پاک کشمیر محبت کا بنیادی ستون مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان

130

تحریر:راجہ آصف صیاد
قارئین۔ مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان چار اپریل 1924ء میں آزاد کشمیر کے ایک قصبہ جولی چیڑموجودہ نام غازی آباد دھیرکوٹ ضلع باغ میں پیدا ہوئے۔جب آنکھ کھولی ہوش سنبھالا توریاست جموں و کشمیر کے اندر مہاراجہ کی حکومت تھی اور ریاست کے مسلمان مہاراجہ کے نظام کے تحت اپنی زندگی گزار رہے تھے۔مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان لڑکپن کی عمر سے ہی اس نظام کے خلاف تھے۔مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان کی عمر تقریبا 23سال تھی عین اسی وقت 14اگست 1947کو ملک پاکستان قائم ہوا۔ملک پاکستان کی قیام کی تحریک ابھی عروج پر تھی تو ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کے دل میں ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کی خواہشات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد مہاراجہ کشمیر کی طرف سے کشمیریوں کی خواہشات اور تقسیم ہند کے پلان کے مطابق الحاق پاکستان سے انکار پر سردار محمد عبدالقیوم خان نے 23 اگست 1947 ء کو نیلہ بٹ کے مقام سے اپنے ساتھیوں سمیت جہاد آزاد ی کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں انتہائی مختصر عرصہ میں گلگت بلتستان سمیت آزاد جموں وکشمیر کا 32000 ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد ہوا جہاں آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تحریک آزاد کشمیرمیں نمایاں اور کلیدی قائدانہ رول ادا کرنے کی وجہ سے قوم نے انھیں’’ مجاہد اول‘‘ کا خطاب دیا ۔

سردار محمد عبدالقیوم خان پہلی دفعہ 1955 ء میں محض31 سال کی عمر میں قائد ملت چوہدری غلام عباس ، غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، میر واعظ کشمیر سید محمد یوسف شاہ، راجہ حیدر خان، سردار فتح محمد کریلوی اور کے ایچ خورشید کی موجودگی میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے اس کے بعد مختلف ادوار میں 14 مرتبہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر منتخب ہوتے رہے۔کم عمری میں مسلم کانفرنس کے صدر بننے کا یہ اعزاز آپ کے سوا ریاست جموں وکشمیر کی کسی اور سیاسی شخصیت کوحاصل نہیں۔2000 ء میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا تاحیات سپریم ہیڈ مقرر کیا گیا۔سردار محمد عبدالقیوم خان 1951ء میں کشمیر میں استصواب رائے کے لئے قائم ہونے والی کمیٹی میں آزاد جموں وکشمیر کی طرف سے ممبر بنے۔ 1952 میں وہ پہلی مرتبہ آزاد کشمیر حکومت کے وزیر بنے اُس وقت ان کی عمر28 سال تھی ۔وہ 1956 میں 32 سال کی عمر میں قائد ملت چوہدری غلام عباس ، غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، میر واعظ کشمیر سید محمد یوسف شاہ، راجہ حیدر خان، سردار فتح محمد کریلوی اور کے ایچ خورشید کی موجودگی میں پہلی مرتبہ آزاد ریاست جموں وکشمیرکے صدر مقرر کئے گئے۔

اس طرح ان کو آزاد کشمیر کے سب سے کم عمر صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔1962 میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت آزاد جموں و کشمیرسٹیٹ کونسل کے پونچھ ضلع سے ممبر منتخب ہوئے ۔سردار محمد عبدالقیوم خان ایکٹ 70 کے تحت 1971 میں بالغ رائے حق دیہی کے تحت منعقد ہونے والے الیکشن میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور کے ایچ خورشید کیساتھ مقابلے کے بعد بھاری اکثریت سے دوسری مرتبہ آزاد ریاست جموں وکشمیر کے صدر(چیف ایگزیکٹیو) منتخب ہوئے ۔ 1985 ء کے انتخابات میں دھیر کوٹ کے حلقے سے پہلی مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے بعد میں استعفیٰ دے کر تیسری مرتبہ آزاد جموں وکشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔وہ پانچ سال اس عہدے پر فائز رہے۔1990 ء میں چوتھی مرتبہ آزاد ریاست جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تاہم 1991 ء میں نئے انتخابات کے بعد عہدہ صدارت سے استعفیٰ دے کر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں علماء مشائخ کی مخصوص نشست پر الیکشن میں حصہ لیا اور ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر منتخب ہوئے۔ 1996 میں دھیر کوٹ سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے تیسری بار ممبر منتخب ہوئے اور پھر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر ہوئے ۔

2001 ء میں چوتھی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے.سردار محمد عبدالقیوم خان نے اپنے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی ، محکمہ امور دینیہ ، اکلاس ،AKMIDC،محکمہ قضاء، محکمہ افتاء ،سپریم کورٹ اور جوڈیشنل بورڈ کا قیام ، دینی مدارس کی باقاعدہ سرپرستی، صدر کی سطح پر ہفتہ وار درس قرآن کا اہتمام کرانا، اپنے عہدہ صدارت کے دوران انھوں نے آزاد کشمیر میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے ، آزاد جموں وکشمیر کے آئین میں الحاق پاکستان کا’’ آرٹیکل‘‘ شامل کرانے ،جمعہ کی سرکاری چھٹی، خانہ بدوش قبیلے کے لئے موبائل سکول اور موبائل ڈسپنسریوں، شہری دفاع کی تربیت،وفاقی اداروں میں آزاد کشمیر کے لوگوں کے لئے آبادی کے تناسب سے کوٹہ کا مقرر کرانا، آزاد جموں و کشمیر میں یونیورسٹی کا قیام، اردو کو قومی زبان اور شلوار قمیض کو قومی لباس قرار دینے جیسے متعدد تاریخی اقدامات اٹھائے۔ انھوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے اس قول کی بنیاد پر کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ آزاد جموں وکشمیر میں’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے کی ترویج کے لئے سکولوں ،کالجوں ، تعلیمی اداروں اور سرکاری خط و کتابت کی پیشانی پر اس کو کنندہ کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔

سردار محمد عبدالقیوم خان نے 1971 ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد قوم کو نظریاتی اور فکری انتشار سے بچانے اور شکست خوردہ قوم کو دوبارہ اپنے نظریاتی استحکام کی طرف موڑنے کے لئے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ دیا۔ یہ نعرہ آج بھی سیز فائر لائن کے دونوں اطراف پوری قوت سے گونج رہا ہے.1975 ء میں پاکستان کے دگرگوں سیاسی ماحول میں پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے سیکرٹری جنرل منتخب کئے گئے اس دوران انھیں گرفتار کر کے 6 ماہ تک پلندری جیل میں رکھا گیا ۔ ان نازک حالات میں ملک کو بحران سے نکالنے اور قائدانہ اور مفاہمانہ کردار کے لئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی نظریں اُن پر پڑیں۔ انھیں پلندری جیل سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیالہ ریسٹ ہاؤس میں مقید (PNA) کے راہنماؤں کے پاس پہنچایا گیا جن کی کوششوں سے PNA اور حکومت کے درمیان ایک معاہد ہ طے پایا ان کا یہ مصالحانہ رول امن کے پیعمبر کے طور پر قومی اور عالمی سطح پر سراہا گیا ۔

انھوں نے درجنوں کی تعداد میں اردو اور انگریز ی میں کتب تصنیف کیں۔اردوکتابوں میں(1) ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘،(2)’’مقدمہ کشمیر‘‘،(3)’’مذاکرات سے مارشل لا ء تک‘‘(4)،’’آزاد کشمیر شاہراہ ترقی پر‘‘(5)،’’خطبات ناروے‘‘(6)،’’تفسیر اورا ٹکل پچو‘‘(7)،’’تعمیر و ترقی میں انتظامیہ کا کردار‘‘(8)،’’نظریاتی کشمکش‘‘(9)،’’کشمیر کی دفاعی اہمیت‘‘(10)،’’کشمیر اور عالم اسلام‘‘(11)،’’مسئلہ کشمیر‘‘(12)،’’تحریک آزادی کشمیر‘‘(13)،’’ مسلم کانفرنس کے کارکنوں کی ذمہ داریاں‘‘(14)،’’سیاست میں اخلاقی قدروں کی اہمیت‘‘(15)،’’اچھی حکمرانی‘‘(16)،’’فتنہ انکار سنت‘‘ اور انگریز ی کتابوں میں درج ذیل ہیں۔
(01) In Search of Freedom (5 volumes)
(02) The Kashmir Case.
(03) The Kashmir Dispute: Options for Settlement.
(04) The Kashmir Problem.
(05) Miracles of Holy Quarn
(06) Operation Jibraltor – 1965 Indo-Pak War.
(07) Consolidated report: National Kashmir Committee 2002-2003, compiled by Principle Staff Officer Lt. Col. (R) Muhammad Farooq.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں