ڈونلڈ ٹرمپ آزمائشوں کے بعد حکمرانی کا سفر اور دنیا پر ممکنہ اثرات

126

تحریر: سید عمر گردیزی
دنیا کے سیاسی افق پر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی شخصیت کے طور پر دوبارہ نمودار ہوئے ہیں، جن کی سیاست تضادات اور غیر متوقع فیصلوں کا محور رہی ہے۔ بڑی آزمائشوں، تنقیدوں اور داخلی و خارجی محاذوں پر کشمکش کے بعد ٹرمپ کی حکمرانی کا یہ نیا باب عالمی سیاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحریر میں ہم مشرق وسطیٰ، اسلامی دنیا، افغانستان، پاکستان اور عالمی معیشت پر ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملیوں اور ان کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے لیے وژن ہمیشہ متنازع رہا ہے۔

ان کی سابقہ پالیسیوں میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور ابراہام معاہدے جیسے اقدامات شامل ہیں، جنہوں نے خطے میں نئے اتحادوں کو جنم دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کی واپسی مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن کی راہ ہموار کرے گی یا مزید تنازعات کا پیش خیمہ بنے گی؟ غزہ کی جنگ بندی کے بعد حالات بظاہر سکون کی طرف جاتے نظر آتے ہیں، مگر یہ سکون عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ بدستور ایک دھماکہ خیز صورتحال پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ کی موجودگی میں ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام پر سخت گیر موقف اور سعودی عرب و اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔اسلامی ممالک میں ٹرمپ کی موجودگی ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ ان کی ماضی کی مسلم مخالف بیانات اور سفری پابندیاں ان کی مقبولیت کو کم کر چکی ہیں۔ تاہم، اب سوال یہ ہے کہ آیا وہ اسلامی دنیا کے ساتھ ایک مفاہمانہ رویہ اختیار کریں گے یا اپنی سابقہ پالیسیوں کو جاری رکھیں گے؟

انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں ان کے کردار کا انحصار ان ممالک کی داخلی سیاست اور ان کی امریکہ سے وابستگی پر ہوگا۔ پاکستان کے لیے، خاص طور پر، ٹرمپ کی پالیسیوں میں ایک نیا رجیم چینج آپریشن کے خدشات موجود ہیں۔ یہ خدشہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا پاکستان کی موجودہ حکومت امریکہ کے مفادات کے مطابق چلتی ہے یا نہیں۔افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے خطے کی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ امریکہ کا انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی طالبان حکومت کے ساتھ کس طرح کے تعلقات استوار کرے گی.

یہ دیکھنا باقی ہے۔کیا ٹرمپ ایک بار پھر افغانستان میں مداخلت کریں گے یا طالبان حکومت کو تسلیم کرکے خطے میں استحکام لانے کی کوشش کریں گے؟ یہ سوال نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور ایران کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان ممالک کی سیکیورٹی اور معیشت افغان صورتحال سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔پاکستان کی سیاست پر ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی بگڑتی صورتحال امریکہ کی دلچسپی کا مرکز رہیں گے۔

ایک نیا رجیم چینج آپریشن، جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا، ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر پاکستان کی حکومت امریکی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے میں ناکام رہی۔ڈالر کی اہمیت اور پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی معیشت، جو پہلے ہی غیر ملکی امداد اور ڈالر پر انحصار کرتی ہے، ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ڈالر کی اہمیت عالمی معیشت میں ہمیشہ نمایاں رہی ہے، اور ٹرمپ کی پالیسیوں نے ماضی میں اس کی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔

تاہم، موجودہ حالات میں، جہاں چین اور دیگر ممالک ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرمپ کی واپسی عالمی معیشت میں ایک نیا منظرنامہ پیدا کر سکتی ہے۔چین کے ساتھ تجارتی جنگ، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات، اور روس کے ساتھ محاذ آرائی وہ عوامل ہیں جو عالمی معیشت کو ایک نئے دوراہے پر لے جا سکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمرانی کا یہ نیا باب دنیا کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات سے لے کر افغانستان میں استحکام، پاکستان کی سیاست، اور عالمی معیشت تک، ہر پہلو میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات گہرے ہوں گے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ان کی واپسی دنیا کو امن کی طرف لے جائے گی یا ایک نئے تصادم کی طرف، لیکن یہ واضح ہے کہ ان کی شخصیت اور پالیسیوں نے ہمیشہ دنیا کو حیرت میں ڈالا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ حیرت امن کا پیش خیمہ بنتی ہے یا تنازعات کا شکار ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں