پہلگام کا پراسرار کھیل،انڈین بیانیہ پٹ گیا

27

پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد کئے گئے الزامات اور دونوں اطراف کی جانب سفارتی عسکری اور معاشی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے میں ایک نئی بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے تاہم بھارتی ڈیپ سٹیٹ نے جو میڈیا وار شروع کی اس میں بھارت بین الاقوامی سطح پر پٹ گیا۔اب اطلاع ہے کہ بھارت اب میڈیا وار کے ساتھ ہتھیاروں سے لڑائی کو تیز کر رہا ہے تاکہ وہ جھوٹے بیانیہ کو بارود کے پردے میں لپیٹ سکے۔صورتحال یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارتی حکومت کے فوری الزامات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا مثلاً واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ حملے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا اور متعدد گھروں کو مسمار کیا گیا۔ بعض مبصرین نے اس عمل کو بلاجواز اجتماعی سزا قرار دیا۔

اسی طرح دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ کشمیر میں جاری تنازعہ اور بھارت کی سخت گیر پالیسیوں نے مقامی آبادی میں بے چینی اور مزاحمت کو جنم دینے سمیت اس حملے نے ڈیپ سٹیٹ کی پالیسیوں کی ناکامی کو بے نقاب کیا۔یاد رہے کہ 30 منٹ میں 26 انسانی جانوں کے ضیاع کا کھیل ختم ہوا تو اگلے 10 منٹ بعد بھارتی حکام کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج اور پاکستان پر الزام عائد کرنا درحقیقت خود ہی مدعی خود ہی وکیل اور خود ہی جج بننے کی اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے جو بین الاقوامی معیار کے تفتیشی طریقہ کار کے برعکس ہے۔ عام طور پر ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی کسی ملک یا گروہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے۔ بھارت کا یہ فوری ردعمل اس کے بیانیے کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پہلگام حملے کا اصل ہدف وہ تین بھارتی ججز تھے جنہوں نے حال ہی میں آر ایس ایس کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی مستند شواہد یا معتبر ذرائع سے تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ لہٰذا اس مفروضے کو حقائق کی روشنی میں قبول کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو چین اور ایران جیسے ہمسایہ طاقتوں کا ردعمل اہم ہوگا۔ چین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ ایران نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایسی صورتحال میں خطے میں استحکام رکھنا تجارتی جنگ میں پھنسے ہوئے امریکہ اور دیگر طاقتوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتا دکھائی دے رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں