ڈاکٹر شکیل پتافی بحثیت عاشق غالب

141

تحریر :صائمہ ممتاز
چاہنا اور چاہے جانا ہر ذی روح بلخصوص انسان کی خواہش بھی ہے اور ضرورت بھی۔۔مرزا غالب عمدہ نثر نگار اور قادر الکلام شاعر تھے ۔ان کے ہاں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی،مشکل پسندی بھی ہے اور سہل ممتنع بھی،سلاست بھی ہے روانی بھی ،حسن و عشق کا بیان بھی ہے اور تصوف کے مسائل بھی،شوخی و ظرافت بھی ہے اور انانیت بھی ،اذیت پسندی بھی ہے اورطنز یہ لب و لہجہ بھی،غم جاناں بھی ہے اور غم دوراں بھی ،سائنسی شعور بھی ہے اور تخیل کی فراوانی بھی ،انہیں اپنے فن اور قدرت بیان پر بہت ناز تھا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں نرگسیت کا عنصر غالب ہے ۔المیہ یہ ہے کہ غالب جیسے شاعر کو ان کے عہد میں اتنی پذیرائی نہ ملی ، جس کے وہ مستحق تھے ۔ان کی وفات کے بعد باقاعدہ ان کے کلام کی متعدد شروحات تحریر کی گئی۔ان کی شخصیت و فن پر مختلف مضامین ،مقالات اور کتب لکھی جانے لگیں ۔جن کے باعث قارئین پر غالب کی ذہنی اپج کی گرہیں کھلنے لگیں۔ غالب کی شخصیت ،فن اور افکار کی متنوع فکری جہات کھل کر سامنے آئی ہیں۔

علاوہ ازیں مختلف انداز میں شعراء و ادباء نے مرزا غالب کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف بھی کیا جو ہنوز جاری ہے ۔مرزا غالب ایسی ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں کہ سیکڑوں تحقیقی و تنقیدی کتب لکھی جانے کے باوجود ابھی ان کے افکار کے متعدد پہلو تشنہ ہیں اور شخصیت کے چند رموز ابھی کھلنا باقی ہیں ۔حقیقی معنوں میں مرزا غالب کے فن اور مقام و مرتبہ کو سمجھنے والے عشاق غالب میں ایک نام ڈاکٹر شکیل پتافی صاحب کا بھی ہے ۔مجموعی طور پر ڈاکٹر شکیل پتافی صاحب کی غالب شناسی کے حوالے سے دو کتب “پاکستان میں غالب شناسی”اور “عکس غالب”منظر عام پر آ چکی ہیں ۔آپ کی اول الذکر کتاب 2014ء میں شائع ہوئی جو دراصل ان کے پی۔ایچ ۔ڈی کا مقالہ ہے ۔جس میں انہوں نے مرزا غالب کی شخصیت و فن پر لکھی جانے والی جملہ تحاریر ،کتب ،مقالات،رسائل کے خاص نمبر ،شروحات و دیگر کا مفصل جائزہ پیش کیا ہے اور غالبیات کے فروغ کےلئے سرگرم اداروں کی بھی تفصیل بیان کی ہے ۔

ان کی یہ کتاب” پاکستانی غالبیات کی تاریخ “کی حیثیت رکھتی ہے ۔جب کے ان کی تازہ تصنیف “عکس غالب”ہے جو 2024ء کے رواں ماہ میں ملتان اینڈ ریڈرز ملتان کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔زیر نظر کتاب پندرہ مضامین کا مجموعہ ہے ۔جس میں انہوں نے غالب شناسی کے باب میں اہم اضافے کیے ہیں ۔زیر مطالعہ کتاب کا پہلا مضمون”پاکستان میں غالبیات کے پچھتر سال “ہے ۔ انہوں نے پاکستان میں غالبیات کی پچھتر سالہ تاریخ کو ایک مضمون میں سمونے کا جاں گسل کام کیا ہے ۔مذکورہ مضمون میں مختلف اصناف ادب ترتیب و تدوین ،تحقیق و تنقید،تراجم،شروحات اور متفرقات میں غالب شناسی کے حوالے سے کیے گئے کام کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے ۔مذکورہ مضمون کے اختتام پر چند اہم تجاویز بھی شامل ہیں ۔جن پر عمل پیرا ہو کر اول تو قومی سطح پر اردو زبان کی سربلندی ،مرزا غالب کے تشخص اور افکار کی توضیح اور اعتراف عظمت غالب کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ اور دوم ڈاکٹر موصوف سچے عاشق غالب ہیں جو مرزا غالب کے فن اور مقام سے بخوبی آگاہ ہیں ۔اس لیے پاکستان میں غالبیات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ڈاکٹر شکیل پتافی صاحب کی پیش کردہ چند منتخب تجاویز ملاحظہ فرمائیے:
1۔حکومتی سطح پر غالبیات کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جائے اس کے زیر اثر پاکستان کی ہر یونیورسٹی میں “غالب چیئر”قائم ہو ۔
2۔غالب میوزیم قائم کیا جائے،جس میں نوادرات غالب کی جمع آوری کے ساتھ ساتھ غالب لائبریری بھی قائم ہو۔
3۔تصانیف غالب کے علاقائی زبانوں میں تراجم کیے جائیں ۔
4۔انٹرنیٹ پر غالب ویب سائٹ تیار کی جائے۔
5۔مضامین و مقالات کا اشاریہ تیار کرایا جائے۔
6۔غالب دوستوں کےلئے غالب پر کمپیوٹرائزڈ مواد کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
7۔غالب کی نمائندہ غزلوں کی نئے انداز میں دھنیں تیار کرکے نئے گلوکاروں کے ذریعے ریکارڈنگ کرائی جائے ۔
8۔غالب ادبی ایوارڈ قائم کیا جائے ۔

مذکورہ بالا و دیگر تجاویز عہد حاضر میں شائقین غالب کی ضرورت کے عین مطابق ہیں۔زیر نظر کتاب میں شامل مضامین “غالب۔ ۔اہل قلم کا تخلیقی محرک”،کلام غالب کی تفہیم کا مسئلہ”،”اردو زبان و ادب اور مرزا غالب”،”غالب اور قضیہء برہان “،”غالب کے فارسی کلام کے منظوم اردو تراجم “،”غالب کا سائنسی شعور۔۔ایک جائزہ”،”مالک رام کا غالبیاتی سرمایہ”،”غالب کے مہمل اور مسروقہ اشعار”،”افکار غالب کا مستقبل “،”کلام غالب۔۔۔ہم طرح،تضمینیں اور خمسے”،”غالب شکنی میں تذکروں و معاصر اخبارات کا کردار”،”غالب پر پہلی سنجیدہ تنقید ۔یادگار غالب”،”تین غالب شکن”اور”دس غالب شناس”ڈاکٹر شکیل پتافی کی غالب شناسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔انہوں نے ناصرف فکر غالب کے ترجمان اور غالب شناسوں کی ادبی کاوشوں کا بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے ۔

بلکہ غالب شکنی کی روایت اور تین غالب شکن ادباء کی نگارشات کا مجموعی جائزہ بھی لیا ہے ۔زیر مطالعہ تصنیف مختلف پہلوؤں سے قارئین کو غالب شناسی کی روایت سے آگاہ کرتی ہے۔ہر سطح کا قاری اس سے یکساں مستفید ہو سکتا ہے۔مذکورہ کتاب کا اختصاص یہ ہے کہ ہر باب کے آخر میں حوالہ جات بھی درج کیے گئے ہیں ۔مزاج اور موضوع کے اعتبار سے مذکورہ کتاب غیر رسمی مقالے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں تنقید اور تحقیق کا حسین امتزاج ہے۔عہد حاضر میں غالبیاتی ادب کا یہ تقاضا ہے کہ غالب کی شخصیت ،فن اور افکار کو مترشح کرنے کے ساتھ ساتھ غالب شناسوں کی خدمات کو بھی منظر عام پر لایا جائے اور بلاشبہ ڈاکٹر شکیل پتافی صاحبِ نے یہ کٹھن کام احسن طریقے سے سرانجام دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں