکشمیر پر ناجائز قبضہ، آبادیاتی تبدیلی اور مسلمانوں پر مظالم ایک بڑے المیے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

اگر عالمی برادری نے وقت پر کردار ادا نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک ایٹمی جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہو سکتا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ اپنی دفاعی، سفارتی اور میڈیا پالیسیوں کو مزید موثر بنائے ۔عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کا مقدمہ جارحانہ انداز میں لڑے ۔بھارتی پروپیگنڈے کا منطقی اور حقائق پر مبنی جواب دے ۔اندرونی طور پر قومی یکجہتی کو فروغ دے ۔بلاشبہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو جنگی دھمکیاں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں اور اگر اس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا،تو یہ پورا خطہ ایک ایسی تباہی سے دوچار ہوگا،جس کے بعد افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔پاک بھارت کشیدگی جنوبی ایشیا کے امن، ترقی، اور خوشحالی کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے۔ دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں سے سیکھتے ہوئے باہمی احترام، انصاف اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی بنیاد پر تعلقات کو بہتر بنائیں۔ بصورت دیگر، یہ کشیدگی صرف تباہی اور معاشی نقصان کا باعث بنے گی۔برصغیر میں امن اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئے دور کا آغاز کریں، جس کی بنیاد انصاف، مساوات اور عوامی مفاد پر مبنی ہو۔جس میں سرفہرست دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں