تحریر: باسط علی عباسی
آزاد کشمیر میں گزشتہ چھے ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا مگر پبلک سروس کمیشن کے پینل کی تشکیل نو نہ ہوسکی۔ آئینی طور پر گریڈ 21 و 22 میں ریٹائرڈ شخصیات جنکا تعلق مختلف شعبوں سے ہوتا انہیں پینل میں لیا جاتا۔ پینل کی مدت تین سال ہوتی۔ ہر تین سال بعد حکومت نئے پینل کی تشکیل کرتی۔ یہ کام وزیراعظم آزاد کشمیر کی صوابدید ہے کہ وہ مشاورت کے بعد تشکیل کریں۔ پبلک سروس کمیشن بنیادی طور پر ایک ایسا ادارہ ہے جس کام گریڈ 16 سے اوپر محکمہ جات کی جانب سے بھیجی گئی ریکوزیشن کے مطابق پوسٹیں مشتہر کرنا اور ان پوسٹوں پر ٹیسٹ و انٹرویو کا انقعاد کرکے فائنل لسٹیں محکمہ جات کے سپرد کرنا ہے۔
پچھلے چھے ماہ سے ہینل کی تشکیل نو نہ ہونے کے باعث سیکنڑوں آسامیاں ایسی ہیں جنکی ریکوزیشن پی ایس سی میں موجود ہیں جو مشتہیر نہ ہوسکیں۔ اس کے علاؤہ بہت ساری ایسی پوسٹیں ہیں جن پر مختلف نوعیت کے سٹے تھے جو معزز عدالتوں سے خارج ہوچکے مگر پینل نہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ انٹرویو نہ ہوسکے۔ افسوسناک امر یہ کے کئی نوجوان اپنی 40 سال کی عمر پوری کرنے والے اب کی بار اگر جلد پینل کی تشکیل نہ ہوگی تو وہ نوجوان قانونی طور پر مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوجائیں گے۔ پینل نہ ہونے کی وجہ سے مختلف سیاسی طور پر مضبوط لوگ کوشش کرتے کہ انکے متعلقین ایڈہاک لگ جائیں۔ بعد ازاں وہی ایڈہاک لوگ جب اشتہار آتا تو ٹیسٹ انٹرویو کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے۔
اس کالم کی وساطت سے جناب وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جناب والا جلد از جلد پینل کی تشکیل نو کی جائے تاکہ آن میرٹ ریاست جموں و کشمیر کے بچے و بچیاں نوکری حاصل کرسکیں۔ جناب والا سے میری یہ بھی گزارش ہوگی کہ پینل کی تشکیل سیاسی بندر بانٹ کے بجائے آن میرٹ کی جائے۔ جس طرح کچھ روز قبل خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ ایک سیاسی جماعت نے چئیرمین سمیت کچھ ممبران کی تقرری مانگی۔ جناب والا 2011 سے 2016 اور 2016 سے 2021 دور کس کو یاد نہ ہوگا۔ ن لیگ حکومت نے بہت اچھے اقدامات کیے مگر آخری دوسالوں میں انہوں نے جو تباہی کی اسکا خمیازہ آج ہماری نوجوان نسل بھگت رہی۔ تمام ممبران بشمول چئیرمین سب کا تقرر آن میرٹ کیا جائے۔ایسا کوئی بھی ریٹائرڈ فوجی،بیوروکریٹ یا جج جو کسی جماعت کے ساتھ منسلک ہو یا اس جماعت کا عہدیدار ہو ہرگز پینل میں شامل نہ کیا جائے تاکہ بغیر کسی سیاسی جماعت،ٹبر،قبیلہ و علاقہ نوجوانوں کو آن میرٹ نوکری مل سکے۔
اس وقت چئیرمین پی ایس سی کے لیے بہت سے نام زیر گردش ہیں۔ حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ چئیرمین پی ایس سی کے لیے اس وقت سب سے موزوں شخص کوٹلی سے ریٹائرڈ بیوروکریٹ،معروف شاعر و مصنف اکرم سہیل ہیں جو 2016 سے 2019 کے پینل میں بطور ممبر کام کرچکے۔ علاؤہ ازیں وہ صرف ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی علمی و ادبی شخصیت بھی ہیں۔ علاؤہ ازیں بطور بیوروکریٹ انکی ایمانداری و میرٹ پسندی کسی سے ڈھکی چھی نہیں۔ میرے خیال میں اس وقت بے داغ ماضی و روشن مستقبل کا جملہ صرف اکرم سہیل صاحب پر ہی صادق آتا۔ موصوف سیاسی طور پر بھی کسی پلیٹ فارم اے منسلک نہیں۔ انکی ساری توجہ قلم پر ہی مزکور ہوتی۔ حکومت وقت انکے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں چئیرمین پبلک سروس کمیشن بنا کر آزاد کشمیر کی نوجوان نسل پر احسان کرے۔ مجھ سمیت ہماری ریاست کا ہر ذی شعور شہری حکومت آزاد کشمیر کا ممنون و مشکور ہوگا!