چمک دمک کا اسیر معاشرہ: انسانی حقوق کے اصولوں کی پامالی

155

نقطہ نظر/سید حیدر علی
کہتے ہیں اصول وہ پیمانے ہیں جن پر شخصیت کی عظمت اور ادارے کی سنجیدگی پرکھے جاتے ہیں۔ لیکن جب اصولوں کو وقتی مفادات یا طاقت کی چمک کے نیچے دبا دیا جائے تو نہ صرف وہ ادارے اپنا اعتبار کھو بیٹھتے ہیں بلکہ وہ اپنی اصل منزل سے بھی بھٹک جاتے ہیں۔ یہی کچھ حال ہی میں ایک نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیم کے ساتھ ہوا جس نے آزادیِ اظہار کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں ایک ایسے سرکاری وزیر کو مدعو کیا جو بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے میں سب سے آگے رہے ہیں۔

حال ہی میں “ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان آزادکشمیر” کے نام سے ایک تنظیم نے انسانی حقوق کے نام پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں آزاد کشمیر سے ایک وزیر کو مدعو کیا گیا یہ وہی وزیر ہیں جنہوں نے آزادیِ اظہار کو دبانے کے لیے سخت قوانین بنائے اور عوامی تحریک کو سازشی عناصر کا کھیل قرار دیا۔ ان کا کردار انسانی آزادیوں کو سلب کرنے میں اتنا واضح ہے کہ ان کی شمولیت نے نہ صرف کانفرنس کی ساکھ کو متنازعہ بنا دیا بلکہ تنظیم کے اصولی موقف کو بھی مشکوک کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومتی نمائندگی کے لیے دیگر افراد موجود تھے، تو پھر اسی وزیر کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ کیا یہ تنظیم کی لاعلمی تھی یا شعوری طور پر طاقتوروں کی قربت حاصل کرنے کی ایک کوشش؟

جب اس فیصلے پر تنقید ہوئی، تو تنظیم نے کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے مبہم بیانات دیے۔ کہا گیا کہ “ہم نے حکومتی نمائندگی کے لیے وزیر کو بلایا تاکہ نقطہ نظر کا تبادلہ ہو۔” لیکن سوال یہ ہے کہ ایک متنازعہ وزیر سے نقطہ نظر حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کردار تو پہلے ہی ہر کسی کے سامنے عیاں ہے۔ اس غیر سنجیدہ رویے نے ظاہر کر دیا کہ تنظیم اپنے ہی اصولوں کو پس پشت ڈال کر کسی بڑی شخصیت کی موجودگی کو ترجیح دیتی ہے۔

یہ واقعہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو ہمارے معاشرے میں طاقت کے سامنے جھکنے کو ترجیح دیتی ہے۔ تنظیم کا یہ فیصلہ صرف ایک غلطی نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے پلیٹ فارمز خود ان حقوق کے دشمنوں کو تقویت دے رہے ہیں۔ وہ اصول جن پر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیا جانا چاہیے طاقتوروں کی چمک دمک کے نیچے روند دیے گئے۔

اس عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایسے اقدامات عوام کا ان تنظیموں پر اعتماد ختم کر دیتے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کے محافظ ہی غیر انسانی اقدامات کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو مظلوم اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے کہاں جائیں گے؟ عوامی جدوجہد کو غداری قرار دینے والے کو پلیٹ فارم مہیا کرنا ایک ایسا طنز ہے جسے کوئی بھی باشعور شخص نظرانداز نہیں کر سکتا

یہ کانفرنس صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ تنظیم کی مجموعی سوچ پر سوال اٹھاتی ہے۔ کیا یہ تنظیم اپنے اصولوں پر واقعی کاربند ہے؟ یا یہ صرف نام کے لیے انسانی حقوق کا علمبردار ہے؟ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اصولوں کی جگہ مفادات نے لے لی ہے اور مقصد کی جگہ طاقتوروں کی خوشنودی آ گئی ہے۔

معاشرے میں تبدیلی صرف نعرے لگانے یا کانفرنسیں منعقد کرنے سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے غیر متزلزل اصولوں اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر تنظیمیں خود اپنی اقدار سے انحراف کریں گی تو وہ نہ صرف اپنی ساکھ کھو بیٹھیں گی بلکہ مظلوموں کے لیے بھی امید کی کوئی کرن باقی نہیں چھوڑیں گی۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عوام ان تنظیموں سے جواب طلب کریں اور انہیں اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا پابند بنائیں۔ ورنہ یہ تنظیمیں طاقت کے کھیل کا حصہ بن کر اپنے اصل مقصد سے دور ہو جائیں گی اور انسانی حقوق کا دفاع محض ایک دکھاوا بن کر رہ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں