کامیاب زندگی” احساس ذمہ داری، محنت اور جدوجہد مانگتی ہے

60

“خامہ صبح”، اُسامہ امتیاز عباسی

“کامیاب زندگی” احساس ذمہ داری، محنت اور جدوجہد مانگتی ہے. اِس دنیا میں ہر انسان اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے، انسان اِس کامیابی کو محنت کے پیچھے تلاش کررہا ہے کوئی اِس کامیابی کو دولت میں تلاش کررہا ہے اور کوئی کسی ایک شعبہ سے منسلک ہوکر ایک سمت میں گامزن ہوجاتا ہے اور دماغ میں ایک ہی خیال ہوتا ہے کہ گزرتے لمحات اِسے کامیابی کی طرح لے جارہے ہیں۔ میرے خیال میں اِس مقابلے کے دور میں جہاں لوگ کسی بھی شعبہ زندگی سے منسلک ہیں۔ وہاں کامیابی واقعی محنت اور جدوجہد ضرور مانگتی ہے لیکن محنت کے ساتھ ساتھ سب اہم راز “ذمہ داری” ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ ہر طرح کا پیشہ نوکری، کاروبار یا سیاست وہاں صرف وہی شخص کامیاب ہے جو اپنے کام یا اپنے متعلقہ شعبہ کے حوالے سے ذمہ دار ہے وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے۔

انسان میں احساس ذمہ داری کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ خوبی انسان میں صرف گھر کے باہر معاملات زندگی تک نہیں ہونی چاہئے۔ بلکل جیسے انسان گھر کہ باہر اپنے معاشی، سماجی یا سیاسی معاملات کو ذمہ داری سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ویسے ہی گھر میں جہاں چند افراد بھی اُس کی ذمہ داری ہوتے ہیں، وہاں بھی بلکل ایسی طرح کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً لوگ کامیابی کو آسان اور مختصر سے مختصر سفر یا ذرائع سے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ کامیابی اور آسان اِن دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ اِس معاشرے میں کامیابی کا تعلق صرف جدوجہد، محنت اور ذمہ داری سے ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان میں کوئی ایسی صلاحیت ضرور رکھی ہوتی ہے جیسے استعمال کرتے ہوئے انسان بڑے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ یہ صلاحیت بھی محنت مانگتی ہے لیکن اگر انسان مناسب وقت میں اِس صلاحیت کو پہچان لے تو تھوڑی محنت سے زیادہ کام کئے جاسکتے ہیں۔ ایک شخص جو محنت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اِس سفر سے قبل اُس نے اپنی صحیح سمت کا انتخاب نہیں کیا، اُس کا یہ سفر بلکل بےمعنی ہے۔ بلکہ مخالف سمت سفر آپکو منزل سے دور ہی لے جائے گا۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں لیکن اُن کی سمت درست نہیں ہوتی۔ جب درست سمت نہیں ہوگی تمام محنت ضائع ہے۔

مثلاً کوئی شخص ایک جگہ کھڑا ہے۔ اُس نے وہاں سے مشرق کی جانب جانا ہے۔ لیکن وہ مغرب کی جانب نکل پڑا۔ مغرب کی جانب اُٹھتا ہر قدم اِس شخص کو اپنی منزل(مشرق) سے دور کرتا جائے گا۔ دوران اِس سفر محنت بھی لگ رہی ہے۔ وقت بھی لگ رہا ہے لیکن سب ضائع ہے۔ بلکل ایسی طرح کامیابی بھی محنت، جدوجہد، ذمہ داری کے ساتھ ساتھ درست سمت کا تعین بھی مانگتی ہے۔ انسان کی کسی بھی شعبہ میں کامیابی محنت کی مرہون منت ہے۔ محنت اور مصروفیت دونوں ایک دوسرے سے جوڑے ضرور ہیں۔ لیکن توجہ طلب بات یہ ہے ہر وہ شخص جو محنت کررہا ہوتا ہے بظاہر وہ مصروف دیکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ حقیقتاً وہ مصروف ہی ہوتا ہے۔ لیکن ہر وہ شخص جو مصروف ہے ضروری نہیں وہ محنت کررہا ہو۔ انسان کی مصروفیت بامقصد ہونی چاہئے۔ جہاں وہ اپنی جسمانی قوتیں بغیر کسی مقصد یا منزل کے تعین کئے بغیر صرف کررہا ہے وہاں کسی نتیجے کی اُمید لگانا احمقانہ فعل ہوگا۔

میرے خیال سے جب انسان اپنی زندگی میں کوئی منزل یا مقصد کا تعین کرلیتا ہے۔ اُس منزل کے حصول کیلئے انسان جو محنت اور جدوجہد کررہا ہوتا ہے اِس دوران اِسکا دل مطمئن رہتا ہے۔ وہ اپنی اِس بامقصد جدوجہد سے مکمل مطمئن رہتا کیونکہ مستقبل میں اُسے وہ منزل نظر آرہی ہوتی ہے جس کا تصور یا خواب اُس نے دیکھا ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے۔ جن کا رجحان تعلیم کی طرف نہیں تھا یا اُنھیں اُس طرف توجہ نہیں دلائی گئی۔ جس کے خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔ جن میں سب سے اہم مسئلہ اِن نوجوانوں میں منشیات کا رجحان دیگر کی نسبت زیادہ ہے۔ معاشرے میں بہت سی مثالیں ایسے لوگوں کی بھی ہیں جو کم پڑھ لکھے تھے لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ کامیاب ہیں۔ اِس کی وجہ یہ تھی اِن لوگوں میں محنت اور احساس ذمہ داری تھی۔ یہ خوبی اِنھیں عملی زندگی میں بہت آگے لے گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں