ڈسکلیمر

107

جب کبھی عورت کی قربانیوں کا ذکر کیا جاٸے تو اسے “اینٹی مرد“ تحریر سمجھ لیا جاتا ہے اور عورت پہ بغاوت ،ناشکری اور خردماغی کا الزام لگا کر دینِ اسلام کے اصول و قوانین بتاٸے جاتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو یہ حق دیا ،وہ حق دیا وغیرہ.کس نے کہا کہ عورت اسلام کے دیے گٸے حق ماننے سے انکاری ہے۔بلکہ وہ وہی تو مانگ رہی ہے۔جیسے فریحہ نقوی نے کہا تھا کہ
یہ لڑائی ہے ان حقوق کی جو
دین دیتا ہے، تم نہیں دیتے

تو بات یہ ہے کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی عظمت اور قربانیوں کا تذکرہ مرد کو کم تر ثابت کرنا ہے، تو ایسا ہرگز نہیں!مرد ہو یا عورت ہر دوجنس کو زندگی میں اپنی اپنی جگہ بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔البتہ عورت کے حصے میں یہ سرمایہ نسبتاً زیادہ آیا ہے تو اس کا تذکرہ کر کے کتھارسس کرنے میں آخر ہرج کیا ہے۔ممکن ہے اس سے ایک کے دل کو چند لمحوں کی تسکین اور دوسرے کو احساس مل جائے.یوں بھی یہ تحریریں آپ کا کیا بگاڑ لیں گی نہ کچھ سدھار ہی سکیں گی۔
یہ تو بس جذبات کا کتھارسس ہے اپنے لیے اور ان سب کے لیے جن کے پاس اظہار کا ذریعہ یا حوصلہ نہیں۔اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ نٸی جنریشن کی لڑکیوں حقوق کے مطالبے کے لیے کچھ زیادہ ہی سرگرم ہیں اور پہلے تو ہماری ماٸیں ،بہنیں ،بڑی بوڑھیاں اور باقی عورتیں سب کچھ خوشی خوشی کرتی تھیں.تو آپ غلط ہیں!!پہلے عورت کے پاس اظہار کا حوصلہ نہیں تھا۔اس کے پاس آپشن ہی یہی تھا کہ زندگی بھر جُتے رہو اور آہ تک نہ بھرو۔آپ کو کیا لگتا ہے ان کے احساسات نہیں تھے یا وہ اپنی قدر نہیں چاہتی تھیں؟؟ کسے بری لگتی ہے آسانی؟؟؟ اگر مل رہی ہو تو.

ہاں اگر میسر نہ ہو اور بےشمار گھر اور باہر کے کاموں کا بوجھ اٹھا کے اور قربانیاں دے کر زندگی کے آخر میں یہ کہا جاٸے کہ انھوں نے خوشی خوشی اتنی مشقت کی تو یہ سچ نہیں۔ایسی صورت میں ان کے پاس کوٸی آپشن ہی نہیں تھا۔۔۔مل رہا ہوتا تو کیا وہ منع کرتیں؟؟؟اب سوال یہ ہے کہ آج کی عورت کو تو بہت سہولتیں میسر ہیں پھر اس ماتم کی ضرورت کیا ہے؟تو جناب جواب یہ ہے کہ یہ تناسب بہت محدود ہے۔ایک بڑا حصہ آج بھی بہت کچھ سہے جارہا ہے اور اپنے جاٸز حق کی بات نہیں کرپاتا۔ایسی ڈھیر مثالیں آنکھوں دیکھتی اور کانوں سنتی ہوں۔پھر ان تحریروں کے لیے مواد وہ تبصرے فراہم کرتے ہیں جن کی آج بھی کمی نہیں۔مثلاً چند ایک پیشِ خدمت ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم میں کاموں کی زیادتی کے ایک گِلے پر گھر کے سربراہ کا یہ کہنا:
پہلے زمانے میں تو لوگ خوشی خوشی بڑے ٹبر میں بیٹی دیتے تھے تاکہ سب ایک ایک نوالہ بھی بچائیں تو ہماری بیٹی کا پیٹ بھرجائے گا۔
(بھائی واہ! سبحان اللہ)

ایک صاحب کا ہماری کسی تحریر پہ تبصرہ:
”عورتوں کے لیے کچھ بھی کرلو یہ خوش نہیں رہ سکتیں“(اول تو یہ الزام ہی درست نہیں اور اگر آپ درست مانتے بھی ہیں تو حوصلہ دیکھیں خوش نہیں تب بھی آپ کے ساتھ رہے جارہی ہیں)”ہماری ماٸیں تو اتنے بچے پیدا کرتی تھیں، گھر کا سارا کام بھی بھینسیں بھی سنبھالتی تھیں وغیرہ وغیرہ“(ان سے کبھی یہ پوچھا ہی نہیں گیا کہ وہ مشکل میں تو نہیں؟ کیا آپ نے پوچھا؟)

ایک طویل فہرست ہے۔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں؟؟؟
چھوڑیے جی!بس مدعا یہ ہے کہ جب کبھی عورت کی بات ہو تو پریشان مت ہوں کہ آپ کے خلاف کوٸی تحریک چل پڑی ہےہرگز نہیں!
البتہ اظہار کے اس دیے سے حساس کی لو ضرور جلالیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں