راولاکوٹ، باغ، حویلی، پلندری،(ریاض شاید، نمائندگان سٹیٹ ویوز )بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ ، آٹے پر سبسڈی، ظالمانہ ٹیکسز و دیگر مطالبات کے ساتھ پونچھ ڈویثرن کے چاروں اضلاع اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا، جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں، تمام شاہراہوں کو ٹائر جلا کر اور رکاوٹٰیں ڈال کر بند کیا گیا، راولاکوٹ، ھجیرہ ،عباسپور، کھائی گلہ ،تھوراڑ، پانیولہ ، ارجہ، باغ شہر، ہاڑی گہل، دھیرکوٹ،حویلی کہوٹہ، سدھنوتی ،منگ سمیت تمام شہر بند رہے . احتجاجی مظاہرین کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے ، ھمیں گلگت کے ریٹ پر آٹا دیا جاے ،آزاد کشمیر کی بجلی آزاد کشمیر میں گریڈ اسٹیشن بنا کر پہلے آزاد کشمیر میں دی جائے پھر پاکستان میں دی جاے ۔ہمارا دھرنا جاری رہے گا، عید کے بعد تمام سٹیک ہولڈر زکو اعتماد میں لیکر لائحہ عمل دیں گے ،حکمران سن لیں ہم مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رکھیں گے ۔آج کا پونچھ ڈوثزن میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام حکومت کے خلاف ریفرینڈم ہے ۔ڈوثزنل انتظامیہ سن لے ،ہماری تحریک پر امن ہے لیکن اگر کوئی غلط حرکت یا سازش کی گئی تو پھر یہ تحریک پر امن نہیں رہے گی ۔تفصیلات کے مطابق انجمن تاجران، ٹرانسپورٹ ورکرز یونین اور عوامی اتحاد کے کال پر پونچھ ڈویژن بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاون ہڑتال کی گئی،چاروں اضلاع میں نہ کوئی شٹر کھلا اور نہ کوئی گاڑی چل سکی، تمام شہر ویران اور سڑکین سنسان رہیں،راولاکوٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر وکلا نے بھی عدالتوں کا باٸیکاٹ کی، پونچھ ڈویژن بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاون کیا گیا احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ بجلی بلات اور دیگر اشیا پر ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف اور آٹا سبسڈی بحالی کے لیے انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ورکرز یونین ، گڈز ٹرانسپورٹ یونین اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام پونچھ ڈویژن بھر میں تاریخ ساز مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ۔ پورے پونچھ ڈویژن کے ہر شہر میں شٹر مکمل ڈاؤن رہا اور پہیہ جام رہا۔ اس سلسلہ میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں بڑی ریلی نکالی گئیں جو شہر کی مختلف شاہرات کا چکر لگانے کے بعد کچہری پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیار کر گئی ۔راولاکوٹ، ھجیرہ ،عباسپور، کھائی گلہ ،تھوراڑ، پانیولہ ، ارجہ، باغ شہر، ہاڑی گہل، دھیرکوٹ،حویلی کہوٹہ، سدھنوتی ،منگ سمیت تمام شہر بند رہے ۔احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راولاکوٹ انجمن تاجران کے صدر سردار عمر نذیر کشمری، راجہ امتیاز رحمت ، سردار ریحان اشفاق، شوکت حسین ، سردار قدیر خان ، بلال شکیل ایڈووکیٹ، خان افتخار خان، زاہد عزیز ، ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کے رہنماؤں سردار اویس ارشد ۔،سردار امجد یاسین ، لالہ نواز ، ہارون ، اظہر شہزاد ، گڈز کے رہنماؤں صدر سردار عمران اسحاق ،سیکرٹری فیاض صابر ،عدنان نذیر ، ذوالفقار خان منظور خان اور دیگر نے کہا کہ راولاکوٹ کی تاجر برادری اور سول سوسائٹی مبارکباد کی مستحق ہے جس نے عوامی حقوق کے لیے 44 دنوں سے پر امن احتجاجی دھرنا دیا ہے اور اس احتجاجی تحریک کو نہ صرف پونچھ ڈویژن بلکہ ریاست بھر میں پھیلا دیا گیا ہے ۔ حکمران طبقات اپنی مراعات حاصل کرنے اور عیاشیوں میں مصروف ہیں انکو عوام کے حقوق سے کوئی غرض نہ ہے محکمہ خوراک اور حکمران طبقات و بیوروکریٹس نے قومی خزانے سے اربوں روپے خرد برد کیے ہیں، کوئی لگام دینے والا نہیں ہے ہمارا مطالبہ ہےکہ اس کرپشن کی ہائیکورٹ کے جسٹس پر مشتمل جوڈیشل انکوائری عمل میں لائی جائے ۔ بجلی بلات میں ٹیکسز ظلم ہے 2 روپے 59 پیسے فی یونٹ پڑنے والی بجلی ہمیں 45 تا 50 روپے یونٹ دی جا رہی ہے جو ظلم کے مترادف ہے ۔ ان رہنماؤں نے تاجروں ، عوام الناس، وکلا، ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا جو اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے ہیں. حکمران طبقات کو یہ باور کروایا کہ عوام اپنے حقوق کے لیے کسی صورت نہ خاموش ہوں گے اور مصلحت کا شکار ہونگے. مقررین نے کہا جب تک ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہماری تحریک جاری رہے گی .دریں اثناء بار ایسوسی ایشن نے بھی اظہار یکجہتی کے طورپر ہڑتال کی اور عدالتوں کا باٸیکاٹ کیا میڈیکل سٹورز اور ہوٹل مالکان نے بھی جزوی ہڑتال کی ہے .

حویلی کہوٹ(سٹیٹ ویوز)حویلی کہوٹہ میں انجمن تاجران پونچھ ڈویژن کی کال پر مکمل پہپیہ جام شٹر ڈاؤن کیا گیا ، حویلی یوتھ فورم اور انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر میں پہیہ جام ہڑتال ااور احتجاجی مظاہرہ حکومت بجلی کے بلات سے اضافی سرچارج ، اور فیول ایڈجسٹمنٹ وصولی بند کرے۔منظور احمد ڈآر، حاجی شیخ محمود، احمد حافظ مشتاق الرسول، راشد عزیز چودھری، ممبر میونسپل کمیٹی کہوٹہ حویلی یوتھ فورم کے رہنما آفتاب حسین گیلانی، کرامت درانی ، محمد ریاض راٹھور، فیاض احمد منگرال اور د یگر تاجروں کا مطالبہ. آٹے پرسبسڈی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے سبسڈی بحال کی جائے کہوٹہ میں ہائیڈرول پاور پروجیکٹ چھانجل کی بجلی ضلع میں فراہم کی جائے اور بجلی پر ٹیکس ختم کیے جائیں اٹے کی قلت اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے، ، مظاہرین نے کہا ہے کہ حکومت نے آٹے کی قیمت میں اضافہ کر کے آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کر دی،عوام سارا دن آٹے کی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں مگر شام کو خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ہیں ، بجلی پیدا کرنے والے خطے میں روزانہ 18 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے اور بجلی بلات اور ٹیکسوں میں کئی گنا اضافہ نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ، مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے باعث مزدور اور کاروباری طبقہ سخت مشکلات کا شکار ہے ، انہوں نے کہا ہم نے اپنے مطالبات کے حل کیلئے اس سے قبل بھی احتجاج کر چکے ہیں ،لیکن اگر مطالبات حل نہ ہوئے تو حویلی میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور ہڑتال کا دائرہ کار بڑھانے اور اگلے لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا ، انہوں نے عوام علاقہ ،تاجران اور ٹرانسپورٹر نے آج کی ہڑتال میں بھرپور شرکت کر کے ملی بیداری کا ثبوت دیا.
ارجہ(سٹیٹ ویوز)پونچھ ڈویژن کے عوام بپھر گئے،باغ کو مظفرآباد اور اسلام آباد سے ملانے والی شاہراہ ارجہ،جہالہ،غازی آباد،دہیرکوٹ سے ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند رہی۔پونچھ ڈویژن کا آزاد کشمیر کے دیگر شہروں اور پاکستان سے زمینی رابطہ منقطع رہا۔عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ٹائر جلا کر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی۔عوام میں شدید اشتعال۔روڈ کی بندش کی وجہ سے شہریوں،تاجروں،مریضوں اور طلباہ و طالبات دن بھر خوار ہوتے رہے۔نظام زندگی مکمل مفلوج رہا۔اس دوران ارجہ،جہالہ،منگ بجری اور دیگر بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا اور مکمل پہیہ جام رہا۔ارجہ میں مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے صدر انجمن تاجران ارجہ راجہ صغیر احمد خان،تاجر رہنماہ راجہ آمجد عارف و دیگر نے کہا کہ حکومت وقت بجلی پر عائد بے جا ٹیکسز اور فورس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے،آٹے پر سبسڈی بحال کرے اور ایلوکیشن بڑھائی بڑھائے۔ریاستی حکمران اور بیوروکریسی شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں جبکہ غریب عوام دو وقت کے کھانے کو ترس رہے ہیں۔ریاستی عوام پورا دن لائن میں لگ کے خوار ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی آٹا میسر نہیں۔ہماری پر امن جدوجہد ہے لیکن اگر اس کرپٹ مافیا نے قبلہ درست نا کیا تو یہ جدوجہد پوری ریاست تک بڑھائی جائے گی اور وہ پر تشدد بھی ہو سکتی ہے۔ہمارے بنیادی مسائل حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی تو پھر ہم اپنا حق کسی اور طریقے سے لیں گے۔تاجر قیادت و ایکشن کمیٹی آئندہ کے لیے جو بھی لاہحہ عمل دے گی اس پر عمل درآمد ہو گا۔