آتالیق،باسط علی
سائنس اور ٹیکنالوجی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ایجادات اور تخلیقات پوری دنیا کی بنی نوع انسان کے لئے سہولت اور آسائش کا باعث بنتی ہیں۔ قومیں دنیا میں علم و ہنر کے باعث ہی ترقی کی معراج تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ جب کوئی قوم سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت پہ مبنی قابل ستائش کارنامہ سر انجام دے، خواہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو تو اس پہ داد نہ دینا بہت بڑا بخل ہو گا۔ چندریان تھری انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی چاندپہ تسخیر کا جھنڈا گاڑھنے کی تیسری کوشش تھی اس سے قبل چندریان ون اور ٹو دو مشنز یکے بعد دیگرے ناکام ہوۓ۔
مگر تیسری بار انڈین سپیس سائنٹسٹس نے اس ناممکن مشن کو ممکن کر دکھایا۔
چندریان تھری لینڈر وکرم اور روور پگیان پہ مشتمل تھا۔ ان دور جزو کو کئی پروپلشن ماڈیولز کے ذریعے گریویٹشنل فیلڈ سے لیونر یعنی چاند کے مدار میں انجیکٹ کیا گیا۔ زمین سے دور بیجھنے کے لئے کئی پروپلشن ماڈیولز یعنی راکٹس کا استعمال کیا گیا۔ راکٹ میں کئی ٹن لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن جلنے سے بہت پریشر سے یہ گیسیں خارج ہوتی ہیں جو اگلے مواد کو مومینٹم فراہم کرتی ہیں۔ اس مومینٹم سے اگے کا ماس اوپر کے جانب فاصلہ طے کرتا ہے۔ جوں ایک ماڈیول کا ایدھن ختم ہوتا ہے تو اس کا کنٹینر بقیہ ماس سے علیحدہ ہو کر اوور آل وزن کو کم کرتا ہے۔
ایک ماڈیول کا لوڈ الگ ہونا اور دوسرے کو اگنائٹ کرنا انجینئرز کے فن اور تجربے کا شاہکار ہوتا ہے۔ اس دوران اگر دوسرا ماڈیول علیحدہ ہونے سے قبل اگلے ماڈیول کے اینڈھن کو آگ نہ لگے تو مشن ادھے راستے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اس طرح لیونر گریویٹیشن میں داخل ہونے سے قبل سارے فیول ٹینکس ماس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ چاند کے گریوٹیشول فیلڈ میں داخل ہونے کے بعد ورکنگ ماڈیول۔ چاند کی کشش کے باعث چاند کی سطح پہ لینڈ کرتا ہے۔ اس سارے اثناء میں ورکنگ ماڈیول کا زمینی بیس سٹیشن سے رابطہ قائم رہتا ہے۔
رابطہ نہ ہونے کی صورت میں مشن فیل تصور کیا جاتا ہے۔مشن 23 اگست کی شب چاند پہ لینڈ کر چکا ہے۔سطح چاند کے ساوتھ پول پہ لینڈ کرنے کے بعد روور مشین چاند کی زمین اور چٹانوں پہ گھوم ویڈیوز اور امیجز کی صورت میں ڈیٹا بیس سٹیشن کو بیجھے گی۔ یہ واقعہ انڈیا کے سپیس پروگرام کا پہلا شاخسانہ ہے۔ جس نے اسپیس ریسرچ اور تحیقیق کاایک نیا باب کھولا ہے۔اس کامیابی کے بعد انڈیا چوتھا ملک ہے جس نہ چاند کی سرزمین کو اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔اس سے قبل یہ اعزاز امریکہ، چائنہ اور روس کے پاس تھا۔