کردار کے غازی، سردار غلام نبی خلیق عباسی

70

تحریر ۔۔۔سید خالد بخاری

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

جنڈالہ ضلع پونچھ آزاد کشمیر کے اک سپوت آنریری لفٹیننٹ سردار غلام نبی خلیق عباسی جو اب ہم میں نہیں۔ موصوف کو زیادہ تر لوگ صوبیدار غلام نبی خلیق عباسی ایک آرمی آفیسر اور آرمی میں ان کی ناقابل یقین حد تک بہترین کارکردگی، میڈلز اور انعامات حاصل کرنے کی وجہ سے جانتے ہیں۔ یہ بات 100 فیصد درست ہے کہ موصوف واقعی ایک قابل آرمی آفیسر تھے جن کی شہرت نہ صرف اندرون ملک بلکہ پاکستانی آرمی کی طرف سے مختلف بیرون ملک اور اقوام متحدہ کے مختلف مشنز کی وجہ تھی اور ہے مگر راقم الحروف جناب سردار غلام نبی عباسی کو مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔

موصوف کی اصل قابلیت ان کے تاریخ اور تاریخ کی جزیات پر عبور ٹھا۔ موصوف مطالعہ کے انتہائی رسیا تھے اور اپنی رہائش گاہ پر ایک مکمل لائبریری بھی بنا رکھی تھی۔ موصوف نے کئی بار ان کی لائبریری کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ استفادہ کا شرف بھی حاصل رہا۔ موصوف کا آرمی میں سروس کے دور سے تا دم مرگ روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے مطالعہ کا باقاعدہ وقت مقرر تھا۔ ان کی لائبریری میں سب سے زیادہ کتب اسلام اور تاریخ پر تھیں جن کا وہ نہ صرف مطالعہ باقاعدگی سے کرتے تھے بلکہ مختلف کتب کا موازنہ اور تحقیق بھی کرتے تھے یوں ان کے بارے میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ محقق بھی تھے اور لکیر کے فقیر نہ تھے۔

چونکہ راقم کو بھی تاریخ سے خصوصی دلچسپی تھی اور ہے اس لیے اکثر سردار غلام نبی خلیق عباسی کے ساتھ مباحثہ بھی ہوا کرتا تھا۔ وہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ بچے “تاریخ رٹی رٹائی کہانیاں پڑھنے کا نام نہیں بلکہ مختلف واقعات کی کڑیاں جوڑ کر اصل حقائق تک پہنچنا اصل تاریخ ہے” دوسری بات جو اکثر وہ راقم سے کہا کرتے تھے “تاریخ کا نشتر بہت تیز ہوتا ہے اس کی کاٹ سے بچنا ممکن نہیں” تاریخ ایک ایسا آلہ ہے جو صدیوں بعد بھی کسی اصل واقعہ کی جزیات تک محفوظ رکھتی ہے۔ ایک بار راقم نے موصوف سے سوال کیا کہ مختلف تاریخوں میں تضاد کیوں ہے؟

موصوف معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے راقم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوئے “عزیزم تاریخ میں تضاد نہیں بلکہ ہمارے سمجھنے میں تضاد ہے” راقم نے پوچھا وہ کیسے تو موصوف مسکرا کر بولے “تاریخیں دو قسم کی ہیں ایک تو وہ جو واقعات سے متاثر ہو کر جانبدارانہ انداز میں لکھی جاتی ہیں اور یہ واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے فوراً بعد لکھی جاتی ہیں دوسری قسم تاریخ کی وہ ہے جو محققانہ اور انتہائی محتاط انداز میں واقعہ کی جزیات، معروضی اور زمینی حقائق اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے برس ہا برس کی عرق ریزی کے بعد لکھی جاتی ہیں۔” اول الذکر تاریخ کو متنازعہ اور موخر الذکر تاریخ کو حقیقی تاریخ کہتے ہیں۔

دونوں اقسام ہائے تواریخ کا مطالعہ اگر باریک بینی سے کیا جائے تو اصل تاریخی حقائق کو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ تاریخ قرب نوح، تاریخ قبل مسیح اور بعد مسیح، تاریخ اسلام، تاریخ برصغیر، تاریخ تاریک براعظم (یورپ) تاریخ تاتاری، تاریخ افغانان اور تاریخ قبائل کے بارے میں وہ ایسے ایسے حقائق سے آگاہ اور آشنا تھے کہ ہم جیسوں کی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ وہ اکثر نوجوانوں کی محفل میں تاریخ سکھانے کی کوشش کیا کرتے تھے مگر بدقسمتی سے ہم نوجوان ان کے تاریخی علم سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ۔ موصوف کے بارے میں ایک بات جو شاید انتہائی کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ علم الہندسہ یعنی ریاضی کے انتہائی ماہر تھے۔

ان کے علم الہندسہ کے ماہر ہونے کا راقم کو اس وقت معلوم ہوا جب ریاضی کے ایک معروف پروفیسر کی ان کے ساتھ گفتگو سنی اس کے بعد بار ہا موصوف سے علم الہندسہ یعنی ریاضی پر بھی بات ہوا کرتی تھی۔ ایک اور خاصیت جسے علاقہ کا بچہ بچہ جانتا تھا وہ ان کی فیاضی تھی۔ ضرورت مندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قرض دینا اور مدد کرنا موصوف کا خاص وطیرہ تھا یہ الگ بات ہے کہ موصوف کو اکثر قرض واپس نہیں ملا کرتے تھے۔ موصوف ایک آٹو موبائل انجینئر تھے اور یہ ان کا خاص ہنر بھی تھا مگر فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اسے خیرباد کہہ دیا تھا۔

موصوف کئی ممالک میں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے چکے تھے اس لیے مختلف زبانوں پر بھی انہیں عبور حاصل تھا۔ اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی پر انہیں خاص عبور تھا اور ان زبانوں کی تاریخ اور ادب کی سینکڑوں کتب ان کی لائبریری میں اور ان کے زیر مطالعہ ہوا کرتی تھیں۔ ایک بار راقم نے موصوف سے سوال کیا کہ آپ جن جن ممالک میں رہے ان سے کیا کیا چیزیں لائے؟ تو موصوف نے بتایا کہ میری سب سے بڑی کمزوری کتابیں ہیں اس لیے جس ملک میں بھی گیا وہ سے سب سے زیادہ میں کتابیں ہی لایا ان کے اس جواب کی گواہی ان کی لائبریری تھی جو کہ اب شاید محفوظ نہ ہو۔ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت تھے مشورہ ہمیشہ درست اور بے لوث دیا کرتے تھے۔

منصف مزاج انسان تھے اور بڑے سے بڑے مسئلہ کا حل گھنٹوں میں نکال لیا کرتے تھے۔ اس کے علاؤہ قانون اور آئین پر انہیں خاص دسترس تھی۔ کئی بار انہیں قانونی معاملات میں قانون دان حضرات سے مباحثہ کرتے ہوئے دیکھا گیا اور قانون دان حضرات ان کی اس خوبی کے معترف بھی تھے۔ آئین میں جب بھی کوئی ترمیم ہوتی موصوف ترمیم کی کاپی حاصل کر کے مطالعہ کرتے اور پھر کتب آئیں میں لگا دیا کرتے تھے۔ موصوف صوم و صلوٰۃ کے انتہائی پابند تھے اور مساجد میں صف اول کے نمازیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ موصوف ہمدرد، ملنسار، غمگسار، تعاون کرنے والے اور معاشرے کی بہتری کی تگ و دو کرنے والی شخصیت تھے۔

موصوف کی اولاد میں سے سردار محمد علی عباسی جو بیرون ملک مقیم ہیں جو کام کہ ساتھ صحافت کے شعبہ سے بھی منسلک ہیں اور والد کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک شکوہ جو راقم کو اپنے معاشرہ سے ہے کہ ہم سردار غلام نبی خلیق عباسی کی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے وہ 13اگست 2017 کو طویل علالت کہ بعد اپنے رب کہ حضور پیش ھو گے اللہ پاک آنریری لیفٹنینٹ سردار غلام نبی خلیق عباسی صاب کے درجات بلند فرمائے آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں