چڑالہ سے اُٹھنے والی “سیاسی چنگاری” سردار عتیق احمد خان کے لیے خطرے کی نشانی

77

خامہ صبح ،اُسامہ امتیاز عباسی
آزادکشمیر کی تحصیل دھیرکوٹ کا نواحی گاؤں چڑالہ جو غربی باغ دھیرکوٹ کی سیاست کا مرکز و محور رہا ہے۔ یہ چڑالہ یونین کونسل کا درجہ بھی رکھتا ہے۔ اِس گاؤں میں مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔ جو اپنے متعلقہ شعبوں میں نمایاں رہے ہیں۔ اِس چڑالہ میں مختلف سیاسی نظریات سے وابستہ لوگ موجود ہیں۔ اِس گاؤں کی ایک خوبی ہے کہ یہاں مختلف نظریات اور مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی ہونے کے ساتھ لوگوں میں رواداری کا جذبہ بھی موجود ہے، اور کسی بھی معاشرے کی فلاح کیلئے یہ سب سے اہم اور ضروری ہیکہ وہاں موجود مختلف نظریات کے حامل لوگ معاشرے کی بہتری اور تعمیروترقی کیلئے مل بیٹھنے کو ہمہ وقت میسر رہتے ہیں۔

اِس چڑالہ میں جہاں مختلف نظریات سے وابستہ لوگ موجود ہیں۔ اِن نظریات میں دو طرح کی سوچ رکھنے والے لوگوں کی کثرت ہے۔ ایک وہ سوچ ہے جو مسلم کانفرس سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ مسلم کانفرنس کی قیادت سردار عتیق خان جن کا یہ حلقہ انتخاب بھی ہے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اِن کے ساتھ کھڑے ہیں،اور دوسری سوچ ایسے لوگوں کی ہے۔ جو ہمیشہ مسلم کانفرنس کی مخالف صفوں کو پسند کرتے ہیں۔ اِس مخالف صف میں شامل لوگوں کی کثرت میجر لطیف خلیق کی ہم خیال ہے۔ اِس کی بڑی وجہ میجر لطیف خلیق کا چڑالہ کے لوگوں کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔

اِس یونین کونسل چڑالہ نے ہمیشہ سے کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں دیا بلکہ یہاں لوگ مختلف انتخابات میں مختلف طرح کے تجربات کرتے دیکھائی دئیے۔ لیکن ماضی میں عام انتخابات زیادہ تر مسلم کانفرنس حق میں رہے۔ 2016 کے عام انتخابات میں میجر لطیف خلیق یونین کونسل چڑالہ سے کامیاب ہوئے اور 2021 کے عام انتخابات میں سردار عتیق خان یہ یونین کونسل جیت گئے۔ اِن عام انتخابات کے بعد حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جاوید عارف عباسی جو آزاد حثیت سے الیکشن میں آئے اور یونین کونسل چڑالہ جیت گئے۔ اِس کامیابی کے پیچھے ایک اچھی سیاسی پالیسی، جاوید عارف عباسی کی ذاتی محنت اور لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہی تھی۔

اِن بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل چڑالہ سے جیتنے والے اُمیدوار جاوید عارف عباسی جو تمام اپوزیشن کے متفقہ اُمیدوار تھے۔ یہ ایک قابل، باصلاحیت اور متحرک نمائندہ ہیں۔ جو یونین کونسل چڑالہ کے مسائل سے مکمل آگاہ بھی ہیں اور اِن مسائل کے حل کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ جو ایک ڈسٹرکٹ کونسلر کے اختیار میں ہوتا ہے۔ بلکہ بلدیاتی انتخاب کے بعد اِس وقت تک یونین کونسل چڑالہ میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام مکمل ہوچکے ہیں اور بشتر پہ ابھی کام جاری ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد حلقہ بھر میں سردار عتیق احمد خان کے مخالفین پہلے سے زیادہ سرگرم دیکھائی دے رہے ہیں۔ اِس اپوزیشن کو متحرک کروانے میں سے اہم کردار یونین کونسل چڑالہ سے منتخب نمائندہ جاوید عارف عباسی کا ہے جو مسلم کانفرنس کے شدید سیاسی مخالف تصور کئے جاتے ہیں۔ اور اِس مخالفت کی وجہ مسلم کانفرنس اور سردار عتیق خان کی ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ نہ دینا ہے۔ جو بلکل حقیقت پر مبنی ہے۔ لہٰذا سادہ الفاظ کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں سردار عتیق احمد خان کو اِس وقت حلقے میں جس سیاسی چنگاری کا سامنا ہے اُس کا بانی چڑالہ کا نمائندہ “جاوید عارف عباسی” ہے۔

اِس سیاسی چنگاری کو جہاں میجر لطیف خلیق طویل جدوجہد سے بھڑکانا چارہے وہاں اِس بار جاوید عارف عباسی نے ہوا دی اور ساجد اقبال عباسی “دِلی” کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اب یہ “چنگاری” اور “دِلی” ایک پلیٹ فارم پہ موجود ہیں۔ شاہد یہ وہی دِلی تھی جسکا غربی باغ کی اپوزیشن کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اب ایسے بہتر طریقے سے ہی استعمال کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ تاہم یہ خدشہ بھی ضرور موجود ہیکہ وقت سے قبل جلنے والی یہ “دِلی” کئی عین وقت پہ جواب نہ دے جائے۔

سردار عتیق خان کے خلاف حلقہ میں موجود اپوزیشن اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ بہت محنت کرکے یا انتہائی متحرک اور جاندار کردار ادا کرکے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے تو ایسے ممکن نہیں کیونکہ سیاست میں ہمیشہ وہ لوگ کامیاب ہوئے جنہوں نے عین وقت پر سیاسی درجہ حرارت اور موقع کی مناسبت سے فیصلے کئے یا کوئی سیاسی پالیسی اپنائی۔ اِس حلقے میں آپ کا مقابلہ صرف ایم-ایل-اے کے ساتھ نہیں بلکہ آزادکشمیر کے انتہائی ذہین اور قابل سیاستدان کے ساتھ ہے لہٰذا یہاں کا سیاسی ماحول آپ سے دیگر حلقوں کی نسبت زیادہ سیاسی فہم اور شعور طلب کررہا ہے۔

سردار عتیق احمد خان کو حلقہ میں اِس وقت ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اُس کی بڑی وجہ یہ ہیکہ بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹس کی تقسیم پر بڑی تعداد میں کارکن اور ورکرز ناراض ہوکر دوسری جماعتوں یا اپوزیشن کے کارواں میں شامل ہوچکے ہیں اور سب سے بڑی مشکلات ساجد اقبال عباسی کی صورت میں موجود ہے جو اپنے تمام طر وسائل کو استعمال کرتے ہوئے حلقہ میں موجود ہیں اور محلے محلے تک لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے متحرک نظر آرہے ہیں۔ اِس پر مزید یہ کہ ساجد اقبال عباسی کو غربی باغ کے اپوزیشن لیڈر میجر لطیف خلیق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بلکہ میجر لطیف خلیق بہت سے سیاسی اجتماعات میں وقت سے قبل ہی ساجد اقبال کیلئے الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان کرچکے ہیں اور غربی باغ کی اپوزیشن کو متحرک اور مشترکہ اُمیدوار کی سوچ دینے والے جاوید عارف عباسی بھی ہمہ وقت ساجد اقبال عباسی کے ہمراہ موجود ہیں۔

اِس حلقہ غربی باغ دھیرکوٹ سے مسلم کانفرنس عام انتخابات میں کامیاب ہوئی۔ لیکن بلدیاتی انتخابات میں دس یونین کونسلز میں سے صرف چار یونین کونسلز میں کامیاب ہوسکی۔ اِس ناکامی کو مسلم کانفرنس کے نالاں کارکن اور ورکرز سردار عتیق خان کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان دس یونین کونسلز میں سے چھ یونین کونسلز مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے جیتنے میں کامیاب رہے۔ یہ نمائندے اور ان کی سیاسی قیادت آنے والے عام انتخابات میں غربی باغ کی حد تک کسی بھی متفقہ پالیسی جو سردار عتیق خان کو سیاسی اکھاڑے میں نقصان پہنچائے کیلئے مل کر بیٹھ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ دیکھنا باقی ہے کہ چڑالہ سے اُٹھنے والی یہ “سیاسی چنگاری” سردار عتیق احمد خان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں