پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف

153

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینر شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف ہوا۔اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ہردوسرا کیس کورٹ کیس ہے، جتنے بھی آڈٹ پیراز ہیں سارے کورٹ کیسز ہیں، عدالت میں زیر التوا معاملات ہم سیٹل نہیں کرسکتے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ وکیلوں کی فیس اب بڑھ گئی ہے، وکیل کو تیس لاکھ تک بھی دیا ہے۔اسلام آباد: ریفارمز کی کوشش جاری رکھیں۔

ایف بی آر کی جانب سے درآمدی پالیسی آرڈر 2009 کی خلاف ورزی کا آڈٹ اعتراض کیا گیا، استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف ہوا۔آڈٹ میں کہا گیا کہ درآمدی پالیسی آرڈر 2009 کے تحت استعمال شدہ آٹو پارٹس کی درآمد پر پابندی تھی، اسلام آباد اور ملتان کسٹمز نے سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی کلیئرنس ریڈمپشن فائن کے ذریعے کی۔

آڈٹ حکام نے بریفنگ دی کہ آٹو پارٹس کی یہ کلیئرنس درآمدی پالیسی کی خلاف ورزی تھی، ڈی اے سی نے وزارتِ تجارت سے وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی، وزارتِ تجارت کی پالیسی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ہماری نظر میں دونوں آٹو پارٹس کی کلیئرنس میں تضاد ہے۔

پی اے سی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر سے چار ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔پرال میں غیر مجاز پی سی ٹی ہیڈنگز اور کسٹم ڈیوٹی ریٹس شامل کرنے سے 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، آڈٹ کے مطابق پاک چین کے 2006 کے معاہدے کے تحت 5,909 چینی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایت دی گئی، ایم سی سی اسلام آباد نے درآمدی سامان کو غلط پی سی ٹی ہیڈنگز میں درج کیا۔

کسٹم حکام اور پرال حکام دونوں غلط اندراج کے ذمہ دار ہیں۔پرال سے آدھے لوگوں کو فارغ کر دیا گیا ہے، اس کو مکمل ریویمپ کیا جا رہا ہے، پرال کا الگ سے بورڈ بنایا ہے اور اس کو مکمل ایک آزاد باڈی بنا رہے ہیں، پرال کو ایف بی آر کے انفلوئنس سے بھی نکال رہے ہیں۔ممبر ایف بی آر سید شکیل نے کہا کہ پرال میں جن لوگوں کی غفلت پائی گئی وہ گرفتار بھی ہوئے ہیں، یہ رقم تو بہت چھوٹی ہے لیکن غلطی بہت بڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں