کربلا کی جڑیں بدر میں پیوست ہیں

91

نقطہ نظر/سید سلیم گردیزی
کربلا کی جڑیں بدر میں پیوست ہیں- بدر کی صف آرائی میں جو جس طرف تھا، کربلا میں بھی وہ اسی طرف ہے- فریقین کے مقاصد بدلے نہ کردار. بدر میں قافلہ حق کی قیادت نانا حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ میں ہے تو کربلا میں نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ کے ہاتھ میں. بدر میں ابوجہل کے قتل کے بعد لشکر باطل کی قیادت ابوسفیان کے ہاتھ آجاتی ہے تو کربلا میں ان کے پوتے یزید لعین کے ہاتھ میں. بدر میں جو ستر کفار واصل جہنم ہوۓ ان میں یزید کے آبا و اجداد میں سے درجن بھر نامی گرامی سردار شامل تھے جن کی اکثریت حسین کے والد حضرت علی المرتضی کی شمشیر براں کا شکار ہوئی.

بدر کے تسلسل میں احد اور احزاب کے معرکے بھی انہی فریقوں کے مابین ہوۓ.یہ محض دو خاندانوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دو متحارب عقائد، دو مختلف نظریات اور دو جداگانہ تصورات حیات کے مابین جاری ازلی رزم حق و باطل کے مراحل تھے. ایک طرف خالص حق تھا تو دوسری جانب خالص باطل.پھر یوں ہوا کہ جب فتح مکہ کی صورت میں اول الذکر فریق کو فتح مبین حاصل ہو گئی تو فریق ثانی نے فریق اول یعنی اسلام کی صفوں میں گھس کر اپنی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھا. جب تک کبار صحابہ کرام موجود رہے اور اسلام کا نظام خلافت مستحکم رہا، ان کی سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں.

خلیفہ ثالث کی فطری نرم مزاجی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوۓ یہ گروہ اسلامی ریاست کے اہم انتظامی عہدوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گیا جو بالآخر خلیفہ ثالث کی شہادت کا بھی موجب بنا. اب یہ گروہ اس قدر طاقتور ہو گیا تھا کہ خلیفہ چہارم کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں نکل آیا اور بالآخر اسلام کے نظام خلافت کو منہدم کر کے اپنی خاندانی بادشاہت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا.ضرت علی نے اسلام کے نظام خلافت راشدہ کو بچانے کے لیے جنگ لڑی اور شہادت پائی اور حضرت امام حسین نے اسلامی نظام خلافت کے احیاء کی جدوجہد میں اپنے خاندان اور اصحاب سمیت جام شہادت نوش کیا.

ان کے مد مقابل گروہ نے بدر میں اپنے نظام کفروطاغوت کے تحفظ کے لیے اور کربلا میں اپنی غاصبانہ خاندانی بادشاہت کی بقا کے جنگ لڑی.واقعہ کربلا کو شیعہ سنی تناظر میں دیکھنے کے بجاۓ اسے حق و باطل کی ازلی و ابدی کشمکش کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بقول اقبال رح

موسیٰؑ و فرعون و شبیرؓ و یزید
ایں دو قوّت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوّتِ شبیری است
باطِل آخر داغِ حسرت میری است

موسیٰؑ اور فرعون، شبیرؓ اور یزید یہ دو قوّتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں۔ اِن میں سے حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت امام حسین ؓ حق کے علمدار تھے۔ فرعون اور یزید نے باطِل کی پاسداری کی۔ دونوں قوّتیں ابتداء سے چلی آتی ہیں اور اِن کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے۔(تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے) کہ حق قوّتِ شبیری سے زندہ رہتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت حسینؓ جیسے بزرگ اس کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ باطِل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے(حق کا بول بالا قوّتِ خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطِل قوّتوں کا انجام ذِلّت و خواری ہے)۔

رموزِ بیخودی

اور
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں