کشمیر، پانی اور انسانی حقوق: پاکستان کی آئندہ حکمتِ عملی

65

تحریر:ذیشان گردیزی
“آخری جنگ ہمارے خطے میں پانی پر ہوگی اور میدانِ جنگ کشمیر ہوگا!”ڈاکٹر اسرار احمد کی یہ پیش گوئی آج کے عالمی منظرنامے میں نہایت واضح اور تلخ حقیقت کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ کشمیر اب محض ایک زمینی تنازعہ نہیں رہا بلکہ پانی جیسے قیمتی وسیلے اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت، زراعت اور توانائی کا انحصار ان دریاؤں پر ہے جو کشمیر سے جنم لیتے ہیں۔بھارت کی طرف سے ان آبی وسائل پر کنٹرول کی کوششیں محض حالیہ نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں۔ اس پس منظر کو سمجھنا آج کی حکمت عملی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کوششیں ایک تاریخی جائزہ
1. 1948ء: پہلی بار پانی کی بندش
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، بھارت نے اپریل 1948ء میں دریائے سندھ کے اہم نہری نظام مثلاً مادھوپور اور فیروزپور ہیڈ ورکس نے پانی کی سپلائی بند کر دی۔ یہ پہلا موقع تھا جب بھارت نے آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کیا، جس نے پاکستان کو شدید زرعی بحران سے دوچار کر دیا۔ یہی واقعہ بالآخر 1960ء میں سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے انعقاد کا سبب بنا.
2. سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں
اگرچہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے، مگر بھارت نے وقتاً فوقتاً اس معاہدے کی روح کو پامال کرتے ہوئے کئی منصوبے شروع کیے. بگلیہار ڈیم (چناب پر) 1999ء میں بھارت نے اس ڈیم کی تعمیر شروع کی، جس پر پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت میں اعتراضات اٹھائے.

کشن گنگا ڈیم (نیلم دریا پر)
بھارت نے دریائے نیلم (کشن گنگا) کا رخ موڑ کر جہلم بیسن میں مداخلت کی، جس پر بھی عالمی سطح پر تنازع اٹھا
رتلے، پکل دل اور ساولکوٹ منصوبے بھارت ان منصوبوں کے ذریعے چناب اور دیگر دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے، جو سندھ طاس معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔

3. حالیہ دھمکیاں اور بیانات
بھارتی قیادت نے متعدد بار اعلانیہ طور پر پانی روکنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ خاص طور پر پلوامہ واقعے کے بعد، 2019ء میں بھارت نے کہا کہ وہ “پاکستان جانے والے پانی کو روکنے” کے لیے منصوبے بنا رہا ہے۔ یہ بیان عالمی قوانین اور معاہدات کی کھلی خلاف ورزی تھا۔یہ تمام اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت آبی وسائل کو سیاسی دباؤ اور جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور یہ طرزِ عمل خطے میں مستقل کشیدگی اور بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے ناگزیر حکمتِ عملی
پاکستان کو انسانی حقوق کی پامالی اور آبی جارحیت دونوں نکات کو یکجا کر کے عالمی سطح پر منظم اور مسلسل مہم چلانی ہوگی۔ عالمی عدالت انصاف، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق فورمز میں مؤثر اور قانونی کارروائیاں کی جائیں۔
۲۔ آبی تحفظ اور وسائل کے مؤثر انتظام میں انقلابی اصلاحات
نئے ڈیموں کی تعمیر، زرعی شعبے میں واٹر مینجمنٹ ٹیکنالوجیز کا نفاذ، اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کی جائے۔
۳. قومی آبی ایمرجنسی کا نفاذ اور شعور بیداری
ملک گیر سطح پر پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے “قومی آبی ایمرجنسی” کا نفاذ کیا جائے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور مذہبی پلیٹ فارمز کے ذریعے اس مسئلے کو ہر شہری کی ترجیح بنایا جائے۔
۴. کشمیر کو انسانی اور آبی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا
کشمیر کی جدوجہد آزادی کو اب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پانی کے وسائل پر غیرقانونی قبضے کے حوالے سے پیش کرنا ضروری ہے تاکہ عالمی برادری اس مسئلے کی شدت کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔
۵. بین الاقوامی میڈیا اور رائے عامہ پر بھرپور اثراندازی
تحقیقی رپورٹس، شواہد اور متاثرین کی داستانوں کو عالمی میڈیا میں پیش کر کے بھارت کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کیا جائے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی پیش گوئی آج پوری شدت سے سچ ثابت ہو رہی ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور پانی پر قبضہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم بروقت دانشمندی اور جرأت سے آگے بڑھتے ہیں یا تاریخ کے مجرم بن جاتے ہیں۔
پانی زندگی ہے اور آج یہ زندگی کشمیر کے مقبوضہ میدانوں میں قید ہے۔
اب وقت ہے بیداری، عمل اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں