پاک دل و پاک باز چوہدری اسحاق طاہر مرحوم

50

قوم کا قلم : چوہدری امان اللہ مانی
لکھنے کے لیے قلم اٹھایا، مگر الفاظ بار بار رک گئے۔ کیسے لکھوں اُس شخصیت کے بارے میں، جس کے کردار میں بلندی، محبت میں گہرائی، اور خدمت میں روشنی تھی؟ جس کی گفتگو میں نرمی، مزاج میں خوشبو، اور شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ ہر دل کو جیت لیتے۔چوہدری اسحاق طاہر صاحب نہ صرف خوبصورت چہرے کے مالک تھے بلکہ خوب سیرت بھی تھے۔ ان کی آنکھوں میں خلوص جھلکتا، چہرے پر عاجزی کی روشنی نمایاں ہوتی۔ وہ محبت کرنا جانتے تھے . بے لوث محبت، جو ہر غرض و لالچ سے پاک ہوتی۔ بچوں کے ساتھ بچے بن جانا، غریبوں کی تکلیف کو محسوس کرنا، اور دوستوں کے لیے دیوار کی طرح کھڑے رہنا ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ اصولوں کے معاملے میں پتھر کی طرح مضبوط، مگر دل کے معاملے میں پانی کی طرح نرم۔

کراچی سے قانون کی ڈگری لینے کے بعد، اپنے علاقے میں خدمت کا جذبہ لے کر واپس آئے۔ کئی سرکاری نوکریوں کی پیشکش ہوئیں، مگر ان کا مشن صرف اور صرف عوامی خدمت تھا۔ اپنی تحصیل میں وکالت شروع کی، مگر قانون کو کاروبار نہیں، مظلوموں کی آواز بنایا۔ پھر قدرت نے انہیں ایک اور عظیم انسان سے جوڑ دیا۔ ہیرے کو پرکھنے کے لیے ہیرے کی آنکھ چاہیے ہوتی ہے، اور یہاں ایک اسحاق کو دوسرا اسحاق مل گیا .اسحاق ظفر مرحوم کو، چوہدری اسحاق طاہر کی صورت میں ایسا ساتھی ملا، جو تاعمر ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔طاہر — یعنی پاکیزہ، یہ نام ان کے کردار کی مکمل عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ رضائے الٰہی کے لیے اپنایا۔ الیکشن لڑا، ممبر ضلع کونسل منتخب ہوئے، مگر یہ سفر صرف کرسی تک محدود نہ رہا بلکہ عوام کے مسائل کے حل تک جاری رہا۔ ان کی شخصیت میں سیاست کا تدبر، وکالت کا وقار، اور خدمت کا خلوص تھا۔ وہ اصولوں کی چٹان تھے .

جہاں حق کی بات آتی، وہاں پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ اسحاق ظفر مرحوم کے دستِ راست بن کر ہمیشہ ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح جمے رہے، ہر مشکل میں، ہر امتحان میں، دامے، درمے، سخنے اپنی جماعت اور اپنے لوگوں کے لیے حاضر رہے۔ان کا دل ہمیشہ انسانیت کے لیے دھڑکتا رہا۔ لاہور میں کاروبار کیا، اور اپنے علاقے کے درجنوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وسیع رزق عطا کیا، اور انہوں نے اس رزق کو اللہ کی مخلوق کے لیے بے دریغ خرچ کیا۔ ان کے دسترخوان پر سب کے لیے جگہ تھی — چاہے کوئی دوست ہو یا ملازم، کوئی امیر ہو یا غریب۔سیاست میں قدم رکھا تو مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں تھا، بلکہ عوام کی بہتری اور علاقے کی ترقی تھی۔ ایڈمنسٹریٹر ہٹیاں بالا بنے تو شہر کو سنوارا، عوامی سہولیات میں اضافہ کیا، اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے دن رات محنت کی۔ حکومت میں رہے تو دیانت داری کی مثال بنے، اور اپوزیشن میں آئے تو باوقار اپوزیشن کی روایت قائم کی۔
+
جب نظریاتی اختلاف ہوا تو پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا تھاما، اور آزاد کشمیر میں پارٹی کو جڑوں سے مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 2016 کے انتخابات میں شدید مخالفت کے باوجود عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ 2021 میں سید ذیشان حیدر کو پارٹی ٹکٹ دلوانے میں اہم کردار ادا کیا، اور نوجوان قیادت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ ان کی سیاست سازشوں سے نہیں، بلکہ محبت اور اخوت سے عبارت تھی۔ ان کی جدوجہد کا مقصد اقتدار نہیں، بلکہ عوام کی خدمت، حق کی پاسداری، اور باطل کی مخالفت تھا۔چوہدری اسحاق طاہر کی سادگی ہی ان کی عظمت تھی۔ ہمیشہ سادہ لباس پہنتے، ملازمین کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانے میں سکون محسوس کرتے۔ چہرے پر ہمیشہ ہلکی سی مسکراہٹ رہتی، اور لہجے کی مٹھاس ہر شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیتی۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ ہر رشتے کو محبت، خلوص اور وفاداری سے نبھاتے تھے۔ ان کی محبت بھری گفتگو، نرم مزاجی، اور خدمت کا جذبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔اعلیٰ نسل کے گھوڑے پالنا ان کا شوق تھا، جو ان کے نفیس ذوق اور فطرت سے محبت کا عکس تھا۔ ان کی محفل میں ہر شخص کو عزت و احترام ملتا — چاہے وہ دوست ہو یا کارکن۔ ان کے محبت بھرے انداز نے ہر رشتے میں اخوت کی خوشبو بھر دی تھی۔

آج جب میں مسجدِ نبوی کی روح پرور فضاؤں میں بیٹھا ان کی یاد کر رہا ہوں، دل بے اختیار دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ یا اللہ! ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرما، تاکہ وہ اس عظیم شخصیت کی جدائی کو حوصلے اور استقامت سے برداشت کر سکیں۔ آمین!چوہدری اسحاق طاہر مرحوم کی زندگی ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف اپنی ذات کے لیے جینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں امید کی کرن بننے میں ہے۔ ان کا ہر قدم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ خدمتِ خلق کو عبادت سمجھیں، اصولوں کی پاسداری کو شعار بنائیں، اور محبت و خلوص کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اللہ ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ ہم اسحاق طاہر صاحب کے نقشِ قدم پر چل سکیں، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، اور اپنے کردار سے معاشرے میں بہتری کا ذریعہ بن سکیں۔ آمین!
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں