پاک کشمیر یکجہتی کونسل

106

تحریر :سردار آفتاب خان
آج سےعرصہ کوئی ایک عشرہ قبل سرزمین خطہ شمشیر زن منگ کے ایک سپوت سردار عبدالماجد ارشاد نے پاک کشمیر یکجہتی کونسل, کا قیام عمل میں لایا تھا۔اس کے قیام کی غرض و غائیت ہمالیائی خطوں کی دلاویز سرزمین جموں کشمیر کے باسیو ں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ان کو غلامی کے طوق سے نجات دلانا تھا اس مقصد کے حصول کے لئے سردار ماجد ارشاد نے ریاست جموں کشمیر کے تمام منقسم حصوں سے صاحب الرائے شخصیات سے طویل مشاورت کی اور اپنےانقلابی کام کو اگے بڑھانے کے لئے ایک طریقہ کار واضع کیا۔ اپنے مقصد اور خوابوں میں رنگ بھرنے کے لئے انھوں نے فیصلہ کیا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیرسے وہاں کے سیأسی سماجی شخصیات صحافیوں وکلاء دانشوروں کو ازاد کشمیر اور پاکستان کےورے کرائے جائیں.

تاکہ وہ پاکستان کے عوام کو اپنے مصائب سے خود اگاہ کریں اور ازاد کشمیر اور پاکستان کی صورتحال اپنی انکھوں سے دیکھ سکیں یہ امر خوش ائیند ہے کہ پاک کشمیر یکجہتی کونسل کی دعوت پر متعدد شخصیات نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے دورے کئے اور ان کا پاکستانی اورآزاد کشمیر کےباسیوں نے شاندار استقبال کیا جس سے مثبت پیغام حدمتارکہ کے اس پار گیا بڑے بڑے ادارے اور جماعتیں جو کام نہ کر پائیں وہ پاک کشمیر یکجہتی کونسل نے کیا، یکجتی کونسل نے اپنے قیام کیساتھ ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ عالمی استعمار جس کا بھارت اتحادی ہے ان کی حکمت عملی ہے کہ کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان اتحاد کو نہ صرف ختم کیا جائے بلکہ ان کے مابین نفرت پیدا کی جائے اج سے چالیس سال قبل پاکستان کہ محبت کشمیریوں کے خون میں رچی بسی تھی.

لیکن پاکستان دشمن قوتوں نے رفتہ رفتہ کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں پاک سرزمین کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جس سے اس وقت ریاست جموں کشمیر کے اندر اور بیرون ملک ایک بڑی تعداد پاک مخالف بیانیہ کو اپنا رہی ہے۔ُ اس کے توڑ اور ملت سے پکے جوڑ کے لئے سردار عبدألماجد ارشاد نے ازاد کشمیر پاکستان اور بیرون ملک کئے سیمنار منعقد کئے جن کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں چند سال قبل جب وہ مشرق وسطی میں سیمنار کرا رہے تھے ان تقریبات میں کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی یہ صورت حال بھارت کے لئے سوہان روح بن گئ اور بھارتی لابی نے کروڑوں روپے خرچ کر کے پاک کشمیر یکجہتی کونسل کے لئے مشکلات پیدا کہیں۔

عرب امارات میں أپنے قیام کے دوران ماجد ارشاد نے متعدد ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کیں اور مسلہ کشمیر پر ان کو اپنے موقف سے اگا کیا ۔غیرملکی سفارتکاروں نے بھارتی لابی کی تمام سازشوں اور سدارتکاری کے باوجود یکجہتی کونسل کے موقف کو نہ صرف سنا بلکہ اپنے اپنےممالک کو اس سے اگاہ کیا.پاک کشمیر یکجہتی کونسل اب ایک تحریک بن چکی ہے جس نے نامساعد حالات نے سیاسی اور سفارتی محاذ کے علاوہ فلاحی کاموں صحت اور تعلیم کے شعبہ میں خدمات کی ہ ماجد ارشاد نے اپنے ابائی قصبہ منگ سے کیا وہاں کے ایک نجی ہسپتال کو ایک صاحب ثروت شخصیت سے لاکھوں روپے مالیت کی ایمبولنس مہیا کرائی ہے .

اج پاکستان اور تحریک ازادی کشمیر نازک دور سے گزر رہے ہیں پاکستان بدترین معاشی صورتحال سے دوچار ہے عالمی مالیاتی ادارے پاکستان سے مشکل فیصلے کرا رہے ہیں پاکستان کی کمزور معاشی حالت تحریک ازادی کشمیر کے لئے زہر قاتل ہے۔ یہ صورت حال کشمیری عوام کے لئے پریشان کن ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ادارے مسلہ کشمیر کے حل کے لئے نئی حکمت عملی ترتیب دیں اور بھارتی لابی اور استعمار کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملانے کے لئے پاک کشمیر یکجہتی کونسل کو مزید معال بنانے کے لئے اس کی سرپرستی کریں اور کونسل کی مشاورت سے ائیندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں اسی میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کی عافیت ہے بھارت نے کشمیر کے دریاوں کا رخ بدلنے کے لئے کام شروع کر رکھا ہے وہ پاک کے لہلاتے کھیت ریگستان میں بدلنا چاہتا ہے بھارت کی اس آبی دہشتگردی کے خاتمے کی ایک ہی صورت ہے کہ کشمیر بھارت کے چنگل سے ازاد ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں