تحریر:عاصمہ بتول
پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کی یونین کونسل سیراڑی میں گزشتہ روز ایک 20 سالہ لڑکی کو سسرالیوں کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مار پیٹ کے بعد لڑکی کو زہر کھلایا گیا اور پھر تشویشناک حالت میں وہ ہسپتال پہنچی، جہاں اس کی جان بچا لی گئی۔ سٹی تھانہ ہجیرہ میں مقدمہ درج کیا گیا لیکن طاقتور حلقوں کے کہنے پر کراس پرچہ درج کرکے صلح کی راہ ہموار کر دی گئی، جو اس لڑکی کو انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ نظر آتی ہے۔ ایک 20 سالہ لڑکی، جس کے دو بچے ہیں، کو 14-15 سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے اور پھر وہ ہر دن سسرال کے ظلم و ستم کا شکار بنتی ہے، جس کا انکشاف اس نے اپنے ایک ویڈیو کلپ میں کیا ہے۔
لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، نہ ہی یہ آخری واقعہ ہے۔ اسی یونین کونسل میں دو سال پہلے تبسم نامی ایک لڑکی اپنی بھابھی کے ہاتھوں قتل ہوئی تھی، جس کی عمر بمشکل 15 سال تھی۔ سوشل میڈیا اور سیراڑی کمیونٹی کے پلیٹ فارم سے کیس کو ہائی لائٹ کیا گیا، جس کے بعد قبر کشائی ہوئی، لیکن اس قتل کو خودکشی کا نام دے کر کیس کلوز کر دیا گیا۔ اس خبر کو ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ داڑی کوٹ میں ایک لڑکی نے بلیک میلنگ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔ جرگے ہوتے ہیں، خبر سوشل میڈیا پر پھیلتی ہے، تب قانون حرکت میں آتا ہے، لیکن اس کے مجرموں کو بھی سزا نہیں مل سکی۔ حالیہ دنوں پوٹھی چھپریاں کے علاقے میں ایک لڑکی اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوئی۔
لڑکی حاملہ تھی اور اس کے پیٹ میں سات ماہ کا بچہ تھا۔ شوہر نے اسے قتل کیا، اس کے بعد اسے گاڑی میں ڈالا اور گاڑی کا شیشہ توڑ کر اسے ایکسیڈنٹ قرار دیا اور لاش کو دفنا دیا گیا۔ کچھ دنوں بعد سوشل میڈیا پر شور مچایا گیا، جس کی وجہ سے مجرم کو گرفتار کیا گیا اور اس نے اقبالِ جرم کر لیا۔ایسے بے شمار واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ریپ، تیزاب گردی، جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے میں معمول بن چکے ہیں۔اس موضوع کو سمجھنے کے لیے بہت طویل مضمون درکار ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ گھریلو تشدد کو ہی موضوعِ سخن بنایا جائے۔گھریلو تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کی بنیاد مردانہ بالادستی، جنسی شائونزم پر مبنی رویے اور عورت دشمنی پر مبنی رسم و رواج میں پیوست ہے۔
یہ مسئلہ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں یہ ایک اژدہا بن چکا ہے جو عورتوں کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔گھریلو تشدد، جسے اکثر “خاندانی تشدد” یا “انٹرا فیملی وائلنس” کہا جاتا ہے، وہ کسی بھی قسم کا تشدد یا جبر ہوتا ہے جو گھریلو اراکین کے درمیان ہوتا ہے۔ اس میں شوہر، بیٹے، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ دار شامل ہو سکتے ہیں۔ خواتین پر گھریلو تشدد ایک عالمی مسئلہ ہے جو ہر طبقے اور معاشرتی حیثیت کی خواتین کو متاثر کرتا ہے، اور اس تشدد سے سب سے زیادہ محنت کش خواتین متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ پہلے پہل تو انہیں تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد کم عمری میں ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔
پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد کا مسئلہ وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ 2020 کی ایک تحقیق کے مطابق، 40 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں گھریلو تشدد کا شکار ہو چکی ہیں۔ ان میں جسمانی تشدد، ذہنی اذیت، اور جنسی تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 35 فیصد خواتین اپنے شوہروں کی جانب سے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 90 فیصد خواتین زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔گھریلو تشدد کا خواتین کی ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جسمانی تشدد کے نتائج میں چوٹیں، زخمی ہونا، یا جسمانی معذوری ہو سکتی ہے۔
ذہنی تشدد جیسے گالیاں دینا، دھمکیاں دینا یا ذاتی عزتِ نفس کو مجروح کرنا، خواتین کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے اور اس سے ڈپریشن، اضطراب اور خودکشی کے خیالات جنم لیتے ہیں۔ بلکہ اکثریت خواتین خودکشی کا راستہ اپنا لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی تشدد، جس میں خواتین کو دولت سے محروم رکھا جاتا ہے یا جائیداد سے بے دخل کیا جاتا ہے، بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن اس پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف متعدد قوانین موجود ہیں، جیسے کہ 2010 میں منظور ہونے والا “ڈومیسٹک وائلنس بل” جس کا مقصد خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانا اور ان کی حفاظت کرنا ہے۔ ایسے کئی قوانین عورتوں کی حفاظت کے لیے بنے ہیں اور آگے بھی بنتے رہیں گے۔
ہم ایسے قوانین کی مخالفت نہیں کرتے، لیکن ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں قانون کا کردار بھی طبقاتی ہے۔ پیسے والے قانون کو خرید لیتے ہیں۔ محنت کش خواتین سے تعلق رکھنے والوں کو اکثر انصاف کے لیے جسم فراہم کرنے تک کی آفرز کی جاتی ہیں۔ بہت سی متاثرہ خواتین سماجی دباؤ، خوف، یا خاندان کے لحاظ سے عدالت تک جانے سے ہچکچاتی ہیں، اور اس وجہ سے اکثریت کیس رجسٹرڈ بھی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت دشمنی صرف قوانین تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی رکاوٹیں بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ عورتوں کو خاموش رہنے یا تشدد کو برداشت کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اور یہ تصورات اکثر ان کے ذہنوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ “خاندانی عزت” کے نام پر عورتوں کو تشدد کی حالت میں بھی خاموش رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
لڑکی کا گھر ٹوٹنا ایک ناقابلِ تلافی گناہ تصور کیا جاتا ہے، اس وجہ سے اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ تشدد برداشت کرے، لیکن اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچائے۔ اسی وجہ سے اکثریت خواتین چپ چاپ یہ ظلم سہتی رہتی ہیں اگر دیکھا جائے تو عورت کو لے کر دو قسم کی سوچیں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو عورت کو ہی اس سارے مسئلے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ عورت کو چادر و چار دیواری میں قید کر کے مردوں کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کروانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت پر گھریلو تشدد ہو، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے یا جس طرح کا بھی ظلم کیا جائے، اس میں عورت کی نافرمانی، اس کا لباس اور دیگر فروعی مسائل ہی کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک عورت کے مسائل صرف سرمایہ دار عورتوں کے مسائل ہی ہیں۔ وہ عورت کی آزادی کو لباس، میک اپ، ڈرائیونگ اور مغربی طرز پر جینے کی آزادی ہی کو عورت کی آزادی تصور کرتے ہیں۔ یہ بھی نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ایسے لوگوں پر مشتمل گروہ، این جی اوز اور تنظیمیں ہوتی ہیں جنہیں عورت کی معاشی آزادی نظر نہیں آتی۔ انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ایک سرمایہ دار عورت کیسے اپنی ملازمہ کا استحصال کرتی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں رہائش، صاف پانی، مناسب غذا، اور بروقت طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم بھی عورتوں پر زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ عورتوں کو پرایا سمجھا جاتا ہے.
جس وجہ سے عورتوں کی تعلیم کی نسبت مردوں کی تعلیم کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔ایسے ناانصافی پر مبنی معاشرے میں عورت کی آزادی، گھریلو تشدد کا خاتمہ، اور مردانہ برتری کے تسلط سے نجات کا واحد راستہ عورتوں کی جدوجہد میں شمولیت ہے۔بنیادی و فوری نوعیت کے مسائل کے گرد خواتین کو منظم کرنا انھیں احتجاجوں کا حصہ بنانا اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا درس دینا ،ضروری ہے اور یہ کام سماج میں پہلے سے حقوق کی لڑائی لڑنے والی خواتین کی لڑاکا پرتیں ہی کر سکتی ہیں۔بعض اوقات فوری نوعیت کے مسائل کے گرد کوئی تحریک بنتی بھی ہے تو وہ حاصلات لینے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ہماری کل آبادی کا 52 فیصد حصہ عورتوں پر مشتمل ہے۔
اس لیے عورتوں کو جدوجہد کے میدان میں برابری کی بنیاد پر نکلنا پڑے گا۔ باشعور عورت گھریلو تشدد جیسے مسائل سمیت دیگر اذیتوں کے خلاف حتمی لڑائی کے زریعے ہی جیت حاصل کر سکتی ہے اور سرمایہ داری کے عورت دشمن تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر اسے پاش پاش کر سکتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ عورتوں کی محکومیت کا آغاز اس طبقاتی سماج میں تقسیم کے آغاز سے ہوا ہے۔ اور اس طبقاتی سماج کو مٹانے اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے ساتھ ہی عورت کی حقیقی آزادی ممکن ہے۔ اس طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں عورت کو کردار ادا کرنا ہوگا، تبھی دکھوں اور تکلیفوں کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔اور اس کرہ ارض پر انسانی معاشرے کے قیام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔